119

فِرقے یا بدبُودار جوہڑ۔

میرے نبیﷺ کی ایک حدیث کا خُلاصہ ہے کہ عالم تو وہ ہے جو اپنے علم پر دُوسرے کے علم کو جمع کرے۔

اپنے عِلم پر دُوسرے کا علم جمع کرنا مُحمدﷺ کی سُُنّت بھی ہے تبھی وہ ہر اہم موقع پر صحابہ سے مُشاورت کرتے تھے۔

غزوۂ خندق سے پہلے آپﷺ نے تمام صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ عرب کے بیشتر مُشرک قبائل مُتّحد ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہونے کو نکلے ہیں، دُشمن بہت بڑا ہے جبکہ مُسلمان ابھی بے حد کمزور ہیں جنگ سے کیسے بچا جائے۔

سلمان فارسیؓ نے بتایا کہ ایران میں ہم شہر کے گرد خندق کھود کر حملہ آور کو جنگ سے باز رکھتے تھے ہمیں مدینہ کے اِردگِرد خندق کھود لینی چاہیے۔

خندق کا آئڈیا عرب کلچر کے لیے نیا تھا لیکن نبیﷺ نے سلمان فارسیؓ کا مشورہ قبُول کیا اور مدینہ جنگ سے محفُوظ رہا۔

یعنی مُحمدﷺ نے اپنےعلم پر ایران کا علم جمع کیا حالانکہ تب ایران ایک غیر مُسلم مُعاشرہ تھا۔

اللہ نے بھی ہر قوم پر نبیؑ اور رسُولؑ بھیجے۔

ہر نئے آنے والے نبیؑ نے پچھلے نبیوں کی نہ صرف تصدیق کی بلکہ اللہ کی جانب سے اُنہیں کُچھ نئے علم کے ساتھ ساتھ پچھلے نبیوں کی تعلیم کا خُلاصہ بھی دیا گیا۔

یعنی علم جمع کرنا اللہ اور تمام نبیوں کی مُشترکہ سُنّت ہے۔

جب اپنے علم پر دُوسرے کے علم کو جمع کرنے کا سلسلہ رُکتا ہے تو گویاعلم کے دریا کا بہاؤ رُک جاتا ہے.

جب بہتا ہُوا دریا بند ہو جائے تو اسکی گُزرگاہ پر جگہ جگہ پانی کے بدبُودار جوہڑ بن جاتے ہیں۔

اسلامی مُعاشرے کے ساتھ دُوسری صدی ہجری میں یہی ہُوا۔ جب مُسلمانوں نے اپنے علم پر دُوسرے کے علم کو جمع کرنے کا سلسلہ روک دیا۔

جب مُشاورت اور علم کا بہاؤ رُکا تو فرقے بنتے چلے گئے۔

فرقے بدبُودار جوہڑ ہی تو ہیں جن میں پانی یعنی علم تو ہے لیکن یہ سڑا ہُوا علم ہے جس سے نفرت، انتشار، تشدُّد ،اناپرستی، تکفیر، اور شخصیّت پرستی جیسی وہ تمام آلائشیں جنم لیتی ہیں جنکا علاج اسلام کے بُنیادی مقاصد میں سے ایک تھا۔

آج آپ تمام فِرقہ پرستوں سے یہ جھُوٹ ضرُور سُنتے ہونگے کہ نعُوذُ باللہ نبیﷺ کا فرمان تھا کہ مُسلمانوں کے تہتّر فرقے بنیں گے جن میں سے صرف ایک فرقہ ناجیہ یعنی نجات پانے والا ہوگا۔

فرقۂ ناجیہ سے مُتعلق حدیث کے نام پر پیش کی جانے والی ہر روایت نبیﷺ پر شرمناک الزام ہے۔

نبیﷺ نے قُرآن سے مُتضاد کبھی ایک لفظ نہیں کہا

اور فرقۂ ناجیہ کی اصطلاح ہی قُرآن کے خلاف ہے۔

فرقہ تو فرقہ ہے اور فرقہ بننا قُرآن کے حُکم اور اسلام پر کاری ضرب ہے۔

یہ ناجی گروہ کی اصطلاح ہی قابلِ مُذمّت ہے۔

کیونکہ یہ خیال کہ ایک فرقہ نجات یافتہ اور باقی سب مسلمان جہنُمی ہو سکتے ہیں فرقہ پرستی کو تقویّت اور جواز فراہم کرے گا

اسی خیال کے پس منظر سے دوسروں کے کُفر کا یقین جنم لیتا ہے۔

مُسلمانوں اور خصُوصاََ نوجوانوں کو شرپسند مذہبی عناصر کے اثر سے نکل کر ہی مُسلمانوں کے اتّحاد کی بُنیاد رکھنی ہوگی۔

اسلام صرف قُرآن اور رائج سُنّت ہے۔

آپ کو جیسے مُناسب لگے نماز پڑھیے۔

جس امام کا طریقہ مُناسب لگے اختیار کیجیے

چاہیں تو ہر امام سے کُچھ نہ کُچھ لے لیں۔

چاہیں تو قُرآن و سُنّت میں خُود غورکریں اور اماموں کے کام پر مزید تحقیق کریں اور سب اماموں سے الگ طریقہ اپنا لیں یہی اپنے علم پر دُوسرے کا علم جمع کرنا ہے۔

عقل اور قُرآن و سُنّت آپکے پاس ہے میدان خالی ہے

تحقیق کریں اجتہاد کریں.

لیکن اپنے آپ کو کسی فرقے سے منسُوب نہ کریں

اور نہ اپنے ماننے والوں کو اپنے نام پر گروہ بنانیں دیں۔

اپنے سے مُختلف طریقے کے حامل لوگوں کو نہ صرف مُسلمان سمجھیں بلکہ اُن سے علمی ڈائلاگ ہر سطح پر جاری رکھیں۔

فرقہ ایک لعنت ہے اور لعنت کبھی ناجیہ نہیں ہو سکتی۔

اسلام کی روح اتحاد اورڈائلاگ کی داعی ہے۔

قُرآن تو دین ابراہیمی کے ماننے والوں کو بھی مسلمانوں سے مُشترک مُعاملات پر اتحاد کی دعوت دیتا ہے پھرآپ خُود سے مُختلف مُسلمان سے اتحاد پر کیوں تیّار نہیں۔

سبھی فرقے خود کو فرقہ ناجیہ سمجھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جب فرقہ ہے ہی لعنت تو لعنت نجات دینے والی کیسے ہو سکتی ہے۔

کوئی عبادت کے طریقے اور عقائد کے معمُولی اختلاف پر جہنُمی نہیں ہو سکتا

البتّہ اگر کوئی ان اختلافات کی بُنیاد پر نامی یا بے نامی فرقے میں شامل ہو

اور ان اختلافات کی بُنیاد پر دیگرمُسلمانوں سے بُغض رکھے

یا اُنہیں کافر سمجھے

تویقیناََ اُس نے قُرآن و سُنّت کی رُوح سے مُتضاد راستہ اپنایا۔

فرقہ بندی قبیح ترین فعل اس لیے ہے کہ اس سے مُسلمانوں کی طاقت، اتّحاد اور باہمی اخُوّت پر کاری ضرب لگتی ہے جو آخرکار ان پر دُوسری قوموں کے تسلُط کا باعث بنتی ہے جس کے اثرات اُن قلیل افراد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں جو حقیقی اسلام پر چلنے والے ہوں۔ تبھی اللہ قُرآن میں فرقہ پرست کا ذکر مُشرکین کے ساتھ کرتا ہے۔

اللہ ہمیں اتنی ہمت دے کہ ہم اپنے اسلام سے فرقوں اور مسالک کے سابقے ہٹا کر صرف مُسلمان بن سکیں۔ آمین۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں