95

روہینگیا مسلمانوں کے قتل عام پر سٹاک ہوم سویڈن میں مظاہرہ۔

( اردو نامہ: رپورٹر سائیں رحمت علی)۔
گزشتہ روز سویڈش پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر مذمتی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کا انعقاد روہینگین ایسوسی ایشن سویڈن نے کیا تھا۔ پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، عراق، صومالیہ، مصر اور سویڈن کے باشندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس مظاہرے میں موجود تمام حاضرین اس قتل عام پر بہت افسردہ تھے۔ سویڈن میں روہنگیا ایسوسی ایشن کے صدر عبدالکلام نے اسلامی ملکوں سے شکوہ کیا کہ کسی ملک نے ابھی تک روہنگیا قوم کیلئے ٹھیک طرح سے آواز نہیں اٹھائی ہے اور دنیا میں ہم بے یارومددگار بھٹک رہے ہیں۔

پاکستانیوں کی طرف سے عارف کسانہ نے اپنا نقطہء نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مسلمانوں کے قتل عام پر بہت دکھ ہے اور پاکستانی خیبر سے کراچی تک اور باقی دنیا میں نجی طور پے مظاہرے کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اس بات کا صدمہ ہے کہ مسلم حکومتیں ابھی تک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ کسی بھی مسلمان ملک نے ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی کسی مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔

ترکی کے لوگ بھی نہایت جوش جذبہ کے ساتھ موجود تھے۔ ایسوس ایشن کے صدر عبدالکلام نے اردو نامہ کے خصوصی نمائیندہ سائیں رحمت علی کو بتایا کہ 30 اور 40 فیملیز ، جن کا تعلق روہینگیا سے ہے، سٹاک ہوم میں رہتی ہیں۔ سوالوں کے جواب میں عبدالکلام نے بتایا کہ ابھی تک موصول اطلاعات کے مطابق 4000 سے زیادہ لوگ قتل ہو چکے ہیں۔ مزید بتایا کہ 2 لاکھ انسانی جانیں دو دریاوں کے درمیان مقید ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اور 2 لاکھ انسان اپنی جانیں بچانے کی خاطر جنگلوں کی طرف کوچ کر چکے ہیں۔ 

بالفاظ دیگر 4 لاکھ انسان ایسی حالت میں جو کسی بھی وقت موت کا شکار ہو سکتے ہںں۔ عبدالکلام نے اپنی تقریر میں اب تک ہونے والے مظالم سے لوگوں کو آگاہ کیا اور سویڈش حکومت سے اپیل کی کہ وہ قتل عام کو روکنے کے لئے فوری تدبیر کریں۔ مظاھرے میں موجود ایک خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ میرے بوڑھے ماں باپ 2 ماہ سے لا پتہ ہیں۔ کوشش کے باوجود ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ مجھے نہیں پتہ کہ وہ زندہ ہیں یا کس حال میں ہیں۔ عبدالکلام نے حاضرین سے عطیات کی اپیل کی۔ حاضرین کی تعداد سینکڑوں میں تھی، جو مختلف اسلامی ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔

پاکستانی کمیونٹی کے نامور ادیب ڈاکٹر عارف کسانہ، انٹرنیشنل امیگرنٹ آرگنائیزیشن کے صدر جعفر مغل، چودھری ظفر، عامر ندیم سید، ابوبکر بٹ، ابرار اعوان، سردار محمد علی لاشاری، آصف بٹ، راجہ اعظم، وقار احمد، ملک شہزاد، اردونامہ کے اڈیٹر طارق محمود، نوجوان شاعر شکیل شکو اور سینکڑوں پاکستانیوں نے اس مظاہرے میں شرکت کی۔ روہینگین ایسوسی ایشن کے صدر عبدالکلام نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مظاہرہ برخواست کرنے کا اعلان کیا۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں