60

زندہ جاوید لوگ۔

اس مادی دینا میں عام انسان ہمیشہ اس تگ و دو میں رہتا ہے کہ میں کچھ ایسا کروں جس سے میں اور میرے اہل خانہ خوش رہ سکیں۔ اس مادی خوشی کو پانے کے لئے آدمی دن رات محنت کرتا ہے۔ خوشی کی کوئی تسلیم شدہ تعریف نہیں مگر سادہ لفظوں میں اگر کہا جائے تو یہ ہوگا کہ خواہشات کی تکمیل انسان کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے۔ جتنی خواہشات زیادہ ہونگی محنت بھی اتنی ہے کرنی پڑتی ہے۔ مزدور کی خواہشات کم ہوتی ہیں اس لئے اگر مزدور کو سارا دن محنت کرنے کے بعد ۵۰۰ روپے مل جائیں تو وہ خو شی سے پھولا نہیں سماتا۔ اس کے برعکس ایک کلرک کی ماہانہ آمدنی پچاس ہزار بھی اس کے لئے خوشی کا باعث نہیں بنتی کیونکہ اس کی خواہشات بے تحاشہ ہوتی ہیں۔

عجیب سلسلہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ کو بھرپور اور سرعام بروئے کار لاتا ہے۔ جتنا انسان نفس کے آگے جھکتا ہے اس سے زیادہ انسان اس دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ قناعت پسندی کو خیرآباد کہ کر خودغرضی، حسد اور ذہنی پسماندگی کا دائمی مریض بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے دل سے ہمدردی، خیرخواہی، ایثار اور یکجہتی کا جذبہ بلکل ختم ہو جاتا ہے اور اس طرح انسان کا احساس بھی مر جاتا ہے۔ جس معاشرے کے انسانوں میں احساس مر جائے تو اس معاشرے میں انسانیت بھی دم توڑ دیتی ہے۔ اس کی واضع مثال پاکستان ہے۔ ۲۰ کروڑ انسان تو ہیں مگر انسانیت ختم شد۔

مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ اپنا سب کچھ لٹا کر اپنے احساس کو مرنے نہیں دیتے بلکہ ایسے پر تعفن ماحول میں بھی نفس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے نظر آتے ہیں۔

آج بھی ایک ایسا شخص ہے جس کا نام ڈاکٹر امجد ثاقب ہے جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو ۳ طلاقیں دے کر انسانیت کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ آج میری اس عظیم شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں آپ کے بارے میں کچھ لکھوں۔ میں کیا اور میری اوقات کیا۔ میں اس نیک انسان کی عظمت کو ضابطہ تحریر میں نہیں لا سکتا۔ الفاظ کی وسعت بہت کم ہے۔

ڈاکٹر صاحب بنیادی طور پہ کنگ ایڈورڈ سے سند یافتہ میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ کوئی ایک مال قبل وہ سویڈن تشریف لائے۔ ایک ہفتہ قیام کے بعد آپکو سینہ میں درد محسوس ہوا۔ ہسپتال سے رجوع کرنے پر پتہ چلا کہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔ کارولینسکا میں داخل ہوئے اور اس طرح آپ کو بائی پاس کے لئے اوپن ہرٹ سرجری سے گذرنا پڑا۔ اب اللہ کے فضل و کرم سے دن بدن بہتر ہو رہے ہیں۔ ایک نیک انسان کی تیمارداری کی خاطر آج آپکی خدمت میں حاضر ہوا۔ نہایت خندہ پیشانی سے آپ نے اور آپکی اہلیہ نے خوش آمدید کہا۔ آپکی صحت کے متعلق استفسار پر آپ نے بتایا کہ الحمدوالاللہ صحت بہتر ہو رہی ہے۔ یہاں پہ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اس طرح کی ون ٹو ون ملاقات کا موقعہ پہلی مرتبہ ملا تھا۔

رسمی جملوں کی تبدیلی کے بعد میں اپنے اصل مقصد کی طرف آیا اور آخر پوچھ ہی لیا کہ جناب آپ ڈاکٹر ہیں پھر آپ نے سول سورس جوائن کر لی اور سب کچھ چھوڑ کر مشکل ترین راستہ پہ چل نکلے۔ ڈاکٹر صاحب نہیات خوشی سے بتایا کہ جی سب کچھ ٹھیک ہے مگر زندگی کے کچھ حالات و واقعات ایسے تھے جن کو بھولنا میرے بس کی بات نہیں تھی۔ میں نے کچھ دوستوں سے کچھ پیسا لیا اور کچھ اپنا سرمایہ لگا کر اخوت پروگرام کا آغاز کر دیا۔ بلا سود غریبوں کو قرضہ مہیا کرنا اور نادار لوگوں کی مدد کرنا نصب العین تھا جو کہ آج بھی ہے۔ اب اخوت یونیورسٹی کا آغاز کر دیا ہے اور امید ہے دو سال میں اس کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا۔

ڈاکٹرصاحب بول رہے تھے اور میں پتھر کے بت کی طرح سامنے بیٹھا سن بھی رہا تھا اور سوچ بھی رہا تھا۔ بیماری کے باوجود ہمت و حوصلہ میں کوئی فرق نہیں۔ پہلے کی طرح پرعظم۔ اس نفسانفسی کے عالم میں ایسے شفیق انسان کا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ زندگی سے بہت کچھ لیا ہے اب کچھ دینے کو دل چاہتا ہے۔

یہاں یہ بھی عرض کرنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ بھی اس کام میں پر عظم ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اور باجی کو خدا حافظ کہا تو ڈاکٹر صاحب اور باجی دروازے تک میرے ساتھ آئے دعاوں کے ساتھ رخصت کیا۔

میں دوران سفر یہ سوچتا رہا کہ یہ بھی تو انسان ہے، اس کے بھی بیوی بچے ہیں، اس کی بھی خواہشات ہیں مگر کتنا فرق ہے میری خواہشات اور ڈاکٹر صاحب کی خواہشات میں۔

کچھ لوگ دوسروں سے خوشیاں چھنتے ہیں مگر یہ شخص دوسروں کی خوشی کی خاطر اپنے آپ اور اپنے بچوں کو بھی قربان کر رہا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ یہ مت سوچو کہ آپ کتنا خوش ہو یہ سوچو آپ سے کتنے خوش ہیں۔

ڈاکٹر امجد صاحب نے مولائے کائنات کے ارشاد کو صحیح سمجھا ہے۔ اور اسی قول پہ عمل کرتے ہوئے خوشیاں بانٹ رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندہ جاوید ہوتے ہیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں