Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




زندگی کا کھویا ہوا سرا۔


ڈاکٹر ہرمن بورہیو کے انتقال کے بعد ان کا سامان کھولا گیا‘ سامان میں تین سوٹ‘ لکھنے کے چار قلم‘ کاغذوں کے درجنوں دستے‘ ایک چھتری‘ ایک بیڈ‘ ایک رائٹنگ ٹیبل‘ ایک آرام کرسی‘ کھانے کے چند برتن اور ایک کتاب تھی‘ کتاب مخملی غلاف میں لپٹی تھی‘ غلاف کھولا گیا ‘ کاغذ کا لفافہ برآمد ہوا‘ لفافے پر سیل لگی تھی اور سیل کے ساتھ ڈاکٹر ہرمن بورہیو کے ہاتھ سے لکھی تحریر تھی ’’ یہ کتاب میری پوری زندگی کی طبی تحقیق کا نچوڑ ہے۔

اس کتاب میں وہ نسخہ موجود ہے جس پر عمل کرنے والے کو زندگی بھر ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا پڑے گا‘ میری یہ کتاب نیلام کر دی جائے اور نیلامی سے حاصل ہونے والے رقم لیڈن یونیورسٹی کے طبی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو دے دی جائے‘‘ یہ کتاب‘ کتاب نہیں تہلکہ تھی اور اس تہلکے نے پورے یورپ کو پریشان کر دیا‘ ہالینڈ‘ جرمنی‘ فرانس‘ اٹلی‘ برطانیہ اور آسٹریا کے شاہی خاندانوں اوریورپ بھر کے امراء اور رؤساء میں کتاب خریدنے کے لیے دوڑ لگ گئی۔

لیڈن شہر میں نیلامی کا بندوبست کیا گیا‘ یورپ بھر کے امراء‘ رؤساء اور شاہی خاندانوں کے نمائندے نیلامی میں پہنچ گئے‘ یہ یورپ کی تاریخی نیلامی تھی مگر ہم نیلامی کی طرف جانے سے قبل ڈاکٹر ہرمن بورہیو کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں‘ یہ کون تھا اور اس کی کتاب نیلامی میں کیوں رکھی گئی اور لوگ اس کتاب کو اتنا سیریس کیوں لے رہے تھے؟۔

ڈاکٹر ہرمن بور ہیو ہالینڈ کا رہنے والا تھا‘وہ 1668ء میں لیڈن شہر میں پیدا ہوا‘ وہ مبلغ بننا چاہتا تھا‘ اس نے 1689ء میں لیڈن یونیورسٹی سے فلسفے کی ڈگری حاصل کی‘ وہ تبلیغ پر روانہ ہونے لگا تو معلوم ہوا عیسائی مشنری مشن پر جانے سے قبل طب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ یہ دوسرے شہروں اور ملکوں میں جا کر چرچ بناتے ہیں اور اس چرچ کے ساتھ اسکول اور اسپتال کھولتے ہیں‘ مشنری علاج کے لیے آنے والے مریضوں اور اسکول میں داخل ہونے والے بچوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں‘ یہ خصوصی توجہ عیسائیت کی تبلیغ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے‘ ڈاکٹر ہرمن بورہیو کی معلومات درست تھیں۔

آپ آج پاکستان کے قدیم چرچز کا مشاہدہ کریں آپ کو ان کے ساتھ اسپتال بھی ملیں گے اور کانونٹ اسکول بھی۔ یہ کانونٹ اسکول‘ یہ اسپتال اور یہ چرچ انگریز دور میں عیسائی مشنریوں نے قائم کیے ‘ اسلام میں مدارس اور مطب کا تصور انھیں مشنری اداروں سے آیا‘ شام ظہور اسلام کے وقت عرب ملکوں میں عیسائی تہذیب کا مرکز تھا‘ مسلمانوں نے یہ ملک 634ء میں حضرت عمرؓ کے دور میں فتح کیا‘ شام میں مسلمانوں نے کلیساؤں کے نظام کا مطالعہ کیا ‘ مسلمانوں کو معلوم ہوا کلیساؤں کے پادری اور ننیں طبیب اور استاد ہوتی ہیں‘ یہ لوگ چرچ میں مریضوں کا علاج بھی کرتے ہیں اور قرب و جوار کے بچوں کو جدید تعلیم بھی دیتے ہیں‘ مسلمانوں کو یہ طریقہ اچھا لگا چنانچہ اسلامی سلطنت کی مساجد میں بھی تعلیم اور علاج کا سلسلہ شروع کر دیا گیا‘ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

ہمارے مولوی صاحبان آج بھی استاد اور حکیم ہوتے ہیں‘میں واپس ڈاکٹر ہرمن بورہیو کی طرف آتا ہوں‘ ڈاکٹر نے اچھا مبلغ بننے سے قبل اچھا طبیب بننے کا فیصلہ کیا‘ اس نے ہارڈر وک یونیورسٹی کے شعبہ طب میں داخلہ لے لیا‘ اس نے طب پڑھنی شروع کی تو زندگی کے بارے میں اس کا سارا فلسفہ تبدیل ہو گیا‘ اسے معلوم ہوا خدمت تبلیغ سے کہیں بڑی عبادت ہے اور علاج انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے‘ ڈاکٹر ہرمن بورہیو نے مبلغ کی بجائے طبیب بننے کا فیصلہ کر لیا‘ اس نے 1693ء میں طب کی ڈگری لی‘ وہ 1701ء میں لیڈن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن میں لیکچرر بھرتی ہوا‘ 1709ء میں نباتات اور ادویات کا پروفیسر بنا اور 1714ء میں یونیورسٹی کا ریکٹر بن گیا‘ وہ اپنے دور کا مشہور ترین طبیب بھی تھا‘ بادشاہ اس سے علاج بھی کراتے تھے اور طبی مشورے بھی کرتے تھے۔

وہ اپنے دور کا مشہور ترین فطرت شناس‘ فزیشن اور ماہر نباتات تھا‘ وہ دنیا میں جدید طب کا بانی اور فادر آف فزیالوجی بھی تھا‘ وہ 23 ستمبر 1738ء میں فوت ہوا تو اس کے سامان سے وہ مشہور زمانہ کتاب برآمد ہوئی جس میں اس کی عمر بھر کی طبی تحقیق کا نچوڑ تھا اور یورپ کے تمام امراء‘ رؤساء اور شاہی خاندان وہ تحقیق حاصل کرنا چاہتے تھے‘ کتاب کا نام تھا ’’ طبی تاریخ کا واحد اور قیمتی راز‘‘ کتاب سربمہر تھی۔

نیلامی کا دن آ گیا‘ نیلامی شروع ہوئی تو کتاب یورپ کے ایک بیمار رئیس نے وہ کتاب دس ہزار ڈالر میں خرید لی‘ یہ کتنی بڑی رقم تھی آپ یہ جاننے کے لیے کیلنڈر کو تین سو سال پیچھے لے جائیں‘ آپ کو1738ء کے دس ہزار ڈالر آج کے دس کروڑ ڈالر لگیں گے‘ یہ اس دور کی مہنگی ترین نیلامی تھی‘ رئیس نے کتاب خرید لی‘ وہ کتاب لے کر اپنے محل میں گیا‘ لفافے کی مہرتوڑی‘ کتاب نکالی‘ کتاب کھولی‘ کتاب کا پہلا صفحہ خالی تھا‘ دوسرا صفحہ کھولا گیا‘ وہ بھی خالی تھا‘ تیسرا صفحہ کھولا گیا وہ بھی خالی تھا‘ رئیس پریشان ہو گیا اور وہ تیزی سے صفحے کھولتا گیا اور پریشان ہوتا گیا کیونکہ کتاب کے سارے صفحے خالی تھے‘ یہاں تک کہ رئیس آخری صفحے تک پہنچ گیا‘ طبی تاریخ کا واحد اور قیمتی راز کتاب کے آخری صفحے پر لکھا تھا۔

وہ راز ایک چھوٹا سا فقرہ تھا‘ ڈاکٹر ہرمن بورہیو نے لکھا تھا ’’ تم اپنے سر کو ٹھنڈا اور پیروں کو گرم رکھو‘ تمہیں پوری زندگی کسی طبیب کی ضرورت نہیں پڑے گی‘‘ خریدارنے راز پڑھ کر قہقہہ لگایا‘ کتاب سائیڈ پر رکھی اور آہستہ آواز میں بولا ’’ ڈاکٹر تم واقعی گریٹ انسان تھے‘‘۔ ڈاکٹر ہرمن بورہیو نے اس چھوٹے لیکن کارآمد راز تک پہنچنے کے لیے پوری زندگی خرچ کر دی اور یہ فقرہ آج سے 3سو سال قبل مہنگا ترین فقرہ تھا‘ ہم اگر اس فقرے کو پڑھیں تو یہ ہمیں عامیانہ دکھائی دیگا اور ہم سوچیں گے ڈاکٹر ہرمن بورہیو یورپ کے امیروں کو بیوقوف بنا گیا‘ یہ کیا بات ہوئی آپ سو صفحے کی کتاب جلد کرائیں‘ آپ ننانوے صفحے خالی چھوڑ دیں‘ آخری صفحے پر 20 حرفوں کا ایک چھوٹا سا فقرہ لکھیں‘ کتاب پر سیل لگائیں‘ یہ کتاب بعد ازاں نیلام ہو‘ دس ہزار ڈالر کما لیے جائیں اور ایک بیمار رئیس اپنی دولت کا تین چوتھائی حصہ دے کر صرف اتنا سیکھے ’’ دماغ کو ٹھنڈا اور پیروں کو گرم رکھو‘‘ یہ مذاق یا دھوکہ نہیں تو کیا ہے؟ لیکن آپ اگر گرم پیروں اور ٹھنڈے دماغ سے اس فقرے پر غور کریں تو آپ ڈاکٹر کی تحقیق سے بھی متفق ہو جائینگے اور آپ کو اس فقرے میں افراد‘ خاندانوں‘ معاشروں‘ ملکوں اور قوموں کے عروج و زوال کی پوری تاریخ بھی مل جائے گی ۔

آپ یقین کیجیے‘ آپ کسی شخص کا سر اور پاؤں دیکھ کر اس کے مستقبل کی پیش گوئی کر سکتے ہیں‘ ہماری زندگیوں کا 90فیصد دارومدار ہمارے فیصلوں پر ہوتا ہے‘ آپ تعلیم سے لے کر پیشے تک اور دوستوں سے لے کر شریک حیات تک اور رشتے داروں سے برتاؤ سے لے کر معاشرتی رویوں تک پوری زندگی فیصلے کرتے ہیں اور یہ فیصلے آپ کی جسمانی‘ ذہنی‘ روحانی اور معاشرتی صحت سے لے کر آپ کے لائف اسٹائل تک کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ اس وقت تک اچھے فیصلے نہیں کر سکتے جب تک آپ کا سر ٹھنڈا نہیں ہو گا‘ اسی طرح آپ اگر اسپورٹس نہیں کرتے‘ واک نہیں کرتے اور جاگنگ نہیں کرتے تو آپ کے پاؤں ٹھنڈے رہیں گے اور یہ ٹھنڈے پاؤں بہت جلد آپ کو بستر مرگ تک پہنچا دینگے۔

آپ کی باقی زندگی دواء‘ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے اردگرد گزرے گی چنانچہ آپ اگر اچھی‘ معیاری اور کلر فل زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ صرف دو کام کریں‘ آپ دماغ کو ٹھنڈا رکھیں خواہ آپ کو اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے اور آپ اپنے پیروں کو گرم رکھیں‘ آپ روز واک کریں‘ جاگنگ‘ سائیکلنگ‘ تیراکی یا ایکسرسائز کریں‘ خواہ آپ کو اس کے لیے دہکتے انگاروں پر ہی کیوں نہ چلنا پڑے‘ واک سے آپ کا دوران خون ٹھیک رہے گا‘ لہو سر سے پاؤں کی طرف آئے گا‘ آپ کی صحت اچھی رہے گی۔

آپ اگر اس فلسفے کو افراد سے معاشروں تک لے جائیں تو آپ بڑے دلچسپ حقائق دیکھیں گے‘ آپ کو دنیا کی ہر وہ قوم ترقی یافتہ ملے گی جس میں لوگوں کے دماغ ٹھنڈے اور پاؤں گرم ہیں‘جس میں لوگ معاملات کو جذباتیت کے بجائے دلائل پر دیکھتے ہیں‘جس میں لوگ گفتگو کے دوران ٹھنڈے رہتے ہیں‘ جس میں لوگ دوسروں سے چلا کر مخاطب نہیں ہوتے‘ جس میں لوگ جلسوں اور جلوسوں کے دوران بھی ڈسپلن برقرار رکھتے ہیں‘ وہ توڑ پھوڑ نہیں کرتے‘ دوسروں کو گالی نہیں دیتے‘ دوسروں پر بلاتحقیق الزام نہیں لگاتے‘ دوسروں پر حملے نہیں کرتے اور جس میں لوگ کام کو صرف کام کے طور پر لیتے ہیں‘ اسے ذاتیات نہیں بناتے اور جن معاشروں میں پارکس‘ واکنگ ٹریکس‘ جم‘ میدان اور کلب ہوتے ہیں اور آپ کو وہاں صبح اور شام لوگ دکھائی دیتے ہیں۔

آپ کو یقین نہ آئے تو آپ امریکا سے لے کر چین تک دنیا کا مشاہدہ کر لیں آپ کو پوری جدید دنیا میں یہ دونوں خوبیاں نظر آئیں گی اور آپ اس کے بعد غیرترقی یافتہ یا پسماندہ قوموں کا مطالعہ بھی کر لیں‘ آپ کو دنیا کی تمام پسماندہ قومیں جذباتی‘ غیر منطقی‘ دلائل سے دور‘ لڑاکا‘ فسادی‘ شکی‘ بھڑکیلی اور شدت پسند ملیں گی‘ یہ صحن میں گیند گرنے‘ فصل سے جانور گزرنے‘ گھورنے‘ کھنگورا مارنے‘ تھوکنے‘ دوسری دکان سے سودا خریدنے‘ رشتہ نہ دینے‘ امتحان میں کم نمبر آنے اور میں جنتی ہوں اور تم دوزخی‘ میں مومن ہوں اور تم کافر جیسے ایشوز پر دس دس لوگوں کو قتل کر دیں گے‘ یہ انقلاب پہلے لانا چاہیں گے اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا طریقہ بعد میں ڈھونڈیں گے اور آپ کو پسماندہ قوموں کے پارکس میں بھینسیں اور گائے بھی چرتی نظر آئیں گی۔

آپ کو وہاں قبضہ گروپ بھی دکھائی دیں گے اور آپ کو ان کے اسٹیڈیمز میں کھیلوں کی بجائے جلسے ہوتے بھی نظر آئیں گے اور آپ کو وہاں لوگ چلتے ہوئے کم اور بیٹھے ہوئے زیادہ نظر آئیں گے‘ آپ آج دنیا کو ٹھنڈے سروں اور گرم پیروں کے فلسفے سے دیکھ لیں‘ آپ کو انسان کی تاریخ بھی سمجھ آ جائے گی‘ انسان کا حال بھی اور اس کا مستقبل بھی اور آپ اپنے ذاتی اور معاشرتی زوال کی وجہ بھی جان جائیں گے‘ ہمارے سر گرم اور پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں شاید اسی لیے ہم دنیا سے پیچھے رہتے ہیں‘ آپ ایک بار غور کیجیے‘ آپ ایک بار زندگی کو اس زاویئے سے بھی دیکھ لیں‘ شاید زندگی کا کھویا ہوا سرا آپ کے ہاتھ میں آ جائے‘ شاید آپ لائف کے ٹریک پر واپس آ جائیں۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.