103

پردیس کا دُکھ ۔

حسب معمول گھڑی کا الارم بجا تو فوراً آنکھ کھل گئی۔ روزانہ کیطرح عادتاً کلمہ طیبہ پڑھ کر بستر سے ٹانگیں لٹکا کر ہاتھوں کا سہارا لئے سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ کل کی طرح آج پھر وہی دل میں اک ہول اٹھا، اک ہوک اٹھی کہ میری زندگی کا اک اور دن پردیس میں گزر گیا۔ اپنے وطن سے دور اپنے گاؤں سے دور ،اپنے پیاروں سے دور اپنی گلیوں سے دور جن میں ننگے پاوں دوڑتا تھا کھیلتا تھا۔ وہ کچے مکانوں میں پکے لوگ۔ وہ غریبی میں امیر لوگ۔ وہ سادگی میں کھلے دلوں کےلوگ۔

وہ تالاب جہاں والدین سےچھپ کر گرمیوں میں نہانہ، وہ لہلہاتے کھیت، نیلے آسمان کے نیچے سرسوں کے پیلے کھیت۔ یادوں کا دریا ٹھاٹھیں مار رہا تھا ایک لہر کے بعد دوسری لہر جگہ لے لیتی۔ گرمیوں میں وہ چھت پر سونا وہ صاف آسمان کہکشاں کی طرف دیکھنا۔ چاند پر بڑھیا کو چرخہ کاٹنے دیکھنا۔ رات کو گاوں کےبچوں کے ساتھ چور سپاہی کھیلنا، اک گہرا سانس لیا سر اٹھا کر دیکھا تو میرا بیٹا جو کہ چھ سال کا تھا، گہری نیند سویا ہوا زندگی کے مزے لے رہا تھا۔

جو میرے لیے پردیس ہے اس کے لیے اسکا دیس ہے وہ تو یہاں ہی پیدا ہوا ہے اس کو کیا معلوم اسکا والد کس سوچ میں گم ہے اور کس قرب سے گزر رہا ہے جس دنیا کےبارےمیں ، میں سوچ رہا ہوں اس کے بارے میں سجھانا نا ممکن ہے۔ زندگی کا سفر تیز رفتاری سے رواں دواں ہے زندگی کی تمام آسائشوں کے باوجود اپنا وطن رہ رہ کر یاد آتا ہے۔

روزانہ اک ہوک دل میں اٹھتی ہے۔ اکثر اپنے آپ کو اس بادشاہ کے طوطےسے تشبیع دیتا ہوں جو کہ سونے کے پنجرے میں بند ہے، اور جسکے اردگرد نوکرچاکر بھی ہیں اور اسے دنیا بھر کے فروٹ اور کھانے بھی ملتے ہیں، مگر پھر بھی ایک آہ کے ساتھ اپنے اس پرانے درخت کو یاد کرتا رہتا ہے، جس کے سوراخ میں وہ پیدا ہوا ہوتا ہے۔

اس پردیس میں میرے لیے بھی دنیا جہاں کی نعمتیں ہیں اچھی ملازمت ہے ،عزت ہے، گھر ہے مگر پھر بھی اپنے گاوں کی کچی گلیاں کبھی نہیں بھولتی ہیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں