112

عدل، عادل، عدالت اور عدالتی افسر۔

پرانے سیانے اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ’’اللہ دشمن کو بھی تھانے، کچہری اور اسپتال سے محفوظ رکھے‘‘ حالانکہ مہذب دنیا میں یہ تینوں جگہیں عافیت، آسودگی، انصاف اور پناہ وغیرہ کی علامتیں لیکن ہمارے ملک میں کمزور، غریب، لاوارث لوگوں کے لئے یہ تینوں مقام ہی دہشت اور انتقام کے مراکز سمجھے جاتے ہیں لیکن شریف بلکہ نواز شریف فیملی کے پاس تو کسی شے کی کمی نہیں بلکہ بہتات اور فراوانی ہے۔ دولت کے حوالے سے دیکھیں تو اس گھر کا ہر فرد قارون ثانی ہے۔

طاقت اتنی کہ عدالتوں میں بھی آئیں تو فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انصاف لینے آ رہے ہیں یا قبضہ لینے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ سب سے بڑے صوبہ پر برادر خورد اور مرکز میں بھیس بدل کر خود حکمران لیکن پھر بھی حشر دیکھ لو۔لندن فلیٹس کے معاہدات اور دستاویزات جعلی ہونے پربیٹی، داماد اور خود پر فرد ِ جرم عائد ہوچکی۔ دونوں بیٹے مفرور، اشتہاری اور سب سے بڑھ کر شریک ِ حیات اور بچوں کی والدہ موذی مرض میں مبتلا اسپتال میں زیرعلاج یعنی….. پوراخاندان تھانہ، کچہری اور اسپتال کے چکر میں ہے لیکن انہیں پھر بھی اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ قانون نہیں….. قانون ِ قدرت کی زد اورلپیٹ میں ہیں۔ 
ادارے اپنی اپنی جگہ ہیں لیکن دراصل ان سب کے ستارے گردش میں ہیں اور یہ گردش بینظیر بھٹو کی نقل میں تسبیح پکڑنےسے نہیں تھمے گی….. یہ بڑا کڑا وقت ہے، اک ایسا وقت جب دعائیں گن گن کر نہیں، ان گنت اور بے حساب و بے شمار کی جاتی ہیں۔جتنا ’’بڑا‘‘ آدمی اتنا کڑا احتساب تو دعائیں بھی بے حساب یا کم از کم جتنے ارب ڈالر اتنے ارب دعائیں اور ’’توبائیں‘‘ (توبہ کی جمع) تو لازمی ہیں لیکن گننے کے عادی دعائیں بھی گن گن کر مانگتے ہیں اور اس میں بھی نہ کوئی قرینہ نہ سلیقہ۔ہونٹوں پردھمکیاں ہاتھوں میں تسبیحاں تو یہ کیسا کومبی نیشن ہے جو نیشن کی سمجھ سے باہر ہے۔
والد محترم پوچھ رہے ہیں ’’انصاف ہو رہا ہے یا اس کا خون؟‘دختر نیک اختر دھمکی دیتی ہیں ’’تماشا نہ بنائیں۔ احتساب کو انتقام بنانے والوں کا بھی احتساب ہوگا۔‘‘رسی جل گئی بل نہیں گئے لیکن راکھ کے بل ا ور ریت کے محل کا کیا مطلب؟اونٹ پہاڑ کے نیچے نہیں، ہمالیہ کے نیچے آئے لیکن اسے ’’شملہ پہاڑی لاہور‘‘ سمجھ رہے ہیںورنہ طیور کی زبانی یہ خبر نہ سنتے کہ نواز شریف اورہمنوا نے عدلیہ کے ساتھ ساتھ پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے والوں کے خلاف بھی مزید جارحانہ رویہ اپنانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو ان کےلئے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ چیف جسٹس کے اس بیان پر کان دھریں کہ ’’ہر وقت عدلیہ کو نشانہ بنانے والے ہوش کے ناخن لیں۔ 
صبر سے کام لے رہا ہوں ۔ لوگ پیغامات بھیجتے ہیں کہ موجودہ حالات پر ایکشن لیں۔ وکیل جج کے مکالمے پر پروگرام کردیتے ہیں۔‘‘وکیلوں کے ذکر پر کچھ نامور اور کچھ گمنام گوروں کے کچھ تبصرے یاد آگئے جو تبرک کے طور پر پیش خدمت ہیں۔کسی گمنام شخص کا قول ہے۔’’مافیاز کو اپنی اصل اوقات کا علم صرف تب ہوتا ہے جب ان کا واسطہ وکیلوں سے پڑتا ہے۔‘‘لارڈ برائم نے کہا تھا:’’وکیل ایک ایسا تعلیم یافتہ انسان ہےجوآپ کی جائیداد آپ کے دشمنوں سے بچا کر خود رکھ لیتاہے۔‘‘مارشل کا تبصرہ بہت معنی خیز ہے ’’صرف وکیل ہی ایسے لوگ ہیں جو اپنے لفظ اور اپنا غصہ کرائے پر دیتے ہیں۔‘‘لارڈ پیلی فیکس نے کہا تھا ’’اگر قانون کی زبان ہوتی تو وہ سب سے پہلے قانون دانوں کے خلاف کیس کرتا۔‘‘فرینکلن نے تو جیسے پاکستانی معاشرے کا نقشہ کھینچا ہو۔ کہتے ہیں ’’دو قانون دانوں کے ہتھے چڑھا ہوا دیہاتی دو بلیوں کے درمیان پڑی ہوئی مردہ مچھلی کی مانند ہے۔‘‘’’اگر طنبورے میں کوئی شگاف ہو تووکیل کا کام اس شگاف کو وسیع کرکے مال غنیمت سمیٹنا ہے۔‘‘’’دوہری چال نہ چلنے والا قانو ن دان نہیں ہوسکتا۔‘‘’’آپ وکیلوں کے بغیر نہ زندہ رہ سکتے ہیں نہ مرسکتے ہیں۔‘‘
سرجان ولز کی یہ بات مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی۔’’خواہ کچھ بھی ہوجائے انصاف کے دروازے پر دستک نہ دیں۔ ظلم برداشت کرنا اور مشکلات میں گھرجانا عدالتوں کے چکروں میں پھنس کر صحت و دولت تباہ کرنے سے کہیں بہتر ہے۔‘‘قارئین!پورے پاکستان کی نظریں آج کل عدل، عادل، عدالتوں اور عدالتی افسروں یعنی وکیلو ں پر لگی ہیں۔ پوری قوم کو شاید پہلی بار لائوڈ اینڈ کلیئر یہ خوبصورت پیغام جارہا ہے کہ اس ملک میں قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔میاں نواز شریف چاہیں تو سرعام اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہہ سکتے ہیں….. 
’’میں تین بار اس ملک کا وزیراعظم رہا جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں‘‘ تب ان کے ذہن میں چیف جسٹس کا یہ قیمتی مشورہ ہونا بھی ضروری ہے۔’’تنقید فیصلے پر ہونی چاہئے۔ خلاف آئے تو قبول کرنا چاہئے۔‘‘ناقابل تردید دستاویزات و دیگر ثبوت پیش کردیں کہ لندن اپارٹمنٹس کیسے اور کہاں سے آئے کہ معاملہ تو اقامہ والا موڑ مڑ کے اس سے کہیں آگے نکل چکا۔میں جانتا ہوں کہ نواز شریف اینڈ کمپنی کو پڑھنے لکھنے سے اتنی ہی دلچسپی ہے کہ یہ صرف بنک اسٹیٹمنٹس پڑھتے اور چیک لکھتے ہیں لیکن کل انشاء اللہ انہیں کچھ اور پڑھانے کی کوشش کروں گا کہ ستارے گردش میں ہوں تو انتظار ہی بہتر حکمت ِ عملی ہوتی ہے۔اے لو میاں! اک اور فرد ِ جرم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں