86

عطاالحق قاسمی اور اسکے بیٹے۔

(قمر نقیب خان، اردونامہ)
بڑے بڑے چمچے کڑچھے ساٹھ سال تک ملکی اداروں اور خزانوں کو اچھی طرح لوٹتے ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد پھر خوشامد، چاپلوسی اور ٹی سی کر کے کسی ادارے کے چئیرمین لگ جاتے ہیں. ہاتھی زندہ لاکھ کا مردہ سوا لاکھ کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد ڈبل تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں. نئی نسل کے پاس ڈگریاں ہوتی ہیں تو تجربہ نہیں ہوتا، تجربہ ہو تو رشوت کے پیسے نہیں ہوتے، سیاسی اثر و رسوخ نہیں ہوتا.. یوں پڑھے لکھے نوجوان خودکشیوں پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ بڈھی کھوسٹ روحیں کرسیوں پر قابض ہوتی ہیں.

عطاء الحق قاسمی بھی ایسا ہی ایک لفافہ ہے، عمر 74 سال ہے اور پی ٹی وی کا چئیرمین بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے لیگی تعلقات کی بنیاد پر ناروے اور تھائی لینڈ میں سفیر پاکستان رہ کر کروڑوں روپے اینٹھ چکے ہیں. پچھلے دنوں انہوں نے نے خود ہی اپنے آپ کو پی ٹی وی کا منیجنگ ڈائریکٹر بھی بنا لیا اور اپنی تنخواہ پندرہ لاکھ روپے مقرر کی۔ اتنی تنخواہ سے تیس بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پچاس ہزار روپے کی ملازمت دی جا سکتی ہے۔ قاسمی صاحب نے اپنے بڑے بیٹے یاسر پیرزادہ کو بھی صحافت میں لانے کا اعلان کیا تھا مگر سیاست میں پیسہ زیادہ تھا. یاسر پیرزادہ نے 1996ء میں سب سے کم عمر امیدوار (CSS) سول سروس کے امتحان کے پاس ہونے کا ریکارڈ رکھتا ہے، اب یہ یاسر کا ریکارڈ ہے یا اس کے ابا جی کا، اللہ ہی جانے. یاسر پیرزادہ نے ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو، اور اس وقت کی وفاقی اور صوبائی حکومت میں ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو اور ڈپٹی پروگرام ڈائریکٹر کے طور پر بالترتیب کام کیا ہے. ابھی پچھلے ہی دنوں ان دونوں باپ بیٹے نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سی ڈی اے اسلام آباد میں سب سے زیادہ پیسے والی سیٹ پر پوسٹنگ کرائی ہے.

یاسر کے علاوہ دو بیٹے اور ہیں، پیرزادہ عمر قاسمی اور پیرزادہ علی عثمان. پچھلے بلدیاتی انتخابات میں ان میں سے ایک کو بھی ن لیگ کے ٹکٹ پر ناظم وغیرہ بنا لیا ہے، یعنی کہ پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں. اس دریائی گھوڑے کی نسل سے متعلق آپ کے پاس کوئی مزید تفصیلات ہوں تو ضرور بتائیں، تاکہ ٹی سی کر کر کے بڑے آدمی بننے والوں کو واپس چھوٹا آدمی بنایا جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں