55

بہترین ملک ؟

درندگی اور بربریت جیسے لفظ بالکل بے معنی محسوس ہو رہے ہیں۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تصور ہی روح فرسا ہے۔ اس کی تو تصویریں دیکھنے کے لئے بھی کسی چنگیز کا دل چاہئے۔ حیران ہوں کہ یہ سب کچھ کر کون رہے ہیں اور ہو کن کے ساتھ رہا ہے۔ کرنے والے گوتم بدھ کے ماننے والے ہیں جو اہنسا کی قدیم ترین علامت ہے اور جن کے ساتھ ہو رہا ہے، ان کے وارث ہیں جنہوں نے کبھی دنیا پر حکومت کی اور اب بھی نہ تعداد میں کم ہیں نہ دولت کی کمی لیکن مجال ہے جو ایک آدھ کے علاوہ کوئی توانا آواز سنائی دی ہو۔

یقین نہیں آتا کہ ان کا تعلق ان کے ساتھ بھی ہو گا جو ایک مظلوم عورت کی پکار پر سندھ کے ساحلوں تک آ پہنچے۔ کیا واقعی کبھی کوئی محمد بن قاسم بھی تھا؟ یا یہ سب افسانے ہیں۔ درست کہ زمانے اور پیمانے تبدیل ہو چکے۔ دشت، دریا اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانا ممکن نہیں کہ دنیا سمٹ کر ’’عالمی گائوں‘‘ بن چکی لیکن ایسا سہم اور خوف بھی کیا کہ عالم اسلام ہم آواز ہو کر پرزور احتجاج بھی نہ کر سکے لیکن عالم اسلام کہیں ہو تو احتجاج کرے۔ بادشاہتیں، آمریتیں اور امارتیں۔ ایک طرف ایک ارب سے اوپر مسلمان، دوسری طرف چند شاہی خاندان۔ بس یوں سمجھ لیں کہ جو حال پاکستان کا تقریباً وہی پورے عالم اسلام کا تو کسی اور انجام کی امید کیسی؟

مقبول ترین مطالبہ کیا ہے؟
میانمار کی آنگ سان سوچی سے نوبیل انعام واپس لیا جائے حالانکہ اس انعام کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 1939ء میں جس سال ایڈولف ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کیا، اسی سال سویڈش پارلیمنٹ کے ایک معزز رکن ERIK G.C. BRANDTنے ہٹلر کو نوبیل امن انعام کے لئے نامزد کیا کیونکہ اس نے چیمبرلین کے ساتھ ’’میونخ امن معاہدہ‘‘ پر دستخط کئے تھے حالانکہ اس نام نہاد امن معاہدہ (29ستمبر 1938ء) میں ہٹلر نے اپنی تقریباً تمام جائز ناجائز باتیں منوا لی تھیں سو نوبیل انعام کو بھول کر ممکن ہو تو عالم اسلام اس پر غور کرے کہ مزید کتنی اذیت؟ اور کتنی اہانت درکار ہے جو اسے اپنے حالات اور اوقات پر نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کر دے۔

 
قیادت نام کی کوئی شے نہ اب موجود نہ آئندہ دور دور تک کہیں دکھائی دیتی ہے۔ کہیں اور کیا جانا، اپنا حال ہی دیکھ لیں کہ آئندہ کے بطن میں بھی مایوسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ’’موروثیت‘‘ کے مرض پر سمجھوتہ بھی کر لیں تو آگے وہی کچھ ہے جو پیچھے تھا۔ بلاول ’’بھٹو زرداری‘‘ کے بعد مریم نواز کو بھی پوری محنت اور مہارت کے ساتھ ضائع کیا جا رہا ہے۔ پہلے بلاول کو اس کے نانا اور والدہ کا ملغوبہ، چوں چوں کا مربہ بنایا گیا، کہیں بھٹو کی بھونڈی نقالی کہیں بے نظر بھٹو کی جگالی ….بیچ میں سے بلاول غائب کیونکہ وہ بیچارہ نہ اپنا نانا تھا نہ اپنی والدہ ہے سو کہیں بہتر تھا کہ بلاول کے اندر سے بلاول برآمد ہوتا….جو کچھ بھی ہوتا ’’اوریجنل‘‘ ہوتا، ملاوٹ ہوتی تو زیادہ سے زیادہ اتنی جتنی خالص سونے کو زیور میں تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے لیکن نہیں۔
 
مریم نواز کو بھی نابغوں نے زاد راہ کے طور پر اوپر سے نیچے تک جذبات سے لاد دیا۔ ملکہ جذبات کی طرز پر ایک شہزادیٔ جذبات کہ جذبات فروشی کُل نہیں۔۔ کُل کا ایک جزو ہوتی ہے۔ 

’’تمہاری والدہ نے تمہیں سلام بھیجا ہے‘‘
’’بیمار والدہ کو چھوڑ کر آپ کے پاس آئی ہوں‘‘
’’اپنی بہن اور بیٹی کا مان رکھنا‘‘
 
سوائے جذباتی بلیک میلنگ اور ایکسپلائٹیشن کے اور کچھ بھی تو نہیں۔ نہ کوئی وژن، نہ گہرائی نہ گیرائی نہ کوئی ہدف نہ آدرش۔ سوائے قومی اسمبلی کی ایک سیٹ سٹکنے، اچکنے، بٹورنے اور جیتنے کے۔۔کچھ بھی تو نہیں اور سیٹ بھی وہ جو کب سے گھر کی کنیز ہے۔
 
سنتے بلکہ پڑھتے ہیں کہ ن لیگ کسی نئے ’’این آر او‘‘ کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ کسی عرب ملک نے بھی مدد سے معذرت کر لی ہے۔ اسحاق ڈار نے بھی دوست عرب ملک کے ذمہ داران سے ملاقات کی ناکامی ’’گوش گزار‘‘ کر دی ہے اور اب امریکی صدر سے نواز، عباسی ملاقات کے لئے بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے تو ’’این آر او‘‘ ضرور ہو لیکن اس بار یہ ’’این آر او‘‘ عوام اور اشرافیہ کے درمیان ہو تو پاکستان کے لئے باعث برکت ہو گا ورنہ……
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس بات میں کیا قباحت ہے کہ نام نہاد اشرافیہ کو صرف اتنے حصہ پر پابند کیا جائے جتنا ان کا حق بنتا ہے۔ حصہ بقدر جثہ۔ انتخابی مہموں کی لاگت آسمان سے زمین پر آ گرے گی۔ لوئر مڈل، مڈل، اپر مڈل کلاس کے پڑھے لکھے محنتی ذہین نوجوان بھی مین سٹریم میں آ سکیں گے ورنہ آرمی چیف کا یہ خواب کہ ’’پاکستان کو دنیا کا بہترین ملک بنائیں گے‘‘۔۔۔خواب ہی رہ جائے گا پاکستان ’’اشرافیہ‘‘ کے شکنجے سے نکل کر عام پاکستانیوں کی شرکت اور شراکت کے بغیر بہترین ملک بن ہی نہیں سکتا کیونکہ بہترین ملک کرپشن سے پاک، احتساب، ڈسپلن، عدل، تعلیم اور میرٹ سے بھرپور ہوتے ہیں جو اس دو نمبر اشرافیہ کی موجودگی میں ممکن ہی نہیں جس کا آگا، پیچھے سے بھی بدتر ہے۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: justify; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 2.0px 0.0px; font: 14.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 17.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}
span.s2 {text-decoration: underline}
( شکریہ حسن نثار ڈاٹ پی کے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں