119

سیاسی اجارہ داری کا خطرہ۔

آج سے صرف چند ماہ پہلے تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خوش قسمتی کااستعارہ، جلا وطنی کاٹ کر پھر سے اہل وطن کےکندھوں پر سوار ہو جانے والا تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے عبرت کا نشان بن جائے گا اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے پھریں گے….. واپس آئے گا یا نہیں آئے گا؟ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے لیکن جو ہوچکا وہ بھی بہت کافی ہے بشرطیکہ کھال اور دماغ موٹے نہ ہوں۔

ان کی بددماغی، بدنیتی، بددیانتی اور بدنظمی کی نحوست پورے ملک پر چھائی ہوئی ہے۔ ’’ترقی ترقی‘‘ کا شور مچانے والے کے سمدھی شریف ڈار نے ملکی معیشت کو اس طرح ڈسا ہے کہ اس کے اثرات مدتوں زائل نہ ہوسکیں گے۔ اندرونی، بیرونی قرضے، زرمبادلہ، ایکسپورٹ کی تباہی وغیرہ تو چھوڑیں، تازہ ترین جھٹکا ملاحظہ فرمائیںکہ نیپرا نے ایک یونٹ بجلی کی قیمت3روپے 90 پیسے تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے جس کے منفی اثرات دال دلئے تک بھی محسوس کئے جاسکیں گے اور تب شاید بہت سے مہربانوں کو گزشتہ انتخابی مہم کے دوران میری کہی گئی یہ بات یاد آئے کہ ان کو آ تو لینے دو، عوام کی چیخیں چانگڑیں مریخ تک سنائی دیں گی۔ ادھر پٹرول بھی غائب، سپلائی 60 فیصدکم اور کئی پٹرول پمپس بند۔ یہ تو کچھ بھی نہیں، اس سے بدترکا انتظارکریں کہ زہریلے ڈاروں یعنی کانٹوں کی یہ فصل ہم سب نے مل جل کر کاشت کی ہے۔ جس ملک کا وزیرخزانہ ہی چور ہو اس کے خزانے سے بھوک، ننگ، بیروزگاری، غربت، افلاس نہیں تو کیا ’’ویلفیئر اسٹیٹ‘‘ نکلے گی؟

اس سمدھی شریف وزیر خزانہ کے گھر کا نام ہے۔ ’’ہجویری‘‘ اور کام ہے رقموں ہندسوں کی ہیراپھیری اور نواز شریف فیملی کو اس ’’باعزت مقام‘‘ پر پہنچانےوالا فنکار بھی یہی ہے ورنہ میاں صاحب مقامی ہیرپھیر سے آگے کے گاہک نہیں تھے۔ ڈار فنکار نے ہی انہیں پیسے کی ڈرائی کلیننگ اور ٹریولنگ کے طریقے، نسخے، فارمولے بتاکر یہاں تک پہنچایا۔ کاش کبھی کوئی جلاوطنی پارٹ ٹو کو اس کی عزیز ترین ہستی کی قسم دے کر پوچھے کہ کیا ڈار ہی ان کی سیاست و عزت کے تابوت کا پہلا اور آخری کیل نہیں؟ ڈھیٹ اتنا کہ وارنٹ گرفتاری، چھاپوں، اکائونٹس، اثاثے منجمد ہونے پربھی وزارت سے چپکا ہوا ہے تو یہی ہونا بھی چاہئے تھاکہ ’’بودی پان شاپ‘‘ پر اس سے بہتر تربیت ہوہی نہیں سکتی۔

یہ خبر پڑھ کر میرے دل پر ہاتھ پڑا کہ اسحاق ڈارکے بنک اکائونٹ محنت سے کمائے حلال ترین 87کروڑ پڑے کے پڑے منجمد ہوگئے۔ یہ معمولی سی ریزگاری ٹائپ رقم لاہور کے 2 نجی بنکوں کی برانچوں میں موجود ہے۔ اسحاق ڈار کی پاکستان میں بھی اربوں روپے کی جائیداد ہے اور یہ بھی اپنے مالکان کی طرح منی ٹریل دینے سےقاصر۔ قتل وغیرہ کے مقدمات میں ’’کاز آف ڈیتھ‘‘ یعنی وجۂ مرگ کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ کل کلاں جب نوازشریف کے زوال اور سیاسی موت کی چھان بین ہوگی تو مجھے یقین ہے ’’کاز آف ڈیتھ‘‘ کے خانہ میں اسحاق ڈار کا نام دیکھنے کو ملے گا۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق ’’ن لیگ میں دراڑوں پر نوازشریف سخت پریشان ہیں۔

شاہد خاقان عباسی، چوہدری نثار علی خان، خواجہ آصف اور احسن اقبال وغیرہ جیسے لوگ ایک دوسرے کو مسلسل ٹارگٹ کئے ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں ن لیگ تنکوں کی طرح بکھرتی نظر آ رہی ہے۔ ن لیگی رہنمائوں میں تنائو بتدریج بڑھتا چلاجارہا ہے۔‘‘قارئین!گزشتہ پیرے میں ایک لفظ بھی میں نے اپنی طرف سے شامل نہیں کیا اور میرے نزدیک یہ کوئی اچھی، مثبت، صحت مند صورتحال نہیں ہے کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی پہلے ہی سندھ تک سمٹ چکی ہےاور قومی سطح پر اس کا کردار تقریباً صفر رہ گیا ہے۔ ایسے میں ’’ن‘‘ لیگ کا تنکوں کی طرح بکھرنا‘‘قطعاً کوئی نیک شگون نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں قومی سطح اور سین پر صرف پی ٹی آئی ہی باقی رہ جائے گی یعنی پھر وہی مناپلی، اجارہ داری کا سا ماحول جو ملک اور معاشرے کے لئے کسی بھی حوالہ سے بہتر نہیں کیونکہ ’’مناپلی‘‘ کاروباری ہو یا سیاسی ہمیشہ عوام دشمن ہوتی ہے۔

پاکستان جیسے معاشرہ میں ، میں تو روز ِ اول سے ’’تیسری قوت‘‘ کو بھی بہت اہمیت دیتا آیا ہوں تاکہ دو بنیادی قوتیں اپنی اوقات اور کینڈے میں رہیں لیکن یہاں تو صورتحال ’’اجارہ داری‘‘کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے جبکہ ن لیگ (چاہے ’’ش لیگ‘‘ کی شکل میں) کو قائم اور مستحکم رہنا چاہئے۔ اس کارخیر کے لئے شہباز شریف کو کوئی کڑوا، تلخ، ترش زہریلا گھونٹ بھی پینا پڑے تو گریز پرہیز سے بچنا ہوگا۔’’اجارہ داری‘‘ بھلے PTI کی ہی کیوں نہ ہو، خود PTI کے لئے بھی فائدہ مند نہیں اور ملکی سیاست کے لئے بوسہ ٔ مرگ سے کم نہ ہوگی۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں