98

طبلچی۔

قدیم جنگوں میں طبلچی ہوا کرتے تھے. متحارب لشکر صفیں بناتے، دو طرفہ طبلچی اپنا کام شروع کردیتے. جنگ کا ڈھول بجایا جاتا. خون گرمایا جاتا. اور پھر جنگ شروع ہوجاتی. تاریخ میں ہر جنگ کے بہادروں اور سپاہیوں کے مرنے کی داستانیں ہیں. طبلچی کے مرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں.

وقت بدلا، جنگ کا انداز بدلا. طبلچی کا ڈھول بدل گیا.

ہمارے قبائلی معاشرے میں محدود جنگوں کا تجربہ ہوجاتا ہے. جیسے کسی بڑے علاقے کو ایک چھوٹے سے کاغذ پر بنے نقشے سے سمجھا جاسکتا ہے. ایسے ہی ان محدود جنگوں میں بڑی جنگ کی سمجھ آجاتی ہے. ان جنگوں میں جنگ بھڑکانے والے طبلچی ہوتے ہیں. یہ طبلچی کچھ بھی کہہ سکتے ہیں. کچھ بھی کرسکتے ہیں. ان میں سب کچھ ہوتا ہے. بس شرم و خیا نہیں ہوتی. دونوں جانب کے طبلچی اپنی اپنی برادری کو ایک دوسرے کے سامنے کرادیتے ہیں. انکا خون گرما کر لڑوا دیتے ہیں. غیرت مند شرم و خیا والے قربان ہوجاتے ہیں. طبلچی بھاگ جاتے ہیں.

قوموں کی اجتماعی زندگی میں بھی طبلچی یہی کردار ادا کرتے ہیں. بس انکو پہچاننا ہوتا ہے.

یہ لا حاصل نعرے مارتے ہیں.

جلوس نکالتے ہیں.

اپنی سڑکوں کو برباد کرتے ہیں.

کچھ جنگی وردیاں پہن لیتے ہیں.

جنگی ترانے گاتے ہیں.

لڑنے مرنے کے عہد کرواتے ہیں.

لیکن یاد رکھیں. یہ طبلچی کھبی جنگ نہیں لڑتے. انہوں نے کھبی لڑی ہی نہیں. انکا کام بس یہی ڈھول بجانا ہے. جنگ کا ایندھن ان غیرت مند مزدوروں محنت کشوں نے بننا ہے. جو شرم سے نعرہ نہیں لگاسکتے لیکن غیرت سے سینے پر گولی کھا سکتے ہیں. جنگیں قومیں اپنی بقا پر لڑتی ہیں. جس قوم نے ان طبلہ بازوں کو اپنی اجتماعی دانش سونپ دی. وہ جنگ سے پہلے جنگ ہار چکے ہوتے ہیں.
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں