62

صحابہؓ کون تھے۔

صحابہؓ عمُوماََ اُن لوگوں کو کہا جاتا ہے جنہوں نے ایمان کی حالت میں نبیﷺ کو دیکھا۔

یہ کم و بیش ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگ تھے جو مکّہ اور مدینہ کے گردو نواح میں رہتے تھے۔

ان لوگوں نے جلد یا بدیر نبیﷺ کے پیغام پر لبّیک کہا اور اکثر نے دل و جان سے نبیﷺ کے حُکم پر اپنی زندگیاں اسلام کے لیے وقف کر دیں۔

ان میں بعض دُوسروں پر سبقت لے کر سابقُون کہلائے.

بعض کی خدمات ایسی تھیں کہ اُنہیں دُنیا میں ہی جنّت کی بشارت ملی۔

دیگر کو اللہ نے اُنکی خدمات کی وجہ سے خُوشخبری دی کہ وہ اُن سے راضی ہے.

لیکن جان لیجیے وہ آپ جتنی اور مُجھ جتنی عقل والے انسان تھے اور اُنکے ذمّے بھی وہی کام تھا جو میرے اور آپکے ذمّے ہے۔

اُنہیں مخصُوص مسائل، وسائل اور حقائق دے کر ساتھ میں قُرآن اور نبیﷺ کی زندگی کا نمُونہ دے دیا گیا اور اُنہوں نے انکی روشنی میں اپنے وقت کے مُطابق نظام بنائے اور اللہ کی رضا حاصل کی.

مُجھے اور آپکو وہی قُرآن اور نبیﷺ کی زندگی کا وہی نمُونہ دیا گیا ہے لیکن ہمیں مسائل حقائق اور وسائل الگ دیے گئے ہیں اور ہم نے جو کام کرنا ہے وہ اپنے اُصول میں صحابہ جیسا ہے لیکن ہم اپنے قُرآن اور سُنّت سے اپنے مسائل حقائق اور وسائل کے مُطابق نظام ہائے زندگی تشکیل دینے ہیں۔

قُرآن کہتا ہے شُروع کے لوگوں یعنی صحابہؓ میں کثیر تعداد میں سابقُون یعنی سبقت لے جانے والے تھے درمیان کے ادوار میں بھی سابقُون ہونگے اور آخری دور کے لوگوں میں بھی کم تعداد میں سابقُون ہونگے۔

آپ کو یہ نُکتہ سمجھنا ہو گا کہ صحابہ باہمی فطری اختلافات کے باوجُود ایک جماعت رہے.

اور فرقوں میں بٹ کر اسلام کو کمزور کرنے کا باعث نہیں بنے۔

یعنی اتّحاد جو قُرآن کا سب سے بڑا موضُوع ہے صحابہؓ اُسکی عملی تصویر تھے.

حالانکہ ہر صحابیؓ کی ذہنی استعداد ، حیثیّت ، اہلیّت ، سمجھ بُوجھ اور زندگی گُزارنے کا طریقہ ایک دُوسرے سے مُختلف تھا۔

صحابہ کی اہلیّت ، ذہانت اور عقل میں بھی ویسی ہی ڈائورسٹی تھی جیسی ہم میں ہے۔ بس مسائل حقائق اور وسائل مُختلف تھے۔

اپنے دور کے مسائل حقائق اور وسائل کے تناظُر میں صحابہؓ نے قُرآن کو سمجھا اور پھر سُنّت نبویﷺ کے اصُولوں کی روشنی میں انسانیت کی فلاح کے لیے اپنے دور کے مُطابق ایسے نظام ہائے زندگی تشکیل دیے کہ جن میں انسان کی عظمت اور توقیر یقینی بنی اوراسی ذمّہ داری نے نے اُنہیں سابقُون بنایا۔

بعد کی صدیوں نے بھی سابقُون دیکھے ہونگے۔

قُرآن نے تو آج بھی سابقُون بننے کا دروازہ کھُلا رکھا ہے.

بس قُرآن کو زندہ ماننا ہوگا اور یہ ادراک کرنا ہوگا کہ ہمیں بھی صحابہؓ کی طرح اپنے دور کے مسائل ،حقائق اور وسائل کے تناظُر میں قُرآن سے تازہ اور مُسلسل رہنُمائی لینی ہے۔

آپ مزید صحابہؓ، آئمّہ اور پچھلی صدیوں کے مُفسّرین کی اوٹ میں نہیں چھُپ سکتے۔

اُن سب سابقُون پر اپنے دور کی ذمّہ داری تھی آپ پر آجکی ذمّہ داری ہے۔

قُرآن کل بھی بولتا تھا آج بھی بولتا ہے۔

اگر آپ کو نہیں سُنتا تو مان لیجیے کہ آپ چُونکہ قُرآن کی رُوح کے خلاف نامی اور بے نامی فرقوں میں بٹے ہیں لہٰذا قُرآن نے آپکی نیّت بھانپ کر آپ پر اپنی حکمت کا دروازہ بند کر دیا ہے۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں