53

عنوان در عنوان۔

پلان تو کچھ اور کیا تھا اور وہ یہ کہ اپنے کالموں کے پانچوں مجموعے نکال کر بیس بائیس سال پرانے کالم اور کالموں کے مخصوص حصے مارک کئے تھے تاکہ انہیں ری پروڈیوس کر کے یہ دیکھا اور دکھایا جائے، خود یاد کیا اور یاد دلایا جائےکہ کرپشن کینسر سے لیکر جینوئین احتساب کی ضرورت تک بائیس سال سے بھی پہلے میں نے درجنوں نہیں بیسیوں کالم لکھے جن میں ’’تیسری قوت‘‘ کی اہمیت اور ضرورت بھی میرے پسندیدہ ترین موضوعات میں شامل تھی۔

مقصد اس فضول ایکسر سائز کا یہ تھا کہ اس نتیجہ پر پہنچا جائے کہ ہم جیسے معاشرے کسی بھی ایسی قلمی مہم پر ری ایکٹ کرنے میں کتنے سال لیتے اور لگاتے ہیں لیکن تمام تر تیاری کے بعد فی الحال یہ کار خیر کچھ دنوں کیلئے ملتوی کررہا ہوں کیونکہ کرنٹ افیئرز میں اتنا کرنٹ ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مثلاً برادر عزیز سہیل وڑائچ کا اک تازہ ترین کالم جس میں نوازشریف کی ’’سمجھ داری‘‘ کیلئے ان کے تین بار وزیراعظم بننے کا حوالہ دیا گیا ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا لیکن ناپ تول کے اس معیار پر تو بھٹو صاحب بہت ہی ’’ناسمجھ‘‘ دکھائی دیں گے جو پہلی اور آخری بار وزیراعظم بنے اور مسند اقتدار سے نان سٹاپ تختۂ دار پر جا پہنچے۔ 
یہ اوربات کہ بھٹو نواز موازنہ پر کوئی بھی انسان بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور ہوگا ’’چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک‘‘دو روز پہلے چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب ثاقب نثار نے “JUSTICE HURRIED IS JUSTRICE BURRIED”کا خوبصورت حوالہ دیا تو مجھے انصاف کے سلسلہ کی ایک اور کڑی بھی یاد آئی یعنی “JUSTICE DELAYED IS TUSTICE DENIED.”اورشاید ان دونوں انتہائوں کے درمیان ہی حقیقی انصاف کا قیام ہوتا ہوگا۔ میں تو کبھی قانون کا طالب علم نہیں رہا لیکن ایک عام شہری کے طور پر میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستانی عوام 70سال سے “JUSTICE DELAYED”کا شکار ہیں جبکہ بقول CICERO”THE WELFARE OF THE PEOPLE IS THE HIGHEST LAW.ʼقانون کے حوالہ سے یہ دو جملے اکثر ہانٹ کرتے ہیں۔”THE ARM OF THE LAW NEEDS MORE MUSCLEʼʼاور”TOO MANY LAWS ARE PASSED __ THEN BYPASSED”کیونکہ اس معاشرے میں ایسے عفریت نما انسانوں کی کوئی کمی نہیںجو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ بالا تو چھوڑیں یہاں تو ادنیٰ لوگوں کا تکیہ کلام بھی کچھ ایسا ہے …
’’توں جاندا نئیں میں کون آں؟‘‘ یا پھر کچھ یوں ’’بندہ کبندا ویکھ لیا کرو‘‘۔بات قانون کی چل نکلی تو پولیس افسر کو تھپڑ رسید کرنے والا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خاور اکرام بھٹی یاد آیا جسے اس کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔ مجھے ان صاحب کی تھپڑ سے زیادہ افسوس اس بات پر کہ یہ شخص بہت ہی بھونڈے انداز میں اپنی حرکت سے ’’مکرتے‘‘ہوتے کہتا ہے ’’میں نے تو پولیس والے کوپیار سے تھپکا تھا‘‘۔ میں نے یہ وضاحت کسی ٹی وی چینل پر سنی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ اتنی گریس بھی نہیں کہ آدمی اپنی حماقت OWN ہی کر لے جیسے ایک اور ن لیگیا معززین کو زمین تنگ کرنے کی دھمکی دینے کے بعد زمین چاٹتا دکھائی دیا۔
وزیراعظم نے بھی کمال مہربانی کا ثبوت دیتے ہوئے آرمی چیف کو NOC عطا کرتے سمے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’آرمی چیف کو معیشت پر بیان دینے کا حق ہے، سبحان اللہ بھئی ….. کہ پہلے احسن اقبال عرف وزیر داخلہ نے بھی اس قسم کی درفنطنی چھوڑی تھی۔ ن لیگ والوں کے اعصاب اور اوسان دونوں ہی جواب دے رہے ہیں۔ کیا ان نابغوں کواتنی عقل بھی نہیں کہ جو ملکی سیکیورٹی کے ذمہ دار ہوں، اکانومی ان کا سب سے بڑا، اہم اور لازمی کنسرن ہوتی ہے۔ نپولین بونا پارٹ جیسے ملٹری جینیئس نے کہا تھا کہ ’’فوجیں پیٹ کے بل چلتی ہیں‘‘ جس کا سلیس ترجمہ یہ ہے کہ تگڑی فوج کے پیچھے تگڑی اکانومی انتہائی ضروری ہے۔ 
پاکستان کا تو کیس ہی بہت اسپیشل ہے کہ اس کے کئی گنا بڑے پڑوسی بھارت نے آج تک اسے قبول نہیں کیا اور احمق ترین آدمی بھی جانتا ہے کہ دنیا میں دفاع سے مہنگا کام کوئی نہیں جس سے صرف مضبوط معیشت ہی نمٹ سکتی ہے۔ ان لوگوں میں سے کسی کے ارسلان مادر وطن پر قربان ہوں تو ان کی عقلیں ٹھکانے آئیں لیکن ان لوگوں نے تو اپنے اپنے ارسلانوں کو پانامائوں کی زرہ بکتریں پہنائی ہوئی ہیںاور یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ فوجی، فوج میں جانے سے پہلے بھی سویلین ہوتا ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سویلین ہوتا ہے تو یاد رہے ملکی معیشت پر کڑی نظر رکھنا اس کا حق ہی نہیں…. فرض بھی ہے اس لئے ضروری ہے کہ زبان ہلانے سے پہلے ذہن کو بھی تھوڑی سی زحمت دے لی جائے۔
اور اب آخر پر بہت ہی چھوٹی سی، معصوم سی، بے ضرر سی بات کہ ہمارے سابق اور نااہل وزیراعظم نوازشریف کو اپنے ہی فلیٹس کے باہر غلط گاڑی پارک کرنے پر 65پائونڈ کا جرمانہ ہوگیا جو ظاہر ہے دینا بھی پڑے گا۔ یہ کون لوگ ہیں؟ کس مٹی کے بنے ہیں؟ ’’وہاں‘‘ یہ بغیر پروٹوکول اورسیکورٹی کے سڑکوں، شاپنگ مالز پردھکے بھی کھاتے ہیں، قطاریں بھی بناتے ہیں، ’’چالان‘‘ بھی کراتے ہیں، جرمانے بھی بھرتے ہیں لیکن خود اپنی دھرتی پر قدم دھرتے ہی یہ انسان نہیں، کچھ اور بن جاتے ہیں۔ موٹے دماغ، موٹی کھالیں اتنا بھی نہیں سوچتیں کہ اپنے ملک کو مکروہات سے ’’رہائی‘‘ دلائیں۔ ان کیلئے پاکستان ان کی بیمار انائوں کی تسکین کے سامان اور حلوائی کی دکان سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں