123

پانامہ لیکس کے بعد پیراڈئز لیکس منظر عام پر آ گئیں۔

پاناما لیکس کے بعد تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم (آئی سی آئی جے) نے ”پیراڈائز لیکس“ جاری کردی ہیں جن میں 1 کروڑ 34 لاکھ سے زائد دستاویزات سامنے آئی ہیں۔ اس تحقیقات میں 381صحافیوں نے حصہ لیا۔ تفصیلات کے مطابق پا ناما لیکس کے بعد آئی سی آئی جے نے ایک اور بڑا دھماکا کردیا اور ‘پیراڈائز لیکس’ کے نام سے مزید خفیہ دستاویز جاری کردیں جس میں دنیا کی معروف شخصیات اور کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔ 

ان شخصیات میں سب سے بڑا نام برطانوی ملکہ الزبتھ کا نام ہے جنہوں نے میڈیکل اور کنزیومر لون کے شعبے میں کام کرنے والی آف شور کمپنیوں میں کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے علاوہ اردن کی سابق ملکہ نور کا نام بھی سامنے آیا ہے جو جرسی نامی جزیرے میں دو ٹرسٹوں کی استفادہ کنندہ (بینیفیشری) کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

دستاویز میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے قریبی ساتھی اور مشیر اسٹیفن برونفمین کا نام بھی پیراڈائز پیپرز میں ہے۔ نامزد شخص کینڈین وزیراعظم کے قریبی دوست ہونے کے علاوہ لبرل پارٹی کا چیف فنڈ ریزر ہے۔

دستاویز میں ترکی کے موجودہ وزیراعظم بن علی یلدرم کے دو بیٹے ارکام یلدرم اور بیولینٹ یلدرم شامل ہیں۔ ترکی کے وزیراعظم مئی 2016سے ترک کابینہ میں شامل ہیں ،انہوں نے اس مقصد کے لئے شپنگ کارپوریشن میں ٹیکس بچایا، جبکہ ارکام یلدرم اپنا شپنگ کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ترکی وزیراعظم کے دونوں بیٹے مالٹا میں ایک کمپنی کے شئیر ہولڈر ہیں، جو 2004 میں بنائی گئی تھی۔

دستاویزات کے مطابق امریکہ کی معروف گلوکارہ میڈونا اور ایک پاپ سنگر بونو کا نام بھی آف شور کمپنیاں قائم کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔ ان کے علاوہ پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز، بوظہبی کے امیر خلیفہ بن زید السلطان النہیان، قطر کے سابق وزیراعظم حماد بن جاسم الثانی،سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز،شامی صدر بشاالاسد کے کزن اورسابق سعودی ولی عہد محمد بن نائف کا نام بھی شامل ہے۔

سابق وزیر اعظم پاکستان شوکت عزیز، جو کہ مشرف کابینہ میں پہلی بار بطور وزیر خزانہ شمولیت اختیار کی تھی اور بعد ازاں وہ وزیر اعظم پاکستان بنے۔ شوکت عزیز نے انٹارکٹ ٹرسٹ قائم کیا ، ان کی اہلیہ اور بچے اس کی بنیفشری اونر بنے ، سابق وزیر اعظم کا ٹرسٹ ڈیلیور میں تھا اور اسے برمودا سے چلایا جاتا تھا۔ بطور وزیر اعظم اور بطور وزیر خزانہ اس ٹرسٹ کو کسی بھی موقع پر ظاہر نہیں کیا۔ آئی سی آئی جے کے پاکستان میں موجود نمائندے عمر چیمہ کے مطابق سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے پاکستان آنے سے دو ہفتے پہلے یہ ٹرسٹ قائم کی، اس حوالے سے شوکت عزیز نے نیویارک سے اپنے وکیل کے ذریعے بتایا کہ انہیں ٹرسٹ پاکستان میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ ’سیٹلر‘ (Settlor) تھے۔ ان کے مطابق ان کے بیوی بچوں کو بھی ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ بینی فشری تھے، بینی فشل اونر نہیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p4 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں