میری وصیّت۔

میری یہ وصیّت اپنے گھروالوں کے لیے نہیں بلکہ اپنی نسلوں میں آج سے دوہزار سال بعد پیدا ہُونے والے کسی ہونہار نوجوان کے لیے ہے۔ میں جانتا ہُوں آج سے دوہزار سال بعد میری اولاد میں سے کوئی لڑکی یا لڑکا اپنی شناخت ڈھُونڈنے کی کوشش میں یہ تحریر دیکھ لے گا۔

میرے بچو!
مُجھے دوہزارسترہ کی نیم ترقّی یافتہ دُنیا میں رہتے ہُوئے بھی یقین ہے کہ یہ وصیّت تُم تک ضرُور پُہنچے گی کیونکہ تُم اتنی ترقّی کرچُکے ہو گےکہ پچھلے کسی بھی دور میں بولے یا لکھے گئے الفاظ کو زندہ کر سکنا تُمہارے اختیار میں ہوگا۔ یہ وصیّت لکھنے کا سبب میرے دور کی ایک دریافت بنی۔ میرے دور کے لوگوں نے دریافت کیا ہے کہ انسانی سیل یعنی خُلیوں میں موجودکروموسومز پر موجود جینز کا جنیٹک کوڈ بتاتا ہے کہ انسانی خُلیوں میں اللہ نے تین سو سال کی زندگی سے مُتعلّق ھدایات رکھ چھوڑی ہیں۔
مُجھے جیسے ہی یہ پتہ چلا میں نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں اوراس دریافت کو قُرآن سے ملا کرتُمہارے دور میں ہونے والی انسانی ترقی کے کئی مُمکنہ زاویے دیکھ لیے۔ تبھی مُجھے ڈر ہُوا کہ کہیں تُم بھی میرے دور کے لوگوں کی طرح قُرآن کو پُرانے زمانے کےمُفسِّرین کی تشریح کا قیدی سمجھنے والے ثابت نہ ہو اور کہیں قُرآن کی پُرانی تفسیروں میں اُلجھ کر یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ قُرآن تُمہارے دور کے لیے کُچھ نہیں کہتا۔
میں نے سوچا کہ یہ وصیّت لکھ کر تُمہیں مُطلع کر دُوں کہ قُرآن جتنا میرے دور میں جدید تھا تُمہارے دور میں بھی اُتنا ہی جدید ہوگا۔ میں تھوڑی رہنُمائی کردُوں کہ یہ مُجھے تُمہارے دور کے بارے میں کیا بتاتا تھا باقی تُم خُود اسی میں ڈھُونڈ لینا کیونکہ یہ ہردور میں اپنے مفاہیم مزید کھولے گا۔
میرے بچو!
اس نئی دریافت کے مُطابق انسانی خُلیوں پر انکی عُمر جتنی نیند بھی دوبارطاری کی جاسکتی ہے۔ یعنی انسان کو دو وقفوں سمیت نو سوسال زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ میرے خالق کا کوئی ایک کام بھی غیر ضرُوری نہیں ہوسکتا.
تبھی میں دیکھ سکتا ہُوں کہ چند سو سال بعد کی کوئی نسل اس کوڈ کی تفصیل اور ترتیب جان کر ایسی دوائیں تیّار کرلے گی کہ بہت سے لوگ تین سو سال کی زندگی پاسکیں گے. چند سو سال کے لیے طاری کی گئی نیند خُلیے کی مجمُوعی تین سو سالہ عُمر میں شامل نہ ہو گی اور ایسے یہ کُل ملا کر نُو سو سال جی سکیں گے.
میں نے فوراََ اس دریافت کی کڑیاں قُرآن سے ملائیں تو ایک ہیبت ناک نقشہ سامنے آیا۔ سُورہ رحمٰن کی ساتویں آیت میں اللہ آسمان کو بچھانے اوراس میں توازُن قائم کرنے کا ذکر کرکے اگلی آیات میں اس توازُن میں بے اعتدالی نہ کرنے کا حُکم دیتا ہے۔
پھر دسویں آیت میں کہتا ہے کہ تُمہارے لیے زمین رکھی گئی ہے۔ میں آج سمجھا یہ آیات تُمہارے دور کے لیے تھیں
کیونکہ تُم ہی لمبی زندگیاں پاکر کائنات کی دیگر دُنیاؤں میں مداخلت کرکے آسمان میں اللہ کا پیدا کیا ہُوا توازُن بگاڑنے کی کوشش کروگے۔
سُورہ رحمٰن کی آیت تیتیس میں اللہ نے کائنات میں دیگر سیّارے سر کرنے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی جتلا دیا تھا کہ تُم وہاں بھی اللہ کی سلطنت پاؤگے یہ تو عام بات ہے کہ سلطنت نظام سے بنتی ہے اور نظام مخلُوق کے لیے ہوتا ہے یعنی تُم ہر جگہ اللہ ہی کی عبادت کرنے والی مخلُوق پاؤ گے۔ یعنی کائنات مُسخّر کرنے کا سبب اپنی پہچان ,انسانیت کی بھلائی اور اللہ کی معرفت رہے
میرے بچو!
وہاں موجُود مخلُوق کے لیے دیے گئے وسائل پر تُمہارا کوئی حق نہیں۔ جب اللہ نے سُورۂ رحمان میں آسمان میں سیّاروں کے توازُن کو میزان کہا تو یقیناََ نویں آیت میں انصاف اور تول میں کمی نہ کرنے کا حُکم دے کر توازُن نہ بگاڑنے کا کہاگیا تو اس میں تُمہیں دُوسرے سیّاروں پر موجُود مخلُوق کے ساتھ لین دین رکھنے کی مشرُوط اجازت دی گئی ہے۔
لیکن اُنسے لین دین کی شرط انصاف ہے ساتھ ہی دسویں آیت میں اللہ کا یہ کہنا کہ تُمہارے لیے زمین رکھی گئی ہے یہ قانُون طے کردینا ہے کہ تُم وہاں نوآبادیاتی نظام قائم کرنے کا سوچنا بھی مت۔
کائنات کے سفر کے لیے دو چیزیں درکار تھیں وہ دونوں تُمہاری نسل کے پاس موجُود ہیں یعنی دورانِ سفر صدیوں کی نیند اور روشنی کی رفتار اور طاقت سے خلا میں چلنے والی سواری۔ یہ دونوں چیزیں تُمہارے دور تک عام ہونگی۔
جنیٹک کوڈ کی اس نئی دریافت سے میں جان گیا کہ تُمہاری نسل اپنے جنیٹک کوڈ کو اتنا ماسٹر کر لے گی کہ جنیٹک ری کمبینیشن کے ذریعے صدیوں کی نیند سو سکے گی اور نیند کے دوران روشنی کی رفتار سے چلنے والے کسی خلائی جہاز کے ذریعے دُوسری کائناتوں کا سینکڑوں سال کا سفر کرنے کے قابل ہو جا ئےگی۔
سُورہ سجدہ کی پانچویں آیت میں آسمان کی طرف رُجوع کرنے کے لیے مطلُوبہ رفتارکا اشارہ بھی موجُود تھا جو کیلکُولیٹ کرنے پر روشنی کی رفتار بنتی ہے۔ لیکن روشنی کی رفتار کی حامل سواری کا حصُول تبھی کارگر ہوتا جب انسانوں کی عُمر زیادہ ہوتی اور خُلیے پر مخصُوص نیند طاری کر کے منزل پر پُہنچ کر اسے جگایا جا سکتا۔ کیونکہ اس رفتار سے سفر کرکے بھی زمین جیسے کسی سیارے تک پُہنچنے کے لیے کئی سو سال چاہییں جبکہ میرے دور کا انسان سو سال کے قریب ہی زندہ رہ سکتا تھا۔ یہ دونوں چیزیں تُمہارے ہی دور میں حاصل ہونی تھی۔
میرے بچو!
اللہ قُرآن میں کہتا ہے کہ اللہ کی ساری کائنات لامحدُود ہے اور مُسلسل پھیل بھی رہی ہے. آج تک کی معلُوم کائنات کا سفر بھی تُم روشنی کی رفتار سے چلنے والے جہاز میں چودہ ارب سال میں ہی طے کر پاؤ گے۔ جو مُمکن نہیں کیونکہ انسانی خُلیے کی زندگی تین سو سال ہی ہو سکتی ہے اُسے دو بار سُلا کر دو بار ہی جگایا جا سکتا ہے یعنی تُم بس نو سو سال کا ہی سفر کر سکو گے۔
نو سو سال میں تُم بس اتنی کائنات کے بارے میں جان سکو گے جتنا کسی ریگستان میں ایک ذرّے کا حُجم ہوتا ہے.
بہرحال تُم دُوسری کائناتوں میں جا کر یہ تو ضرُور جانو گے کہ اللہ نے قُرآن میں انسان کے لیے اشرفُ المخلُوقات کی بجائےکثیر میں افضل کا لفظ کیوں استعمال کیا تھا. یقیناََ اگلی صدیاں یہ ثابت کریں گی کہ انسان کو اپنے خالق کی صُورت پر ہی پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی اُس میں خالق نے اپنی صفّات کا عکس تو رکھا ہی ہے تبھی میری اگلی نسلوں کو دُوسرے خالق بھی دیکھنے ہیں اور خُود بھی خالق بننا ہی ہے.
بہت سے خالق ہونگے تو ہی میرے خالق کے بہترین خالق ہونے کی اتمامِ حجّت ہو گی. اللہ اکیلا ہی خالق اور بڑا ہو تو سب سے بڑا اور عظیم خالق کیسے ثابت ہو گا. لازم ہے کہ میری اگلی نسلیں بھی خالق ہونگی. میری اگلی نسلیں دوسری کائناتوں کے سفر کے بعد یہ بھی جانیں گی کہ مُحمدؐ کو کیوں رحمتُہ لِّلعٰالمین کہا گیا تھا. شاید تب تک قیامت ہی نہ آئے جب تک میری اگلی نسلیں جان نہ لیں کہ جبریل جس ستارے کو ہر ستّر ہزار سال بعد چکمتے دیکھتا تھا ،
جسےاُس نے ستّر ہزار بار چمکتے دیکھا،آخر وہ ستارہ چمکنے کے بعد پھر ستّر ہزار سال کے لیے کہاں چلا جاتا تھا.
میری اگلی نسلوں کو ضرور اُس ستارےکے مزید کُچھ دُنیاوٴں میں چمکنے کا ثبُوت ملے گا. لازم ہے کہ ایسا ہی ہو تاکہ انسانیت پر اتمامِ حجّت ہو. میری اگلی نسلوں میں بہت سے کائنات کی کتاب سے قُرآن تلاوت کریں گے.
میرے بچو!
اگر تُم تک میری یہ تحریر پُہنچے تو تُم جان لینا کہ تُم سے پچھلوں کو پہلے ہی صرف قُرآن پڑھ کر علم تھا کہ تُم اللہ کی کائنات کی کتاب سے قُرآن کا ثبُوت پاوٴ گے. مُجھے ڈر ہے کہ میرے ساتھ والوں کی طرح تُمہاری بھی طے کردہ منزلیں اور ترقّی کہیں تُمہیں بُنیادی سبق نہ بھُلا دے تبھی میں نے چاہا کہ کہ تُمہارے لیے یہ وصیّت لکھ دُوں. تُم ضرُورکائنات مُسخّر کرو لیکن اسکا توازُن مت بگاڑنا۔ کبھی نہ بھُولنا کہ نو سو سال کی زندگی ملے یا نو ہزار سال کی باالآخر مرنا ہی ہو گا۔ نہ بھُولنا کہ تُمہیں ملنے والی زندگی ایک امتحان ہے۔
بے شک جتنی چاہو ترقّی کرو  جتنی کائنات چاہو تسخیر کرو  بہرحال تُمہارا وقت گُزرنے کے بعد سب خواب جیسا ہو جانے والا ہے. تُمہیں ترقّی سے روکنا اس وصیّت کا مقصُود نہیں بس انصاف اور شُکر کا دامن ہاتھ سے نہ چھُوٹنے پائے۔ شُکرگُزاروں کا سفر اس زندگی کے بعد بھی جاری رہے گا. ناشُکرے رُک کر پچھتائیں گے. حالات کیسے بھی ہوں قُرآن سے ہی اپنے وسائل کے تناظُر میں اپنے مسائل کا حل ڈھُونڈنا لیکن قُرآن کو آئمّہ یا میرے دور کی کسی تفسیر میں قید مت کرنا۔ یہ ہر دور کے لیے اللہ کا زندہ کلام ہے اسےایسے پڑھنا جیسے پہلی بار تُم پر نازل ہو رہا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں