45

اللہ کا حقیقی دین.

دین اللہ کا ہے اوراللہ کے ہردین کا ہر نُکتہ اُس دین کے لانے والے نبیؑ پر بھی اُتنا ہی فرض ہوگا جتنا اُس نبیؑ کی اُمّت پر۔ کوئی بھی ایسی چیز دین کا لازمی حصّہ نہیں ہو سکتی جس پر ایمان رکھنا کسی نبیؑ کے لیے تو لازم نہ ہو لیکن اُس نبیؑ کی اُمّت پر لازم ہو۔

مُحمدﷺ کو ایک لمحے کو ذہن میں لائیے اور سوچیے کہ جو ہزاروں باتیں اور شخصیّات آج آپکے فرقوں نے آپکے ایمان کے لیے لازم کردی ہیں کیا نبیﷺ کے لیے بھی اُن پر ایمان لازم تھا؟

ہرگز نہیں۔

حضرت مُحمدﷺ کے ایمان کے لیے نہ کوئی فِقّہ لازم تھی نہ کوئی فرقہ۔

نہ کوئی امام لازم تھا نہ کوئی خلیفہ،

نہ آپﷺ کے اہلِ بیتؓ ہی آپﷺ کے ایمان کا بُنیادی جُز تھے۔

اُنپر تو اللہ نے اُنکے لیے اور ہمارے لیے قُرآن نازل کیا جو ہم پر فرض ہے۔

اُسی قُرآن کی عملی تشریح بھی اُنہوں نے اپنی حکمتِ عملیوں کی صُورت میں قائم کردی.

اُنکی حکمتِ عملییوں کے رہنُما اُصُول یعنی سُنّت بھی ہم پر فرض ہے۔

ان دو کے سوا فرض کیے گئے تمام افراد کے بُت اور نظریات بھُول بھُلیّاں ہیں۔

اگر بھُول بھُلیّاں اللہ کے دین کا فرض ہوتیں تو نبیﷺ کے ایمان کا بھی حصّہ ہُوتیں۔

کُچھ بھی ایسا نہیں جو مُجھ پر تو لازم ہو میرے نبیﷺ پر لازم نہ ہو ک

یونکہ یہ اللہ کا دین ہے اور اللہ کا دین نبیوںؑ اور اُمّتیوں پر یکساں فرض ہوتا ہے۔

اللہ نے اگر دین نبیﷺ کی زندگی میں مُکمّل کر دیا تھا تو پھر میرے دین میں قُرآن و سُنّت کے علاوہ ایک نُکتہ بھی شامل نہیں۔

ابھی وقت ہے فرقوں کی بھُول بھُلیّوں سے نکل کر اُسی دین پر لوٹ جائے جو خُود مُحمدﷺ پر بھی لازم تھا

آپسے بس وُہی درکار ہے۔

وہ دین تو قُرآن ہے

قُرآن جو بہت سادہ اور آسان ہے

جس میں کوئی تضاد نہیں

اسی قُرآن کی عملی تشریح وہ کام ہے جو نبیﷺ پر بھی لازم تھا ہم پر بھی لازم ہے۔

مُحمدﷺ کا کام ہی اُنکی سُنّت ہے۔

میں لفظ سُنّت نبویﷺ استعمال کروں تو یہ جان لیا کریں کہ اس سے میری مُراد میرے نبی کے اعمال اور اُنکی طرف سے اختیار کی گئی دفاعی یا معاشی، سماجی یا سیاسی الہامی مساوات کے نفاظ کی حکمت عملیاں ہیں۔

حضرت مُحمدﷺ کے لباس یا اُنکے حُلیے کو میں سُنّت کے پہلے حرف ’’س‘‘ کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔

مُحمدﷺ کا کام ہر زمانے کے لیے کُچھ ایسی حکمتِ عملیوں کی ترکیب اور ترتیب وضع کرنا تھا جس میں جنگ، امن، معیشیت، مُعاشرت، سیاست اور زندگی کے ہر شُعبے کے لیے عملی رہنُما اُصُول یعنی سُنّتیں ہوں۔

ایسے اُصُول یعنی سُنّتیں جن پر وقت، خطے اور ثقافت کی تبدیلی سے کوئی فرق نہ پڑے۔

مُحمدﷺ کی شکل میں ایک ایسے نبی کو بھیجا گیا جو آخری رسُول بھی تھے اور اللہ کی جانب سے بھیجی جانے والی ہر قسمی وحی کا سلسلہ مُکمّل اور بند کرنے والے تھے۔

مُحمدﷺ کی انفرادیت یہ تھی کہ قیامت تک کے ہر دور کے انسانوں کے لیے انہیں ہی ایسی سُنّت یعنی حکمتِ عملیاں چھوڑنی تھیں جو ہر قسم کے حالات میں قابلِ عمل ہوں۔

مُحمدﷺ کوئی مذہب یا علاقائی ثقافت نہیں ایک ایسا دین لائے تھے جسے مُختلف موسمی حالات میں رہنے والی دُنیا بھر کی ثقافتوں نے اپنانا تھا۔

یہ مُمکن ہی نہیں کہ سائبیریا یا رُوس اور ناردرن کینیڈا میں رہنے والے لوگ منفی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ میں نبیﷺ جیسا لباس پہن کر یا حُلیہ اپنا کر ایک گھنٹہ بھی زندہ رہ سکیں۔

جبکہ رسولﷺ کی ہر حکمت عملی سرد و گرم خطّوں سمیت دُنیا کی کسی بھی ثقافت میں رہنے والا فرد اپنا کر آخری نبیﷺ کا نہ صرف نُمائندہ بن سکتا ہے,

بلکہ نبی و رسُولﷺ کی سُنّتیں یعنی حمکتِ عملیاں اکیسویں صدی میں بھی جبر کے نظام کے خلاف مؤثّر ترین ہتھیار ثابت ہونگی۔

سُنّت نبویﷺ کے اُصُول اتنے یُونیورسل نوعیّت کے ہیں کہ پچاسویں صدی کا کوئی بھی مُحقّق عالم سُنّت نبویﷺ کا نمُونہ بن کر نہ صرف اپنے دور کی ضرُوریات، حقائق اور مسائل کے عین مُطابق مساوات پر مبنی نظام ہائے زندگی تشکیل دے سکتا ہے بلکہ کسی بھی دور کے کسی بھی خطّے کا کوئی بھی انقلابی لیڈر نبیﷺ کی بحیثیّت رسُول سُنّت پر عمل کر کے مذکُورہ نظام ہائے زندگی کا نفاذ کر سکتا ہے۔

مُحمدﷺ کی ایک انفردیت یہ بھی ہے کہ اِن سے پہلے ہر نبی کا پیغام اور ہر رسُول کی سُنّت اللہ کے بڑے منصُوبے کا ایک چھوٹا ٹُکرا تھی

لیکن مُحمدﷺ کا پیغام چُونکہ تمام نبیوں کے پیغام کا جامع کُل تھا لہٰذا مُحمدﷺ کی سُنّت بھی لا مُحالہ تمام انبیاء کی سُنّوں کے مجمُوعے کا ایک ایسا کُل ہے جو کسی اکیلے نبی کی سُنّت سے بالکُل مُنفرد ہے۔

فِرقوں نے رسُول کی سُنّت کو تو کیا سمجھنا تھا مُحمدﷺ کی بطور نبی سُنّت کو بھی نبی کی عادات و اطوار، ثقافت اور حُلیے میں قید کر دیا.

لہٰذا یہ اُسی کی تبلیغ کرتے ہیں جسے یہ سُنّت سمجھتے ہیں اور جسکا نہ تو سُنّت سے کوئی تعلُق ہے نہ دین سے نہ دُنیا کے ہر خطّے سے۔

یہ نہ نبیﷺ کو جانتے ہیں نہ قُرآن کو نہ اپنی تخلیق کے مقصد کو اور نہ ہی نبوّت اور رسالت کے خُود سے تعلُق کو۔

یہ رسُول کے رسُول تو کیا بنتے یہ تو انسانیت کی تخلیق کے مقصد سے بھی واقف نہیں۔

تبھی انکے ہاں عقیدے اور ایمان کی کمزوری بھی عیاں ہے۔

عبادات کا بھی فِرقوں کے ہاں بس جسم موجُود اور روح ناپید ہے۔

اپنے دل و دماغ میں بٹھا لیجیے کہ قُرآن اور سُنّت ہی لازم دین ہے

یعنی قُرآن کے علاوہ دین بس وھی ھے اور اتنا کچھ ھی درکار ھے جو مُحمدﷺ نے کیا اوراُسی وقت اُمّت میں رائج کر دیا۔۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں