88

علم حاصل کرنا مشکل نہیں، علم ہضم کرنا مشکل ہے!

یہ بات ہے سنہ 2004 کی ہے، جب میں نے اسلامک ریسرچ کرنا شروع کی، کتابیں جمع کیں اور پڑھنا شروع کر دیا. دو سال بعد میرے پاس تمام مذاہب و مسالک کی پندرہ ہزار سے زائد کتابیں موجود تھیں جو اب لگ بھگ پینتیس ہزار سے متجاوز ہیں. اس لائبریری پراجیکٹ میں آڈیو ویڈیو بیانات شامل تھے، دیگر مذاہب کی ویڈیوز بھی تھیں، جادوگروں کی ویڈیوز، شمشان گھاٹ کی ویڈیوز، اگھوریوں سادھوؤں کی ویڈیوز الغرض بہت کچھ تھا…

میں آج سے دس سال پہلے اسلام آباد کے آدھے سے زیادہ مدارس میں گیا، ان کے مدیر اعلی سے بات چیت کی، میں نے منتیں ترلے کر لئے کہ صاحب مجھے اجازت دیں آپ کے مدارس میں کمپیوٹر لائبریری پراجیکٹ بنانا چاہتا ہوں. چندہ میں جمع کروں گا، کمپیوٹر میں لاؤں گا، کتابیں بھی میں دوں گا سب کچھ میں کروں گا…

لیکن انہوں نے اجازت نہیں دی، ان کے خیال میں یہ وقت کا ضیاع اور ایک فضول کام تھا، انہوں نے میری کتابوں کی فہرست اور آڈیو ویڈیو کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا..

آج اس کوشش کے دس سال بعد بھی ہمارے مدارس طلباء پیدل ہیں، اپنے مذہب اور مسلک کے علاوہ کچھ پتا ہی نہیں، اساتذہ کے پڑھائے رٹے رٹائے چار چھے حنفی آئمہ کے اقوال کے علاوہ انہیں کچھ نہیں آتا. آج بھی ہمارے طلبہ پر دوسرے مسالک و مذاہب کی کتابیں پڑھنے کی پابندی ہے، اپنے فرقے سے باہر کسی بھی مولانا عالم فاضل کی تقریر سننے پر پابندی ہے. اور اگر کوئی طالب علم غلطی سے پڑھ لے اور کلاس روم میں سوال اٹھانا شروع کر دے تو اسے مدرسے سے ہی نکال دیا جاتا ہے.

آٹھ سال ایک ہی فقہ پڑھا پڑھا کر ہم بندے کو کسی دوسری طرف سوچنے کے قابل ہی نہیں چھوڑتے، ہمارا طالب علم سات سال اپنی مسلکی کتابیں پڑھتا ہے اور آٹھویں سال میں دورہ حدیث کروا دیا جاتا ہے، یوں کہ طالب علم باری باری بس عربی متن پڑھتے جاتے ہیں اور باقی سب سنتے ہیں. اگر کوئی حدیث اپنی فقہ کے خلاف ملے تو استاد محترم اس حدیث کا جواب بتاتے ہیں کہ جب بھی فریق مخالف یہ حدیث پیش کرے تو یہ یہ جواب دینا ہے. مشکوٰۃ پڑھاتے ایک ہوئے ایک حدیث آئی، مؤذن رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ تہجد کے لیے بھی آذان دیتے تھے، ایک طالب علم نے پوچھ لیا استاد محترم ہماری فقہ میں تو تہجد کی آذان جائز نہیں، پھر حضرت بلال کی آذان کیسے جائز ہو گئی. جواب کی بجائے کلاس بدر… غرض یہ کہ ہم اپنے مدارس میں ایک ایسی فوج تیار کرتے ہیں جو اسلام کی بجائے اپنے اپنے فرقے، مذہب اور مسلک کے عقائد و نظریات کا پرچار کرتے ہیں، دفاع کرتے ہیں.

آٹھ سال تک ٹی وی، خبریں، اخبارات، رسائل، موبائل فون اور سوشل میڈیا سے دوری اور ایک ہی مکتب فکر کی بریسٹ فیڈنگ کا اثر ہمارے سامنے ہے. ہمارے مولوی، ہمارے علماء، ہمارے طلباء جمود کا شکار ہیں، یہ آج بھی الٹے سیدھے کشوف اور کرامات کے پیچھے چل رہے ہیں، یہ آج بھی اپنے اپنے اکابرین کے پائنچوں سے لٹکے ہوئے ہیں.

لیکن کب تک؟ آپ جدید ٹیکنالوجی سے کب تک بھاگ سکتے ہیں؟ اس ٹیکنالوجی نے بڑی بڑی لائبریریوں کو ایک چھوٹی سی یو ایس بی اور میموری کارڈ میں سمو دیا ہے، آپ لاکھ کتابیں ایک 256 جی بی میموری کارڈ پر رکھ سکتے ہیں، آج ہر طرح کی کتاب ہر طرح کے مسائل لوگوں کو فنگر ٹپس پر دستیاب ہیں، آج گوگل سب استادوں کا استاد ہے. آج یوٹیوب پر ہر مسلک کے ہر مولوی کی ہر ویڈیو دستیاب ہے.

آپ کب تک اپنے شاگردوں کی آنکھوں پر پٹی باندھیں گے؟ آپ کب تک ان کے کانوں میں موم ڈالتے رہیں گے؟ آپ کو ایک نہ ایک دن اپنی مساجد و مدارس کے دروازے کھولنے پڑیں گے، ورنہ علم کا یہ طوفان آپ کے دروازے کھڑکیاں توڑ کر داخل ہو جائے گا. بہتر ہے کہ طوفان سے پہلے کچھ تیاری کر لیں، دس سال پہلے میں اکیلا تھا آج مجھ جیسے ہزاروں ہیں. الحاد آپ لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے بڑھ رہا ہے کیونکہ آپ کے علماء کرام و مفتیان عظام جواب دینے سے قاصر ہیں. اور اب تو آپ کے اپنے مدارس کے علماء بھی ملحد و گستاخ بن رہے ہیں ایاذ نظامی جیسے نجانے کتنے ہوں گے. جانتے ہیں کیوں ملحد بن جاتے ہیں؟

کیونکہ آپ نے انہیں ٹیکنالوجی ہضم کرنا سکھایا ہی نہیں، آپ نے ان کا دل و دماغ وسیع ہونے ہی نہیں دیا، ایک تنگ ذہن میں جب اتنی زیادہ انفارمیشن اور علم آ جائے تو وہ پھٹ جاتا ہے، یہی کچھ ہو رہا ہے ہمارے ملحدین و منکرین کے ساتھ بھی… اب بھی زیادہ کچھ نہیں بگڑا، اب بھی وقت ہے، اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مساجد سے باہر آئیے، اپنے مدارس کو وسعت دیجئے صرف رقبہ نہ بڑھائیے بلکہ قلب و نظر کو وسعت دیجئے. آپس کی فقہی جنگ ختم کیجئے. آگے آپ کو اس سے بھی بڑے محاذ کا سامنا ہونے والا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں