119

ہزار داستان، بلا عنوان۔

دھرتی کی دانش کا نہ کوئی جوڑ نہ کوئی توڑ اور دھرتی کا جو حصہ صحرائی ہو اس کی گہرائی کا تو تصور بھی ممکن نہیں کہ صحرا میں زمین و آسمان کے درمیان اور کچھ ہوتا ہی نہیں سوائے جہان دانش اور انسان کے ۔’’الحرص مِنتاحُ ا لذّلِ‘‘حرص، ذلت کی کنجی ہے۔کیا ہم اپنے اردگرد اس کنجی کے کرشمے اور کمالات نہیں دیکھ رہےکہ حرص و ہوس نے کیسے کیسے لوگوں کو کہاں سے اٹھا کر کہاں پٹخ دیا کہ دنیا میں جہاں بھی جائیں گے، ’’نتائج‘‘ ساتھ ساتھ محو سفر ہوں گے اور زمین دھیرے دھیرے ان پر تنگ ہوتی جائے گی۔

’’الَیدُ العُلیاَ خیرُ منَ الیدِ السُّفلیٰ‘‘’’اوپروالاہاتھ (یعنی دینے والا ہاتھ) نچلے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے‘‘یہ بات ہمارے حکمرانوں کو سمجھ نہیں آئی ورنہ گنجوں کے بال بھی قرضے میں جکڑے نہ ہوتے۔ نہ اس قوم کا بچہ بچہ مقروض ہوتا حالانکہ عشروں پہلے کسی سیانے نے خبردار کردیا تھا کہ پاکستانی حکومتوں نے جس طرح قرض لینا شروع کیا ہے تو وہ دن دور نہیں جب قرض چکانے کے لئے بھی قرض لینا پڑے گا….. اور وہ وقت آچکا۔
’’الناسُ علیٰ دِینِ مَلُوکِھِم‘‘عوام اپنے بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیں۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ عوام اپنی ’’اشرافیہ‘‘ کے نقش قدم پر چلتے اور ان کے نقال ہوتے ہیں سو صرف اتنا کریں کہ مکمل دیانت داری اور غیرجانبداری کے ساتھ خود اپنے سمیت اپنے اردگرد کا جائزہ لیں۔ ’’غیور باشعور‘‘ والے شورشرابے سے بچتے ہوئے زمینی حقائق پر غور فرمائیں اور پھر اس سے اندازہ لگائیں کہ اس ملک کی نام نہاداشرافیہ اخلاقیات کے کس درجہ و مقام پر فائز ہے۔ میں جب یہ کہتا ہوںکہ ہماری اشرافیہ نے ملکی اقتصادیات ہی نہیں اجتماعی اخلاقیات کا بھی جنازہ نکال دیاہے تو یہ منطق من گھڑت نہیں ہوتی۔ اس کےپیچھے دھرتی کی یہی دانش کارفرما ہوتی ہے کہ عام لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں سو اگر حکمران کرپٹ ہیں تو نتیجہ؟ اگر حکمران ’’رول آف لا‘‘ کی دھجیاں اڑائیں گے تو عوام کیوں باز آئیں گے؟ 
حکمران ’’تجاوزات‘‘ کے مرتکب ہوں گے تو عوام اس غلاظت میں ملوث کیوں نہ ہوں گے؟ اسی لئے تو فٹ پاتھوں پر ’’فٹ‘‘ رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی کیونکہ خوانچوں چھابڑیوں کا قبضہ ہوتا ہے۔ ہر کوئی ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ کے تحت تجاوزات پر تلا رہتا ہے۔’’اَلعفوُ عَنِ الظالِم جورُ عَلٰی المظلُومِ‘‘ظالم کو معاف کرنا، مظلوم کے ساتھ ظلم ہے۔اورہمارے ہاں اس کے علاوہ ہوا ہی کیاہے؟ عدل کے طلسمی جال میں مکھیاں مچھر پھنس جاتے ہیں، مگرمچھ بآسانی، بحفاظت نکل جاتے ہیں۔’’اَلُمرءُ یُعَرف بالمُعامِلاَتِ لَا بالَصومِ و الصَّلٰوۃِ‘‘انسان معاملات سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ صوم و صلوٰۃ یعنی روزے نماز سے۔ہماری ترجیحات، تربیت اور فوکس کا کیا حال ہے؟ حصول ثواب کے لئے رستے روکتے وقت کسی کو رستے کے حقوق یاد نہیں آتے۔ عبادت عیوب کی پردہ پوشی سکھاتی ہے۔ ان کا کھوج نہیں لگاتی لیکن ہماری پسندیدہ پریکٹس کیاہے؟’’اَلکاسِبُ حبِیبُ اللہ‘‘پیشہ ور (ہنرمند) اللہ کو پیارا ہے۔اور ہم ایک ایسے معاشرہ میں پروان چڑھتے ہیں جہاں کام کرنے والا کمّی اور کمین….. کچھ نہ کرنے والا چوہدری کہلاتا ہے۔
’’الَامِینُ امِنُ و الخَائِنُ خائِفٌ‘‘امین امن میں اور خائن یعنی امانت میں خیانت کا مرتکب خائف یعنی خوف میں رہتا ہے۔ خالص اردو میں فری اسٹائل ترجمہ کچھ یوں بھی ہوسکتا ہے ’’پاک رہو بے باک رہو‘‘’’اَلُعَادۃُ طبَعیۃٌ ثَانِیۃٌ‘‘عادت طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے جسے انگریزی میں ’’سیکنڈ نیچر‘‘ کہتے ہیں۔’’اَلجُوعُ خَیرٌ مِنَ الخُضُوعِ‘‘عاجزی کے ساتھ مانگنے سے بھوکا رہنا بہتر ہے۔حکمرانوں نے ہمیں قرضہ ایکسپرٹ بنا کر ہماری آئندہ نسلوں کو بھی نجانے کہاں کہاں رہن رکھ دیا اور کمال یہ ہے کہ بھوک نہ صرف بدستور قائم ہے بلکہ اس میں بتدریج اضافہ ہوتاچلا جارہا ہے۔
’’اَلقاسِمُ مَحرَومٌ‘‘بانٹنے یعنی تقسیم کرنے والا محروم رہتا ہے۔سچی بات ہے یہ بات سمجھ نہیں آئی کیونکہ ہمارے ملک میں تو بانٹنے والے یعنی حکمران پانامائوں سے سرے محلوں تک پھیلے ہوئے ہیں، اسی لئے میں کبھی کبھی احتجاجاً لکھا کرتا تھا کہ’’بدبختو! کچھ اور نہیں تو بھوک ہی برابر بانٹ دو‘‘ کہ حکمرانوں کا فرض اولین ہی ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔’’الفِتنۃُ اَشَدُّ مِن القتِلُ‘‘فتنہ قتل سے بھی سخت ہے۔جبکہ ہمارے ہا ںبے شمار فائیو اور سیون سٹار فتنے نہ صرف دندناتے پھرتے ہیں بلکہ معزز و محترم بھی گردانے جاتے ہیں۔’’اَلکِذُبُ اَعظَمُ الْخَطَایَا‘‘جھوٹ تمام گناہوں سے بڑاہے۔اور جو عوام عدلیہ اور ایوان میں جھوٹ بولے؟ دیکھو دیکھو کون آیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں