92

بدلتا زمانہ اور قُرآن۔

مُسلمان قُرآن کو چودہ سوسال پُرانی ایک ایسی کتاب ثابت کرنے کی جتنی بھی کوشش کرلیں جسکی ہر مُمکن تشریح صحابہؓ اور امام کر چُکے، قُرآن ہر دور میں اپنے ہم مزاج لوگوں کو اپنے جدید ہونے کا یقین دلا کر اپنی طرف بُلاتا رہے گا۔

اگرسورة الأنعام میں اللہ کا دعوٰی سچّا ہے

کہ اُس نے (انسانوں کی ھدایت اورکامیابی کے لیے ضروری) کوئی چیز ایسی نہیں رہنے دی جس کا ذکر قُرآن میں نظرانداذ کردیا گیا ہو،

اوراگر سورة حٰم میں اللہ کا یہ دعوٰی سچ ہے کہ وہ اپنی آیات کے نت نئے ثبوت لوگوں کو کائنات اور خود انھی کے نفوس میں دکھاتا چلا جائے گا

تو پھر یہ ایمان لانا ضروری ہو جاتا ہے کہ قُرآن کی کوئی بھی تفسیر چاہے وہ کسی بھی امام یا عالم نے لکھی ہو بس اُسی کے دور کے لیے مُکمل تھی کیونکہ زمانے کے مسائل اور وسائل بدلتے جاتے ہیں،

اور ہر نئے دور کے لوگوں کا سامنا ایسی دُنیا سے ہوتا ہے جسکا اُنسے سو سال پہلے کے لوگوں نے کبھی خواب میں بھی تصوُر نہیں کیا ہوتا۔

تبھی قُرآن اتنے گہرے الفاظ کا استعمال کرتا ہے کہ ہر دور کا قاری اُنسے اپنے دور تک کے مجمُوعی علم ، اپنے دور کی ترقی اور گِردوپیش کے تناظُر میں مخصُوص مفہُوم اخذ کر پائے گا۔

جیسے جیسے کائنات میں نئی دریافتیں ہوتی جاتی ہیں اور جیسے جیسے انسان کا نفس یعنی نفسیات یا سوچنے کا انداز بدلتا جاتا ہے قُرآن اپنے وعدے کے مُطابق ہر دور کے لوگوں پر اپنی آیات کا مفہوم مُکمّل کرتا جاتا ہے۔

آپ جان لیں کہ قُرآن کی مثال گُلاب کی کھِلتی کلی جیسی ہے،جس میں شروع میں چند پنکھڑیاں ظاہر ہوتی ہیں،

پھر آہستہ آہستہ تہہ درتہہ نت نئی پتیاں کھُلتی جاتی ہیں جو ایک دوسرے کے پیچھے ایک خاص ترتیب اور تنظیم سے لگی ہوتی ہیں۔

قُرآن اور بدلتے زمانے کے تیزی سے بدلتے زمانے سے تعلُق کو سمجھنے کے لیے میں آپکو زمین کی مثال دینا چاہتا ہُوں۔

زمین کے چھے سو بیس میل اندردُنیا کے سب سمندروں کے مجموعے سے کئی گُنا بڑا شفّاف پانی کا سمندر ہے لیکن وہاں سے زمین کی سطح تک لاکھوں معدنیات کی تہیں ہیں۔

ہر دور میں ہم یا تو زمین کی کسی نئی تہہ کے بارے میں جان لیتے ہیں

یا اُس معدنی ذخیرے سے فائدہ اُٹھانا شروع کر دیتے ہیں جس سے اُسی زمین کے مالک سو سال پہلے بے خبر تھے۔

بالکل ایسے قُرآن کے تصوُرات کی تفسیر اور تشریح ہر دور کے مجموعی علم کے مُطابق تو کھُلتی ہی ہے

لیکن ایک ہی دور کے الگ الگ مُفسرین کو بھی غور و فکر اوراُنکی ذاتی وسعت کے باہمی فرق کی وجہ سے قُرآن کی الگ طریقے سے سمجھ آتی ہے۔

نہ تو مُفسرین کو خود اپنی تفسیر کو ہر دور کے لیے کامل سمجھنا چاہیے نہ اُنکے ماننے والوں کو پچھلے ادوار کے مُفسّرین اور اماموں کے بُت بنا کر اُنکی پرستش کرنی چاہیے۔

پہلی اسلامی صدیوں کے اماموں اور مُفسّرین کے ذمّے اُنکا دور تھا،

اُنہوں نے اپنے دور میں نے اللہ کے دین کی نوکری کی اور سابقُون میں شامل ہو کر مُعزز ہوئے۔

اُنکی پرستس نہیں تقلید کرنی ہوگی کیونکہ آپکے پاس وہی قُرآن ہے لیکن آپکی ذمّے داری آپکا دور ہے۔

صحابہؓ اور اماموں کی تقلید اُنہیں کی طرح اپنے دور کی مجمُوعی زندگی کو قُرآن کے رہنُما اُصولوں مُزیّن کرنا ہے اُنکی اُنہی کے دور کی سمجھ کو آجکے دور میں پیسٹ کرنا نہیں۔ آجکے دور کے لیے قُرآن آج کے قاری کی مدد کے لیے مُتظر ہے کوئی مدد لینے والا بھی تو ہو۔

قُرآن پڑھنے سے ملنے والے ثواب کو قیامت کے دن کے لیے چھوڑ دیجیے،

ابھی تو ہم اس دُنیا میں ہیں اور قُرآن بھی اس دُنیا کی زندگی گُزارنے کے لیے الہامی ہدایت ہے۔

آئیےاپنے دور کے مسائل، وسائل اور آج کے دُنیاوی عُلُوم کے تناظُر میں قُرآن کو نئے سرے سے پڑھنا شُروع کریں تاکہ جانا جائے کہ یہ موجُودہ حالات کے مسائل کا کیا حل تجویز کرتا ہے۔

جان لیجیے کہ قُرآن متحرّک ہے، او ہردورمیں اسکی تہیں کھولنے کی کوشش کرنے والے ہی کے اپنے دور کےسابقُون ہونگے۔ یہ دعوت ہردور میں عام رہی لیکن اسے قبُول خواص ہی کرتے ہیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں