99

جنُوبی پنجاب کی آنکھوں دیکھی ایک کہانی۔

اگر دینی علم صرف کتاب پڑھنے پڑھانے اور مدرسے یا مسجد تک محدُود رہے اور اپنے حامل کو مُعاشرتی ناہمواریوں کے اور ظالم کے خلاف کھڑا ہونے پر نہ اُکسائے تو میرے نزدیک یہ علم آگ میں جھونکنے کے لائق ہے۔

اپنے علاقہ ایس ایچ او چوھدری جاوید کو کمینہ کہنے پر میرے ایک مُستقل قاری کامران احمد صاحب جو ایک ایماندار اور علم دوست پُولیس آفیسر ہیں نے شدید غم و غُصّے کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اُنہیں میری دینی تحریریں پڑھنے کے بعد مُجھ سے یہ توقع نہ تھی۔

میں اُنکی خدمت میں ان ایس ایچ او صاحب کے سینکڑوں آنکھوں دیکھے جرائم میں سے ایک پیش کرتا ہُوں۔

یہ ایک الگ بات ہے کہ صُبح تک حسبِ معمُول میرے والد اور اُنکے دوستوں بالخصُوص میرے اُستادِ مُحترم حبیب قُریشی صاحب کی کالز آنا شُروع ہو جائیں گی کہ یہ تحریر ڈیلیٹ کر دوں۔

خیر آپ یہ واقعہ پڑھ لیجیے۔

میرے بعض قارئین قُرآن کی ریسرچ کے حوالے سے میری تحریریں پڑھ کر مُجھے دائیں بازو کا حمایتی سمجھتے ہیں اور بعض قارئین جرنیلوں کی مُلکی اور خارجہ پالیسی میں مُداخلت کے بارے میں لکھنے پر مُجھے لیفٹسٹ یعنی بائیں بازُو میں گردانتے ہیں البتّہ میں ان دونوں بازوؤں کو مُعاشرتی بگاڑ میں برابر کا حصّہ دار سمجھتا ہوں۔

میں اور میرے جیسے لوگ بس دائیں بائیں بازوؤں کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں لیکن ہمارے مُعاشرتی رویّوں ، سیاستدانوں کے طریقۂ انتقام ، پولیس اور میڈیا کی سیاستدانوں کے دلّال جیسی حیثیّت اور خصوصاََ عدلیہ کے مکروہ چہرے پر پڑے پردے کوئی نہیں اُٹھاتا۔ ۔ ایک لمحے کے لیے فرض کریں آرمی خارجہ اور داخلہ پالیسی پر کنٹرول ختم کر دے تو سپیس کون فِل کرے گا۔

ہماری اسمبلیوں میں ستّر فیصد نُمائندے دیہی علاقوں سے جاتے ہیں۔ ان میں ہر ایک اپنی سلطنت کا سفّاک فرعون ہے اسنے اپنے باپ دادے سے مخصوص طرز عمل سیکھا اور وہ ہےاپنے شیطانی ہتھکنڈوں سے اقتدار پر جمے رہنا۔

آئیے آپکو اس دیگ سے ایک چاول کا ذائقہ چکھاتا ہوں۔

آج آپکو ایک ایسے واقعے کا آنکھوں دیکھا حال سُناتا ہوں جس میں آپ ہمارے دیہی مُعاشرتی نظام کی تصویر دیکھیں گے۔ گو کے یہ واقعہ مُظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادّو کے قصبہ گُورمانی کا ہے لیکن کم و بیش ستّر فیصد پاکستان بالکل ایسا ہے ۔ تیس فیصد پاکستان جو شہری ہے میں سیاستدانوں، پولیس اور عدلیہ کا چہرہ نسبتاََ کم غلیظ ہے۔

جن صاحب کی یہ کہانی ہے اُنہوں نے ستّر کی دہائی میں ایم ایس سی فزکس کیا۔ اُنکے والد ایماندارایس ڈی او ہونےکی وجہ سے ہمیشہ سائکل سوار رہے اور تبھی بیٹے کو سرکاری نوکری نہ کرنے کا مشورہ دیا اور ریٹائرمنٹ پر اپنے بیٹے ملک خالد کو اپنی پنشن کی رقم سے کُچھ زرعی زمین گورمانی شہر میں خرید دی۔

ملک خالد صاحب نے اُسی زمین پر کام کر کے اپنے بھائیوں اور بچوں کو تعلیم دلوائی اور کافی عزّت کمائی۔ پچھلے کُچھ عرصے میں اُنکی زمین کمرشل ہو گئی۔ اُنکی زمین کے ایک حصے پر ایک کمپنی نے ایک ایگریمنٹ کے تحت پٹرول پمپ بھی لگایا جس میں اُنہیں شراکت دی گئی۔ اُنکے حالات بچوں اور بھائیوں کے پڑھ جانے کے بعد کافی بہتر تھے۔ تین نسلوں سے حلال کھایا تھا اللہ نے برکت دی۔

ایک بھائی سی اے ، بیٹا اینجینر ایک بیٹی ڈاکٹر دوسری بینک مینیجر بن گئی۔ ملک خالد صاحب چونکہ عوامی آدمی تھے اور ترقّی کر رہے تھے لہٰذا اپنے ہمسائے میں موجود گورمانی اور کھر جاگیرداروں کو ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔

اسی دوران ہم لوگوں نے جمشید دستی کو ربّانی کھر کے مُقابلے میں الیکشن لڑنے کے لیے تیّار کیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ اُنکا افتتاحی جلسہ جاگیرداروں کے گڑھ یعنی گورمانی میں کیا جائے۔ ہم نے اس مقصد کے لیےملک خالد صاحب سے درخواست کی کہ گُورمانی میں آپکے علاوہ اور کوئی دستی کا جلسہ کروانے کی جُرّأت نہیں کرے گا آپ آگے آکر لوگوں کے دل سے جاگیرداروں کا خوف نکالیں۔

ملک خالد صاحب نے میرے سامنے جمشید دستی سے کہا کہ میں آپکی بات مان کر جلسہ کرواتا ہوں لیکن مُجھے علم ہے یہ جاگیردار کل سے ہی میرے خلاف کئی جھوٹے مُقدمات درج کروانا شروع کر دیں گے آپ وعدہ کریں مُجھے اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

جمشید دستی صاحب نے وعدہ کیا اور اگلے ہی ہفتے اُنکے پیٹرول پمپ سے مُلحقّہ زمین پر ملک خالد صاحب نے جمشید دستی کا پہلا جلسہ کروایا اور دستی کو اُس جلسے سے مومینٹم ملا۔ بالآخر وہ الیکشن جیت گئے۔ تاریخ میں پہلی بار ربّانی کھر جیسا ظالم اور سفّاک وڈیرہ ایم این اے کا الیکشن ہار گیا اور ایک دوسرا وڈیرہ طارق گُورمانی دستی کی وجہ سے ایم پی اے کا ایکشن ہار گیا۔

دستی صاحب چونکہ دو سیٹوں سے الیکشن جیتے تھے لہٰذا وہ تو ہماری ایم این اے کی سیٹ دوبارہ وڈیروں کی جھولی میں ڈال کر نکل لیے ملک خالد صاحب جیسے اُن تمام لوگوں کی پگڑی وڈیروں کے ہاتھ بیچ گئے جنھوں نے دستی کو حلقے میں مُتعارف کروایا تھا۔

ملک خالد صاحب کی زرعی زمین کے نیچے سے پی ایس او کے فرنس آئل کی لائن گُزرتی تھی۔

وڈیروں کے کارندوں نے ایک رات اُس پائپ لائن میں کٹ لگا دیا۔ تیل کھیتوں میں پھیل گیا

ایک کرپٹ اور راشی پُولیس آفیسر چوھدری جاوید جسے کھر ہمیشہ اپنے حلقے میں رکھنا پسند کرتے ہیں اس سارے ڈرامے کا خالق تھا۔

ملک خالد صاحب کے سارے خاندان پر پرچہ ہو گیا۔

یہ رات ایک بجے کا واقعہ ہے لیکن مقامی صحافی جو وڈیروں کے راکھویں ہیں پہلے سے سٹوری لکھ کر بیٹھے تھے جو صبح کے سب اخباروں میں مرچ مسالے کے ساتھ چھپی۔

ملک خالد صاحب کے بھائیوں کو چند گھنٹے میں پُولیس نے اُٹھا لیا۔

ملک خالد صاحب میرے ساتھ اسلام آباد میں تھے لہٰذا فوری گرفتار نہ ہوئے۔ دستی نے کوئی مدد نہ کی۔

پُورا علاقہ جانتا تھا کے پائپ لائن کو کس نے کس وڈیرے کے حُکم پر کٹ لگایا ہے لیکن کسی نے گواہی نہ دی بلکہ چوھدری جاوید نے جھوٹے گواہ تیّار کر لیے جنہوں نے یہ بیان دیا کہ اُنہوں نے خُود ملک خالد صاحب کو کٹ لگاتے دیکھا ہے۔

میں ایک مین گواہ جو سیّد تھے سے ملنے گیا اُنسے میرے والد کا قریبی تعلُق تھا۔

جب میں نےاُنسے جھوٹی گواہی کی وجہ پُوچھی تو اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں وہاں کے ایک وڈیرے نے گواہ لکھوایا ہے۔ اور وہ پیچھے ہٹے تو اُنکے خلاف کاروائی ہوگی۔

اس دوران ایک مُصطفیٰ کمال نامی ایک نیا ایس ایچ او تھانے میں آگیا۔

وہ بھی وڈیروں کے راکھویں کی شُہرت رکھتا تھا۔ اس تھانے میں اکثر و بیشتر یہ دونوں ایس ایچ اوز بدل بدل کر آتے جاتے رہتے ہیں۔

میں نے گواہ کی گُفتگُو ریکارڈ کر لی اور ایس ایچ او کو سُنوائی۔ ایس ایچ او سیّد تھا اُس نے مُجھے کہا بیٹا آپ سیاست میں دلچسپی نہ لو اور واپس کینیڈا جا کر پڑھائی کرو۔

پھر ایک دن مُجھے اپنے ایک پُرانے کلاس فیلو دوست کی کال آئی جو تھانہ محمودکوٹ میں سپاہی تھا۔

اُس نے مُجھے بتایا کہ ملک خالد صاحب گرفتار ہو گئے ہیں اور وڈیرہ خالد کھر بھی آیا بیٹھا ہے اور تفتیشی سے کہا گیا ہے کہ ملک خالد صاحب کو جتنے لتّر لگیں گے پانچ ہزار سے ضرب دے کر پیسے لے لینا۔

ملک خالد صاحب کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے۔ جب میں تھانے پُہنچا ملک صاحب کو گیارہ لتّر لگ چُکے تھے۔

مُیری موجُودگی سے لتّر رُک گئے۔ میں نے وہیں بیٹھ کرجمشید دستی سمیت بہت لوگوں کو فون کیے لیکن سبھی نے بہانے کیے۔ میرے ایک عزیزانسپیکٹر فیاض جو کسی اور تھانے میں تھے اُنسے بات ہوئی تو اُنہوں نے ایس ایچ او محمودکوٹ سے بات کرنے کے بعد کہا یہ بڑی گیم ہے تم فوراََ تھانے سے چلے جاؤ میں یہ وعدہ کر سکتا ہوں کہ اب ملک خالد صاحب کو ایس ایچ او محمودکوٹ مزید نہیں مارے گا۔

اُس کے چار دن تک ملک خالد صاحب کی بندی نہیں ڈالی گئی۔ میری ایس ایچ او محمودکوٹ سے جتنی بار بھی بات ہوئی میں نے اُسکی ریکارڈنگ کی تھی۔ ملک خالد صاحب کی بھی میں حوالات میں روزانہ وڈیو بنواتا رہا۔ میں سارے ثبوت لے کر ایک ایس پی سے ملا ۔۔ ڈرامہ ہوا لیکن بندی نہیں ڈلی۔ ایس ایچ او نے البتّہ مُجھے آخری وارننگ دے ڈالی۔

بالآخر میں لاہور جا کر ایئر فورس کے ایک ایئر وائس مارشل سے ملا جوایک حسّاس ادارے میں تھے۔

اُنہوں نے میرے پاس موجود سارے ثبوت دیکھے اور ایک ایڈیشنل سیشن جج کو کال کی۔ اُسے کہا بندہ بھیج رہا ہوں تین دن میں کام ہونا چاہیے۔

میں ایڈیشنل سیشن جج کے پاس آیا اُسے ساری بات بتائی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے اپنے ریڈر کے ذریعے ایس ایچ او کو خبر لیک کی کہ ملک صاحب کی حبس بیجا کے خلاف بیلف آنے والا ہے۔ ایس ایچ اونے فوراََ بندی ڈال دی۔

ایڈیشنل سیشن جج نے میرے سامنے کوٹ ادوکے ایک جج بٹ صاحب کو کال کی کہ بندہ بھیج رہا ہوں اسکے مُلزمین کو کسی بھی طرح نکالو چاہے کُچھ بھی کرنا پڑے وردی والوں کا بہت اوپر سے پیغام آیا ہے۔

میں جج بٹ کے پاس آیا اُسنے ساری ریکاڈنگز سُن کر کہا مُجھے بات سمجھ آگئی ہے لیکن ریکاڈنگز عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش نہیں ہو سکتیں۔ پہلے تُمہارے بندے کو پُولیس کے چُنگل سے نکال لیں پھر تم گواہ کو پنچائت میں ننگا کر کے اُسے گواہی سے ہٹاؤ پھر ہی میں پکّی ضمانت لے سکوں گا۔ جج صاحب نے کہا جیسے میں کہوں کرتے جاؤ۔

پھراُس نے کہا تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میں ڈاکٹر شفیق سے مل لو وہ جتنے پیسے مانگے دےدینا۔ میں اُسے فُون کر کے سمجھا دیتا ہوں کیا کرنا ہے۔ ڈاکٹر نے بیس ہزار لیے۔

پُولیس نے جیسے ہی ملک خالد صاحب کو ریمانڈ کے لیے پیش کیا جج بٹ صاحب نے کہا مُلزم کی حالت خراب لگتی ہے اسے فوراََ تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال لے جاؤ۔ آگے ڈاکٹر شفیق تیار بیٹھا تھا اُس نے مُلزم کی حالت تشویشناک لکھ کر نشتر ریفر کر دیا۔ نشتر میں ڈاکٹر پہلے ہی فون کر کے بات کر چُکا تھا۔ نشتر والوں نے مریض اپنے پاس رکھ لیا۔ پُولیس کو لینے کے دینے پڑ گئے۔

اُدھر دوسری طرف مُجھے پتا چلا کہ پُولیس کے جھو ٹے گواہ کا چچا سنانواں کے ملک رفیق کھرکا خاص آدمی تھا۔ میں ملک رفیق کھر سے ملا جو ربّانی کھر کے مُخالف اور سابق تحصیل ناظم تھے جن سے ہمارا دو نسلوں کا گھریلو تعلُق تھا۔ میں نے اُنہیں گواہ سے اپنی بات کی ریکارڈنگ سُنوا کر مدد مانگی۔

ملک رفیق کھر صاحب نے مُجھے کافی باتیں سُنائیں کہ تُم جس کے وکیل بنے پھرتے ہو یہ ہماری مُخالفت میں دستی کو حلقے میں لایا تھا اب اسے کہو اپنے دستی کو آواز دے۔ میں نے کہا سر آپ دستی پر لعنت بھیجیں میں آج پہلی بار کسی کام کے لیے آپکے پاس آیا ہوں آج میری عزّت کریں ہم احسان فراموش نہیں۔

بہرحال ملک رفیق صاحب نے میری بات مان لی۔ ملک رفیق نے میری موجودگی میں ایس ایچ او محمودکوٹ کو کال کر کے کہا آئندہ سیّد پر جھوٹی گواہی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش مت کرنا یہ مُعاملہ میں اب خُود دیکھ رہا ہوں۔ ایس ایچ او کیس سے پیچھے ہٹ گیا۔

پھر ملک رفیق کے کہنے پر پرگواہ سیّد صاحب نے عدالت میں پُولیس کا کچا چٹھا کھول دیا تو جج نے ملک خالد صاحب کی ضمانت لے لی۔

میں تو ملک صاحب کی ضمانت کے بعد کینیڈا آگیا۔ جج کے ریڈر نے ملک خالد صاحب کو بُلوایا اور کہا کہ ضمانت تو ہو گئی ہے البتّہ کیس دس سال تک چلے گا کیونکہ بہرحال بنام سرکار کیس ہے سرکاری وکیل اور پی ایس او کے افسران کو راضی کرنا پڑے گا اس کیس میں گیارہ مُلزمان ہیں اگر آپ ہر مُلزم سے ایک لاکھ اکٹھا کر کے دے سکیں تو میں چند پیشیوں میں کیس ختم کروا دیتا ہوں۔ پھر ایسا ہی ہوا۔

آخر میں جج بھی یہ پتہ ہونے کے باوجُود کہ کیس جھوٹا ہے گیارہ لاکھ لے گیا۔

یہ ایک واقعہ نہیں میرے مُعاشرے کی تصویرہے۔ یہ گواہ۔ یہ وڈیرہ یہ ایس ایچ او یہ غلیظ جج یہ لفافے صحافی یہ راشی ڈاکٹر یہ ناجائز مُعزّز میرے یہ جعلی عوامی نُمائندے ، عوام نامی یہ بیس کروڑ زندہ لاشیں یہ مظلوم ملک خالد میرے ہر شہر میں ہیں۔

میں آرمی کی مُلکی اور خارجہ پالیسی میں مُداخلت کا بہت بڑا ناقد ہونے کے باوجود اللہ کا شُکر ادا کرتا ہوں کہ کم از کم ایک ادارہ تو ایسا موجود ہے جو ان لاشوں کو اپنی کمر پر لادے انکی تدفین کی فکر میں ہے۔ آرمی کو بیرک میں بھیجیں تو کیا یہ کھر گورمانی، قُریشی، دستی ، ٹوانے ، لغاری، مزاری، مداری اور ان جیسی سیکڑوں جدی پُشتی گدھیں مُلک سمبھالیں گی؟

میں اور میرے جیسے دیگر چُغد جمہوریت جمہوریت الاپتے نہیں تھکتے حالانکہ ہم بخُوبی جانتے ہیں یہ جمہوریت نہیں ہماری عزت کا جنازا ہے۔ اب یہ کھر گورمانی، قُریشی، دستی ، ٹوانے ، لغاری، مزاری اور ان جیسے باقی گدھ عمرانی ٹوپی پہن کر نیا پاکستان بنائیں گے۔ اب ساٹھ سالہ ملک خالد کہاں جائے۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں