قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی۔

عید الاضحٰی کی آمد قریب ہے جس میں مسلمان اللہ پاک کے حضور مختلف جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ یہ قربانی اس قربانی کی یاد میں دی جاتی ہے جو اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کی صورت میں دینے والے تھے۔ مگر اللہ پاک نے آپ کی اس آزمائش میں پورا اترنے پر ایک مینڈھا بھیج کر اس قربانی کی یاد کو صاحب استطاعت مسلمانوں میں رہتی دنیا تک زندہ کردیا۔

 اللہ تبارک و تعالٰی کا قربانی کی بابت قران پاک میں واضح حکم موجود ہے کہ اس تک نہ ان جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون مگر صرف یہ کہ قربانی کرنے والے کی نیت اور تقویٰ۔

اس حکم کا معاشرتی فائدہ یہ ہے کہ وہ محتاج و ضرورت مند لوگ جو سارا سال گوشت نہیں کھا پاتے تک گوشت پہنچ جاتا ہے اور وہ بھی صاحب حیثیت لوگوں کی طرح گوشت کے ذائقہ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو اللہ تبارل و تعالٰی نے جو جو فرائض ہم پر عائد کئے ہیں ان کا معاشرتی پہلو نمایاں ہے۔ روزہ کی بھوک پیاس صاحب حیثیت لوگوں کو اس فاقہ کشی سے روشناس کرتی ہے جو غرییوں کی زندگی میں اکثر ہوا کرتا ہے۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں جس طرح لوگ محتاجوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھتے ہوئے اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں اسی طرح عید الاضحٰی کے موقع پر اپنے مال میں سے جانور خرید کر اللہ کی راہ میں قربان کرکے اس کا گوشت غریبوں، محتاجوں، مساکین، فقیروں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ وہ بھی اس موقع پرخوراک کا وہ ذائقہ چکھ سکیں جو صاحب استطاعت لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے۔

بدقسمتی سے ہر حکم کی طرح اس قربانی کے حکم میں بھی ہم نے ریا کاری کو مقدم کردیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ اللہ کے نام پر کئ جانے والی قربانی میں اللہ کی مرضی کو مقدم رکھا جائے مگر افسوس کہ لوگ کیا کہیں گے کے فارمولے پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو دکھانے اور اپنی شان بڑھانے کے لئے لاکھوں کے جانور خریدے جاتے ہیں اور غریبوں سے زیادہ اپنا اور ان لوگوں کا خیال ہوتا ہے جن سے ہمارے روابط کسی فائدے کے لئے ہوتے ہیں۔ مثال کےطور پر، بزنس پارٹنر، باس یا وہ حضرات جو کسی نہ کسی لحاظ سے ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ بہترین گوشت کا حصہ ان ہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے جنہیں اس گوشت کی ضرورت تو نہیں ہوتی مگر چونکہ ان سے ہماری کوئی ضرورت ضرور ہوتی ہے اس لئے وہ اس کے حقدار ٹہرتے ہیں۔

اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ اللہ نے جسے جتنا نوازا ہے اسے اتنا ہی قربان کرنا چاہئیے مگر عیب اس میں صرف اتنا ہے کہ لاکھوں کے جانور تو خرید لئے جاتے ہیں مگر کوئی ضرورت مند اپنی کوئی ضرورت لے کر دست سوال دراز کرے تو اسے خالی پلٹا دیا جاتا ہے۔ کیا ضروری ہے کہ اپنی شان و شوکت دکھانے کے لئے ۸ لاکھ کا جانور تو خرید لیا جائے مگر کسی غریب کی بیٹی کی شادی میں مدد نہ کی جائے، کسی غریب کا علاج نہ کروایا جائے، کسی قرضدار کا قرضہ اتارنے میں مدد نہ کی جائے، کسی کے گھر کا چولھا ٹھنڈا ہو تو اس کے گھر راشن نہ ڈلوایا جائے۔

دیکھا جائے تو یہ سب بھی قربانیاں ہیں جو ہم اپنے مال سے دے سکتے ہیں اگر ۸ لاکھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عزم رکھتے ہیں تو کیا ضروری ہے کہ ۸ لاکھ کا ہی جانور خریدا جائے کم پیسوں کا جانور خرید کر باقی رقم ان ضرورت مندوں کی ضروریات پر خرچ کی جاسکتی ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ اس کا اجر اللہ کی بارگاہ میں اس جانور کی قربانی سے کہیں زیادہ ہوگا۔ کیوںکہ اللہ کے پاس نیت پہنچتی ہے۔ آپ کا جذبہ پہنچتا ہے۔ آپ کا وہ درد پہنچتا ہے جو آپ اللہ کے بندوں کے لئے اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ اللہ کی بارگاہ میں مقبول قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اپنا تبصرہ بھیجیں