95

قائدِ اعظم یونیورسٹی اور طلبا سیاست۔

قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں طلبا کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لیے طلبا کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی اور طلبا کو صحت مند ثقافتی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی سوچ کے تحت بلوچوں، سندھیوں، پشتونوں اور پنجابیوں کی کونسلز تشکیل دی گئیں۔ میری نظر میں یہ انتہائی عاقبت نااندیش فیصلہ تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاسی وابستگیاں اور نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ لہٰذا ایسے ماحول میں اختلاف اور تلخی کے باوجود تقسیم اتنی گہری نہیں ہوتی کہ اپنے وجود کے علاوہ ہر وجود کو حقیر جانا جائے اور اس سے شدید نفرت رکھی جائے۔

اس کے برعکس لسانی تفریق انسان کو تنگ نظر اور احساسِ کمتری یا احساسِ برتری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ تقسیم کی لکیر اتنی گہری ہوتی ہے کہ انسان کچھ بھی کر لے لیکن ایک لسانی گروہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے لسانی گروہ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ اور قائدِ اعظم یونیورسٹی میں بھی یہی ہوا۔ ملک کے پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہونے والے طلبا میں جب انتظامی سطح پر لسانیت کا زہر گھولنے کا بندوبست کیا گیا تو کئی سال گزرنے کے بعد آج وہ لگایا گیا پودا ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

ماضی میں ہوئے لسانی جھگڑوں اور فسادات کی وجہ سے اگرچہ آفیشل سطح پر تمام لسانی کونسلز پر پابندی لگ چکی ہے لیکن ان آفیشل سطح پر تمام کونسلز پوری طرح فعال ہیں۔ اسی فعالیت کی ایک مثال کچھ ماہ پہلے یونیورسٹی میں سندھی اور بلوچ طلبا میں ہونے والا جھگڑا تھا جس کے نتیجے میں یونیورسٹی انتظامیہ کو سیکیورٹی فورسز کو بلا کر آپریشن کروانا پڑا۔ اور کچھ طلبا کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ ایسا کوئی نا کوئی واقعہ تقریباً ہر سیمیسٹر میں رونما ہوتا رہتا ہے۔ ملک کی نمبر ایک یونیورسٹی میں طلبہ کا آئے روز یوں لسانی بنیادوں پر لڑنا جھگڑنا اور یوں سیکیورٹی فورسز کا طلبہ کے خلاف آپریشنز یقیناً باعثِ تکلیف اور باعثِ شرمندگی واقعات ہیں۔ اور اس نفرت پر مبنی تقسیم کا ہمیشہ سے ایک نقصان یہ بھی رہا ہے کہ تمام کونسلز کبھی کسی مشترکہ کاز پر اکٹھی نہیں ہوئیں۔

تین نومبر دو ہزار سات میں جب جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگائی تو پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد وہ پہلا ادارہ تھا جہاں طلبہ نے اس ایمرجنسی کے خلاف مظاہرے شروع کیے۔ جو بعد میں ملک کے دیگر تعلیمی اداروں تک پھیل گئے۔ وہ انتہائی منظم اور مثبت تحریک تھی۔ مثبت تین اعتبار سے تھی۔ پہلا مثبت اور خوش کُن پہلو یہ تھا کہ طلبا نے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقت کے طالع آزما کی طالع آزمائی کو چیلنج کیا۔ دوسرا مثبت پہلو یہ تھا کہ وہ تحریک خالص سیاسی بنیادوں پر چلی اور اس تحریک کی قیادت کرنے والے طلبا میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو خاص کسی لسانی گروہ سے وابسطہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تمام یونیورسٹی کے طلبہ جوق در جوق اس تحریک میں شامل ہوئے۔ روز مظاہرے ہوتے لیکن کوئی ایک بھی کلاس کینسل نہ کروائی جاتی۔ مظاہروں کا وقت ہی ایسا رکھا جاتا جس میں کوئی کلاس نہ ہوتی ہو۔ طلبا اور یونیورسٹی انتظامیہ میں اس تحریک کو شدید پزیرائی حاصل ہوئی۔ تیسرا مثبت پہلو یہ تھا کہ اس تحریک کے تمام سرکردہ رہنماؤں نے یہ طے کیا تھا کہ ہم اپنی اس تحریک میں کسی بیرونی عنصر کو شامل نہیں ہونے دیں گے۔ تقریباً تمام ملکی سیاسی جماعتوں نے اس موقع کو کیش کرنے کی کوشش کی لیکن طلبا نے اپنی منظم مزاحمت سے کسی بھی بیرونی عنصر کو یونیورسٹی کے احاطہ میں داخل نہ ہونے دیا۔ لیکن پھر تحریک کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ قابلِ رشک اور خوش کن مناظر بھی اچانک غائب ہو گئے اور لسانی تقسیم کی دھندلا جانے والی لکیریں دوبارہ واضح ہو گئیں۔

کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی میں بڑھائی گئی فیسوں کے خلاف اور طلبا کے چند دیگر جائز مطالبات کے حصول کے لیے قائدین اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے نام سے ایک متحدہ محاذ تشکیل پایا۔ طلبا نے اتنی منظم تحریک چلائی کہ انتظامیہ کو بالآخر اُن کے تمام مطالبات ماننا پڑے۔ میرے لیے یہ ایک خوش کن احساس تھا کہ شاید طلبا نے لسانی شعور کو خیر باد کہہ کر سیاسی شعور کو دوبارہ اپنا لیا ہے۔ لیکن افسوس کہ میری یہ خوش گمانی ایک سراب ثابت ہوئی۔ کچھ دن پہلے قائدین اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے یونیورسٹی کی طرف سے بڑھائی گئی فیسوں، ٹراسپورٹ کی قلت، ہاسٹلز کے ناگفتہ بہہ حالات اور گذشتہ سمسٹر میں بے دخل کیے گئے سندھی اور بلوچ طلبہ کے فیصلے کے خلاف اسٹرائیک کال کی۔ 

اسٹرائیک اتنی پرزور تھی کہ بیس دن تک یونیورسٹی میں تدریسی عمل منقطع رہا۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ ایچ ای سی اور وزیرِ اعظم تک کو اس معاملے میں داخل ہونا پڑا۔ انتظامیہ نے طلبا کے تمام مطالبات مان لیے سوائے ایک کے۔ اور وہ یہ تھا کہ یونیورسٹی سے نکالے گئے طلبا کو کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا۔ اور طلبا کا مؤقف یہ تھا کہ ہمارا سب سے بنیادی مطالبہ ہی نکالے گئے طلبا کی واپسی ہے۔ اس ڈیڈلاک کی صورتحال میں بالآخر انتظامیہ نے یونیورسٹی کھولنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ اگر یونیورسٹی کو اب مزید بند رکھنے کی کوشش کی گئی تو سیکیورٹی فورسز کے ذریعے اُن طلبا کے خلاف آپریشن ہو گا جو اس کوشش میں شامل ہوں گے۔ آج یونیورسٹی کھلی تو طلبا کے ایک گروہ نے جب تدریسی عمل کو دوبارہ معطل کرنے کی کوشش کی تو وہی ہوا کہ جس کا اعلان کیا گیا تھا۔

اب کئی سیاسی شعبدہ باز اس واقعے کو لسانی رنگ دے کر نفرت کی آگ کو مزید بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا قابلِ تحسین اور قابلِ تعریف عمل ہے۔ لیکن حق کے حصول کے لیے طریقہ بھی احسن ہونا چاہئیے۔ میری رائے میں جن طلبہ کو یونیورسٹی سے بے دخل کیا گیا تھا اُن کے لیے اپنی واپسی کے لیے زیادہ موزوں فورم عدالت تھا، نہ کہ یونیورسٹی اسٹرائیک۔ دوسری بات یہ کہ اگر قائدین اسٹوڈنٹ فیڈریشن حق پر تھی اور تمام طلبا کی انہیں تائید حاصل تھی تو انہیں چاہئیے تھا کہ یونیورسٹی کی بسوں کو باہر جانے دیتے اور تمام طلبا کو یونیورسٹی آنے دیتے اور مل کر احتجاج کرتے جیسا کہ جنرل مشرف کے دور میں ہوتا رہا۔ طلبا کو ان کے گھروں میں محصور کر کے طلبا کی نمائندگی کا دعوٰی کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔تیسری بات جس نے اس کاز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ بیرونی عناصر کی مداخلت تھی۔ جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا تھا دو ہزار سات میں جنرل مشرف کے خلاف اٹھنے والی تحریک کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ طلبا نے ہر بیرونی مداخلت کی کوشش کی مزاحمت کی۔ یہاں یہ حال تھا کہ یونیورسٹی بند کروا کے باہر سے لوگ بلوا بلوا کر یونیورسٹی میں خوب رونق کا ماحول لگایا گیا۔ کیا یونیورسٹی ناچ گانے کی محفلیں سجانے اور باہر سے بلوائے گئے لوگوں کے لیے دیگیں پکانے کے لیے بند کروائی گئی تھی؟ تحریک اور غنڈہ گردی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ لیکن اُس فرق کو سمجھنے کے لیے سیاسی بلوغت چاہئیے۔ سنجیدہ تحریکیں غیر سنجیدہ لوگوں کا اور اُن کےغیر سنجیدہ افعال کا بوجھ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتیں۔(مکالمہ ڈاٹ کام)
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں