109

میرے مُحمدﷺ

میں مُحمدﷺ کی طرح یتیم بھی پیدا نہیں ہُوا۔ میری حمایت میں بولنے والے بھی بہت ہیں میں مالی طور پر بھی غارِ حِرا میں پہلی وحی پانے کے دن والے مُحمدﷺ سے زیادہ خُوشحال ہُوں لیکن جب میں فرقوں کے بُتوں کی نشاندہی کرتا ہُوں یا اپنے مُلک کے نظام کے بُتوں کے خلاف بات کرتا ہُوں یا خالص اللہ اور اُسکے قُرآن کی بات کروں تو ہزار قسم کے ڈر میرے آڑے آتے ہیں۔ کبھی ڈر ہوتا ہے کہ بُت پرست مُلّا نہ مروا دے ، کبھی اہلِ بیت اور صحابہؓ کے بُت بنا کر اُنکی پرستش کرنے والوں کا خوف اور کبھی نظریاتی تنہائی کا خوف مُجھےحق بات کہنے سے روکتا ہے۔

دُوسری طرف مُحمدﷺ کو پہلی وحی ملتے ہی اُن تمام خطرات کا ادراک ہو گیا ہوگا جنکا پیغامِ توحید عام کرنے کی صُورت اُنہیں سامنا ہونے والا تھا

اور یہ ایسے حقیقی خطرات تھے جو مُجھے درپیش خطرات سے لاکھوں گُنا وزنی تھے۔

مُحمدﷺ کی زندگی پر پر اپنی کتاب

For The Love of Prophet: Reflections of an ordinary Man in 21st Century

شُروع کرنے کے بعد میں نے شُروع میں پانچ سو کے قریب ایسی احادیث سےمدد لی جن کی یا تو قُرآن سے تصدیق ہوتی ہو یا وہ قُرآن سے مُتصادم نہ ہُوں،

لیکن میری تشنّگی برقرار رہی کیونکہ جیسا کہ کتاب کے عُنوان سے ظاہر ہے کہ یہ سیرتِ مُحمدﷺ پر کوئی کتاب نہیں بلکہ مُحمدﷺ کے بارے میں اکیسویں صدی کے ایک جدید ذہن کے ریفلیکشنز ہیں۔

پھر قُرآن کی وہ آیات الگ کرنی شُروع کیں جو مُحمدﷺ کے حالاتِ زندگی کا پتہ دیتی ہیں،

یہ سلسلہ ابھی جاری ہے لیکن تحقیق کے اِس دُوسرے مرحلے میں یہ احساس ہونا شُروع ہُوا کہ اللہ سے بہتر مُحمدﷺ کے خیالات اور حالات نہ کوئی روایت بیان کر سکتی ہے نہ کوئی راوی۔

کیونکہ جو آیات بالخصُوص مُحمدﷺ سے اللہ کا خطاب ہیں قاری کو گویا اُسی ماحول میں لے جاتی ہیں جس میں میرے مُحمدﷺ سانس لیتے ہیں۔

میں نے مُختلف سُورتوں سے ابھی تک تین سو کے قریب ایسی آیات الگ کر کے اپنی کتاب کے لیے ریویُو کیے جانے لٹریچر میں اکٹھی کی ہیں اور مُحمدﷺ کے بارے میں لکھنا شُروع کرنے سے پہلے ایک بار اُن پر پھر سے نظر ڈالتا ہُوں۔

اللہ کا سیرتِ مُحمدﷺ بیان کرنے کا انداز ہی ایسا ہے کہ مُحمدﷺ جیسے مُجھے اپنے حواس پر چھائے محسُوس ہوتے ہیں اور میں چشمِ تصوُر سے اُنکے گردوپیش کو دیکھ سکتا ہُوں۔

ایسا کرتے جب غارِ حِرا میں آپﷺ پر پہلی وحی کے نُزول کے بعد مُحمدﷺ کے احساسات پر غور کرتا ہُوں تو خیال آتا ہے کہ وحی کے طاقتور الفاظ نے آپﷺ کو یہ تو باور کروا ہی دیا ہے کہ یہ پیغام انفرادی نہیں اجتماعی ہوگا

اسے دُنیا تک پُہنچانا ہی ہوگا

اور یہ خیال آتے ہی آپﷺ کے ذہن میں اپنے گردوپیش کا نقشہ آنا یقینی تھا۔

جب یہ خیال میرے ذہن میں آتا ہے تو میرے نبیﷺ کے ذہن میں آنا تو لازم تھا کہ اُنہیں ہی اپنے سے کئی گُنا طاقتورایسے لوگوں کے سامنے پیغامِ توحید رکھنا ہے جنکی ایک آواز پر پُورا عرب لبیک کہتا ہے۔

مُحمدﷺ یہ بھی بخُوبی جانتے تھے کہ جو پیغامِ توحید وہ لے کر اس غار سے باہر قدم رکھیں گے اُسے سُنتے ہی طاقتور طبقہ اسے اپنی نسلوں سے مُنتقل ہوتی طاقت کو خطرے میں محسُوس کرے گا اور مُحمدﷺ کو تنہا کر دیا جائے گا۔ یہ بھی مُمکن ہے کہ قتل کر دیا جائے۔

میں محسُوس کر سکتا ہُوں کہ غارِ حِرا سے باہر نکلنے سے پہلے مُحمدﷺ کو یہ خیال آنا بھی لازم تھا کہ وہ تو یتیم پیدا ہُوئے تھے،

نہ کوئی بھائی نہ بہن۔

لے دے کر ایک چچا اُنکے سرپرست ہیں اور اُنکی سرداری بھی اُسی نظام کی مرہُونِ مِنّت ہے جسے اس پیغامِ توحید سے خطرہ ہوگا جو ابھی ابھی آپﷺ پر نازل ہُوا ہے۔

اگر چچا آپﷺ کا ساتھ دینگے تو سرداری بھی جائے گی معیشیت بھی۔

چچا نے ساتھ نہ دیا تو پھر اکیلی خُدیجہؓ ہی اُنکے ساتھ ہونگی۔

ابھی تو وحی ملنے کے بعد خُدیجہؓ سے بھی بات نہیں کی

وہ بھی تو جان جائیں گی کہ پیغامِ توحید دراصل بُت پرستی کے نظام سے جُڑے لوگوں کو مُحمدﷺ کا بدترین دُشمن بنادے گا۔

کیا خبر خدیجہؓ اس ادراک کے بعد آپﷺ کا ساتھ دیں یا نہ دیں۔

میرے مُُحمدﷺ بے پناہ ذہین تھے,

اُنہوں نے پہلی وحی ملنے کے بعد اور غارِ حرا سے نکلنے سے پہلے ابُوجہل اور ابُولہب کے ردّعمل اور اُسکے نتائج پر بھی غور کیا ہوگا جنکا اثر عرب پر اتنا تھا کہ اُنکا پہنا رواج بن جاتا

اُنکے الفاظ حکیمانہ مانے جاتے۔

مُحمدﷺ جانتے تھے کہ ابُوجہل کی حکمت پیغامِ توحید کی مُتضاد ہے اور اپنا اثر مٹی میں ملتے دیکھ کر وہ پُورے عرب کو آپﷺ کا دُشمن بنا دے گا ۔

مُحمدﷺ پہلی وحی آتے ہی جان گئے ہونگے کہ جو پیغام اُنکے ذمّے کیا گیا ہے وہ عرب کے ہر بڑے، بُوڑھے، جوان، مرد،عورت اور بچوں کے اُس اجتماعی ایمان کا مُتضاد ہے جو اُنہیں وراثت میں ملا ہے۔ آپﷺ کو علم تھا کہ آپﷺ کا پیغامِ توحید مُعاشرے کے ہر فرد میں آپﷺ کے لیے نفرت اور غُصّہ بھر دے گا کیونکہ اللہ کے معبُود ہونے کا صاف مطلب اُنکے تین سو ساٹھ ظاہری معبُودوں کی مذمّت تو ہوگی ہی

ساتھ میں آپﷺ کا پیغامِ توحید اُن مُعاشرتی روایات اور نظام ہائے زندگی کی بھی نفی کرے گا جو صِفّت میں مُعاشرے کے معبُود ہیں

یعنی مُحمدﷺ غارِ حِرا سے نکلنے سے پہلے ہی جانتے تھے کہ اس پیغام سے مُعاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام پر ضرب لگے گی

اور یہ ضرب ان نظاموں کے بینیفشریز کو اُنکا جانی دُشمن بنا دے گی۔

میری کتاب کے تیسرے باب میں اُن تمام حقائق کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جو غارِ حرا سے پہلی وحی پاکر نکلتے ہُوئے مُحمدﷺ کے سامنے ایک ایسی دیوار بن کر کھڑے ہونگے جسے عُبور کرنے والا یقیناََ انسانی تاریخ کا سب سے بہادُر آدمی کہلائے گا۔ اس چیپٹر کا اُردو عُنوان تجویز کیجیے انگلش عُنوان پیشِ خدمت ہے۔

Becoming the Prophet: Socio-Psychological considerations of the journey ahead
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں