66

ماتم کی خواہش۔

جب سے قُرآن میں غور شُروع کیا چاہتے یا نہ چاہتے ہُوئے بھی ہرمسلک کے عُلماء کرام سے مُکالمہ تو جاری ہی رہتا ہے عُلماء کرام کی بعض دلیلیں سُن کر تو دل چاہتا ہے کہ کہ میں بھی اپنے اہلِ تشیع بھائیوں کے ساتھ ماتم پر نکل جاوٴں۔

ایسی دلیلوں میں سے ایک دلیل یہ ہے۔ جب ہم کسی مرض کا علاج خُود نہیں کر سکتے بلکہ کوئی مُستند ڈاکٹر ہی ہماری بیماری کی تشخیص اور علاج کرتا ہے تو کوئی خُود قُرآن کیسے سمجھ سکتا ہے، قُرآن تو کوئی مُستند عالم ہی سمجھ سکتا ہے آپ جیسے ڈاکٹر کے پاس اپنے علاج کے لیے جاتے ہیں ویسے ہی آپ کو اسلامی مسائل خُود قُرآن سے سمجھنے کی بجائے کسی مُستند عالم کے پاس جانا ہوگا۔

میں معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ یہ دلیل بہت فرسُودہ ہو چُکی.

قُرآن سُورہ واقعہ کی ۸۵ ویں آیت میں میڈیکل کی تعلیم کو ہر انسان پر فرض نہیں کر رہا جبکہ قُرآن کو ہر انسان پر فرض کر رہا ہے.

إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ ۚ قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بِالْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ

اس واضع آیت کے بعد خُدارا احساس کیجیے کہ قُرآن ہم پر فرض ہے جبکہ اینجینیرئنگ میڈیکل اور دیگر علُوم حاصل کرنا نہ کرنا ہر ایک کا اختیار ہے۔

جیسے ایک پرائمری سکُول ٹیچر نے مُجھے اے، بی، سی، اور الف، ب، پ سکھایا پھر ہجّے اور الفاظ جوڑنا اور پڑھنا سکھایا،

ہائی سکُول والوں نے سیکھنا سکھایا اور یُونیورسٹی والوں نے سکھانا سکھا کر پرائمری اور ہائی سکُول ٹیچر سے زیادہ اور اپنے برابر جاننے والا بنا کر مُعاشرے کو سمبھالنے کی کوشش کرنے والا کر دیا،

قُرآن جاننے والوں کا بھی یہی فرض بنتا ہے کہ ہر مُسلمان کو قُرآن پڑھنا اور سمجھنا سکھا کر اُنہیں اپنے مسائل کا حل اپنے وسائل کی روشنی میں قُرآن سے خُود ڈھُونڈنے دیں۔

اسلام میں پادری اور پنڈت کی کوئی گُنجائش نہیں جو اللہ اور بندے کے وِچولے یعنی مڈل مین کا کردار ادا کرے۔

لوگوں کو پرائمری سکُول ٹیچر جیسی نیک نیّتی سے قُرآن سکھائیے۔ پرائمری سکُول ٹیچرکی عظمت کا تصوُر کیجیے اُسے علم ہوتا ہے کہ اسکی کلاس کم و بیش سبھی بچے ایک دن اُس سے زیادہ آگے نکل جائیں گے لیکن یہ جاننے کے باوجُود بچوں کو اپنے سے آگے نکلنا سکھاتا ہے۔ جبکہ قُرآن کے عُلماء اپنے سے مُتعلق لوگوں کو قُرآن سیکھنا سکھانے کی بجائے اپنی تقلید سکھاتے ہیں۔

عُلماء کرام کا فرض ہے کہ اب قُرآن کو عوام تک رسائی دیں کیونکہ اسے سمجھنا ہر خاص و عام ، امیر غریب، مزدور، کسان، ڈاکٹر، اینجینیر پروفیسر، وکیل ،جج اور حُکمران سمیت ہر مرد عورت پر فرض ہے۔

عام لوگوں کو بھی چاہیے عُلماء کو اسلام کا پادری ماننا چھوڑ کر پرائمری سکُول ٹیچرسمجھیں۔

قُرآن سے دوستی کریں۔ روزانہ قُرآن کی چند آیات اپنی زُبان کے ترجُمے کے ساتھ ضرُور پڑہیں اگر اسےسمجھنا مُشکل ہوتا تو سب جاننے والا اللہ اسے مُختلف زُبانیں بولنے والےہر مُسلمان مرد عورت پر فرض نہ کرتا۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں