109

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان جس نے 14 اگست 1947 کو جنم لیا اب یہ 70 سال کا ہو چکا ہے۔ اس نوزائیدہ مملکت نے بہت کم عرصے میں بہت جلد ترقی کے زینے طے کئے ۔خاص طور پر اگر اسلامی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو یہ واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے۔ ہم بہت سے میدانوں میں بہت سے ممالک سے آگے ہیں۔ مگر بہت سے میدانوں میں پیچھے بھی ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کبھی کئی ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا تھا۔ 

آج تنزلی کی جانب گامزن ہے ۔ ہماری تعلیمی ، سائنسی ، اخلاقی اور سیاسی حالت خطے کے تمام ممالک سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیں کہ کس چیز نے انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ وہاں تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اخلاقیات ہیں قانون کی پاسداری ہے اپنے حقوق سے آگاہی اور دوسروں کے حقوق کا خیال ہے وہ جو کچھ اچھے کام کرتے ہیں وہ سب اسلام نے ہمیں بتائے ہیں مگر ان پر عمل پیرا وہ لوگ ہیں جو مسلمان نہیں ہیں مگر ہم مسلمان ہو کر بھی ان سب تعلیمات سے دور ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے ۔ ہمارے ملک میں کوئی عملی مسلمان ہو نہ ہو مگر زبانی مسلمان ضرور ہوگا خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے لئے ہر حد پار کرنے کے لئے تیار حتٰی کہ کافر کا لقب دینے سے بھی گریز نہیں کریگا۔ ایسا کیوں ہے۔؟ ہم اتنے شدت پسند کیوں ہیں؟

ہم کہیں اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے پہ لوگوں کو صرف معاف نہیں بلکہ انہیں سر پہ بٹھانے والے اور انہیں سونے کے تاج پہنانے والے ہیں مگر دوسری طرف ایک سائیکل چور، موبائل چور یا چھوٹے چور کو مار مار کر لہو لہان کردینے والے کیوں ہیں ؟ ہم میں یہ دوہرا معیار کیوں ہے۔ ؟ ہمارے ملک میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ کسی بزرگ کی بے عزتی کرتے ، سڑکوں پہ لڑائی جھگڑا کرتے کیوں نظر آتے ہیں۔ ؟ ہمیں جو کچھ منبروں سے بتایا جاتا ہے ، سنایا جاتا ہے یا کسی اور طریقے سے ہمیں بیان کیا جاتا ہے اس پر یقین کر کے ایک نظریہ کیوں بنا لیا جاتا ہے۔؟ یہ کچھ سوالات ہیں اور اگر سوالات ہیں تو ان کے جوابات بھی ہوں گے۔

آج ذرا ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری ناچیز رائے کے مطابق پہلا سوال کہ ہم اسلام کی تعلیمات سے دور کیوں ہیں کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اسلام کی تعلیمات بالکل اسی طرح سے دی گئی ہیں جیسے گھر میں بچوں کو اچھے کام کرنے کا کہا جاتا ہے کر کے دکھایا نہیں جاتا نماز کا حکم دیا تو جاتا ہے نماز پڑھ کے دکھائی نہیں جاتی سچ بولنے کا کہا تو جاتا ہے مگر دروازہ پہ کوئی آجائے تو اسی بچے سے کہلوایا جاتا ہے کہ کہہ دو ابو گھر پہ نہیں ہیں۔ صفائی کی اہمیت تو بتائی جاتی ہے چیزوں کو صاف کرکے نہیں دکھایا جاتا۔ ہمیں تعلیم تو دی گئی ہے تربیت نہیں کی گئی۔ ہمیں تعلیم دینے والے زیادہ تر بے عمل عالم رہے ہیں۔ ہمارے علماء حضرات سادگی، قناعت اور دنیا داری سے دور رہنے کے بڑے بڑے لیکچر دیتے تو نظر آتے ہیں مگر آپ ان کا لائف اسٹائل دیکھیں ، ان کی بڑی بڑی گاڑیاں اور بنگلے دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یاد رکھیں تعلیم کاسارا دارومدار کردار پر منحصر ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیارے نبی ﷺ نے حیات مبارکہ کے پہلے چالیس سال صادق و امین بن کر دکھایا۔ صداقت و امانت کی تعلیم بعد میں فرمائی۔

دوسرا سوال کہ ہم شدت پسند کیوں ہیں تو یہاں بھی مثال اسی بچے کی آجاتی ہے کہ جسے ہر وقت ٹی و ی کے آگے بٹھا کے ایکشن فلمیں ، یا کارٹون دکھائے جائیں یا اس کے سامنے گھر کے افراد لڑتے نظر آئیں تو بچہ کہاں سے امن اور پیار سیکھے گا۔ وہ ہمیشہ وہی سیکھے گا جو اسے روزمرہ کی زندگی میں نظر آئے گا۔ ہمارے علماء حضرات خود ایک دوسرے پہ لعن طعن کرتے رہیں گے تو ان کے مقتدی بھی یہی کچھ کرنا ثواب سمجھیں گے۔ سیاست کے لئے ایک ہونے والے علماء اسلام کے لئے کب ایک ہوں گے اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں۔ جس دن ہوگئے اس دن یہ چیز بھی ختم ہو جائے گی۔ ٹی وی پر آکر اتحاد بین المسلمین کی باتیں کرنے والے اپنے اپنے منبروں سے بھی کیا اسی اتحاد کی بات کرتے نظر آتے ہیں؟ ٹی وی پر، ایوانوں میںایک ساتھ بیٹھنے والے علماء آج تک ایسی عبادت گاہ نہ بنا سکے جہاں سب مسالک ایک ساتھ نماز ادا کرسکیں۔ سعادت حسن منٹو نے کیا خوب کہا تھا۔

مسجد میں بریلوی، دیوبندی، شیعہ، سنی، وہابی اور سینما میں سب ایک ۔

جب ہم سینما، اسکول، کالجز، یونیورسٹیز، کھیل کے میدانوں اور تمام معاشرتی جگہوں پر ایک ہوسکتے ہیں تو مساجد میں کیوں نہیں ہوسکتے؟

تیسرا سوال کہ ہم میں دہرا معیار کیوں ہے؟ کیوں ہم کوئی بات یا چیز اپنے لئے پسند اور دوسرے کے لئے ناپسند کرتے ہیں؟ اس کی وجہ تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔ ہماری تربیت ہی ایک منافق معاشرے میں ہوتی ہے۔ ہمیں گھر سے ہی منافقت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہر ماں باپ کو اپنا بچہ شریف اور پڑوسی کا شیطان نظر آتا ہے۔ چاہے سچائی اس کے الٹ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اپنے بچوں کو بچپن سے ہی یہ بات سکھا دیتے ہیں کہ محلہ، گلی، یا سڑک پر گندگی پھیلانا آپ کا حق اور اسے صاف رکھنا دوسرے کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور وجہ ہمارے اندر کا خوف بھی ہے ہم طاقتور سے خوفزدہ اور کمزور پہ ظالم ہیں۔ کیوں کہ ہماری تربیت ہی ایسے ماحول میں ہوئی ہے جہاں طاقتور کو سلام ہے اور کمزور پہ ظلم ہے ۔بچہ اپنے والد کو اگر ایک کمزور پر گرجتے برستے اور ایک طاقتور کے سامنے سر جھکائے دیکھے گا تو وہ بھی ساری زندگی اسی اصول کو قانون مانتے ہوئے گذاردے گا۔ یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ ہم اگر کسی سے خوفزدہ ہوتے ہیں تو کہیں نہ کہیں ہم نے بھی کسی کو خوف میں مبتلا کیا ہوتا ہے۔ وہ گھر، محلّہ ،دفتر یا کوئی بھی جگہ ہوسکتی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ جو شخص بھی اللہ کے بندوں پر سے اپنا خوف ختم کردیتا ہے تو اللہ اسے بھی دنیا سے بے خوف کردیتا ہے۔

چوتھا سوال کہ ہم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود باشعور کیوں نہیں ہیں۔ ؟ اس کی وجہ بھی تربیت کی کمی ہے ہمارے تعلیمی ادارے چاہے وہ کوئی بھی ہوں ہمیں انسانیت سے پیار نہیں سکھاتے۔ اخلاقیات نہیں سکھائے جاتے۔ قانون نہ تو پڑھایا جاتا ہے نہ اس کی پیروی سکھائی جاتی ہے۔ ملک کی واضح اکثریت اپنے حقوق اور ملک کے قوانین سے نا آشنا ہے۔ پڑھانے میں اور سکھانے میں بہت فرق ہے۔جس طرح سائنس مضمون میں تھیوری کے ساتھ پریکٹیکل بھی ضروری ہوتا ہے اسی طرح اخلاقیات کی عملی مشقیں ہی اخلاقیات کی تعلیم و تربیت دے سکتی ہیں۔ یہ بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو اخلاقیات کی عملی مشقیں کرکے دکھائیں۔ کسی بزرگ کے لئے اپنی سیٹ چھوڑدینا، کسی کو سڑک پار کروادینا، کسی کی بوجھ اٹھانے میں مدد کرنا، کسی کو لفٹ دینا، کسی کی مالی مدد کرنا یہ سب وہ معاشرتی اخلاق کی مشقیں ہیں جو بچے اپنے بڑوں کو کرتے دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

اور اب آتے ہیں آخری سوال یعنی کہ ہم جو کچھ سن لیتے ہیں پڑھ لیتے ہیں یا دیکھ لیتے ہیں اس پہ ایک نظریہ کیوں قائم کرلیتے ہیں۔ کیوں کچھ لوگ ہمارے جذبات کو غلط راہ میں لگا دیتے ہیں۔ ہم شخصیت پرست لوگ ہیں۔ کفار بتوں کی پوجا کرتے ہیں مگر ہم مسلمان ہو کر بھی زندہ انسانوں کی پوجا کرتے ہیں۔ ہم جس کے پیرو کار ہوتے ہیں چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی اسے دیوتا سمجھتے ہیں۔ تمام غلطیوں سے پاک۔ ہم اس سے کبھی سوال نہیں کرتے ۔ ہمارا عقیدہ جو ہمیں اس کا غلام بنا دیتا ہے سوال کی ہمت نہیں دیتا۔ کیونکہ غلام صرف حکم پر عمل کیا کرتے ہیں سوال نہیں۔ یاد رکھیں جس دن ہم نے خطبہ، تقریر، لیکچرسننے کے بعد سوال اٹھانے شروع کیے۔ اسی دن غلط لوگ، غلط بات کرنا بند کردیں گے۔ ان کو یہ خوف ہوگا کہ اس بات پہ سوال ہو سکتا ہے اور غلط بات کا کبھی جواب نہیں ہوا کرتا۔ ان تمام سوالوں کے جوابات پر جس دن ہم نے عمل شروع کردیا۔ اس دن ہم ایک پُر امن انسان اور مسلمان بن جائیں گے۔ بلکہ انسان اور مسلمان تو ہوتا ہی وہی ہے جو سب کے لئے پُر امن ہو ورنہ اس کا درجہ انسانوں اور آدمیوں سے کہیں نیچے کا ہوتاہے ۔ اور جس دن ہم نے اپنی ذات کو سب کے لئیے پر امن اور پر سکون بنا لیا ہم نے دوسروں کو اپنے خوف سے آزادی دے دی اس دن ہمارے دل سے بھی ہر ظالم کا خوف ختم ہو جائے گا۔ اس دن ہم بھی خود پہ کی گئی زیادتیوں کے خلاف صف آراء ہو سکیں گے۔ اس دن فرد سے لے کر جماعت تک۔ اور جماعت سے لے کر حکومت تک کسی میں یہ طاقت نہ ہوگی کہ ہم پہ ظلم کر سکے۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں