118

بلا عنوان۔

تھامس ایڈیسن مشہور سائنسدان تھا. بےشمار ایجادات کو پیٹنٹ کروانے والے اس سائنسدان نے ایک بلب کے کامیاب تجربے کیلئے دس ہزار ناکام تجربات کئے تھے. جب اس کے نو ہزار ناکام تجربات ہوچکے تھے تو ایک اخبار والے نے اس سے پوچھا تھا. آپ کو نہیں لگتا کہ آپ ناکام ہو چکے.؟ تھامسن ایڈیسن نے کہا ” میں ایسا کیوں سوچوں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان نو ہزار طریقوں سے الیکٹرک بلب نہیں بن سکتا.”

ہر کامیاب تجربے کے پیچھے بہت سی ناکامیاں ہوتی ہیں. ایک شاندار پینٹنگ کے پیچھے مصور کے سیکڑوں دنوں کے غلط سٹروکوں پر مسترد محنت ہوتی ہے. ایک خوبصورت عزل کے پیچھے شاعر کے بہت سے صفحات ڈسٹ بن کی زینت بن چکے ہوتے ہیں.

ہمارا اجتماعی رویہ کسی کی ایسی کاوش پر کامیابی سے پہلے ہمت دلانے کا کم ہی ہوتا ہے. اس لئے سائنسدان اپنی لیبارٹریوں میں سمٹ گئے مصور اپنی تخلیق مکمل ہونے سے پہلے کسی کو دکھانے سے باز آئے. تنقید دنیا کا آسان ترین کام ہے. اور تحقیر شائد اس سے بھی آسان ہے. دونوں میں کرنے والا خود کچھ کرتا نہیں لیکن لاشعوری اسکی خواہش یہی ہوتی ہے کہ دوسرا بھی کوئی تعمیری کوشش نہ کرے.

تنقید تعمیری تب ہوتی ہے جب آپ کسی کی کوشش کی حامی کو اجاگر کر کے اسے تعمیری راہ پر ڈال دیں. یہ تنقید ہمت افزائی کے انداز میں ہوتی ہے. تحقیر میں اس کوشش اور ایسی کوشش کرنے والے فرد کا مذاق اڑایا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل تائب ہوجائے.

اس فورم پر لوگ فی سبیل اللہ اپنا مطالعہ تحقیق اور تجربہ بہم پہنچاتے ہیں. ہمارے سامنے کچھ عام لکھنے والے اب گوہر بن چکے. یہ کھبی اچھا خیال و تجربہ کھبی کمزور دیتے ہیں. بتدریج تعمیر کی راہ ہے. یہاں آپ زیادہ سے زیادہ لائک اور کمنٹس ہی کرسکتے ہیں. تعمیری تنقید کریں گے تو لکھنے والا بہتر سے بہترین کی راہ پر چلے گا. تحقیر سے اچھے لوگ بتدریج اس فورم پر سمٹتے چلے جائیں گے. اور آخر میں ان ویران دیواروں کے پاس صرف بھونکنے والے ہی رہ جائیں گے.
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں