130

مسلمان بچے کی یورپین سکول میں نماز۔

یورپ کے ایک ملک کے ایک سکول میں مسلمانون کے بچوں کی تعدا د کافی ہےاور ان میں سے ایک بچہ سکول میں نماز پڑھنا چاہتا تھا- لیکن اس کا خیال تھا کہ چونکہ سکول کی پرنسیپل غیر مسلم ہے تو اس کو اجازت نہیں ملے گی- تو اس بچے نےکافی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ پرنسیپل سے بات کرے گا کہ وہ سکول میں نماز پڑھنا چاہتا ہے اور اس کو اس بات کی اجازت دی جائے اور ایک کمرہ دیا جائے جہاں پر جو مسلم بچے نماز پڑھنا چاہیں پڑھ سکیں۔

آخر کار ایک دن ظہر کی نماز کے وقت وہ بچہ پرنسیپل کے کمرے میں جاتا ہے اور کہتا ہے میں مسلم ہوں اور ہم مسلمان دن میں پانچ وقت نمازقائم کرتے ہیں اور جب میں سکول میں ہوتا ہوں تو میں نماز نہیں پڑھ سکتا- اور جب میں اپنی نماز نہیں قائم کرتا تو مجھے دکھ ہوتا ہے- اس لیے مجھے اور دوسروں کو جو نماز قائم کرنا چاہتے ہیں اجازت دی جائے اور ایک کمرہ دیا جائے جہاں پر ہم لوگ نماز قائم کر سکیں-

پرنسیپل نے بڑے غور سے لڑکے کی بات سنی اور لڑکے کو کچھ یوں جواب دیا۔ تم اتنے سالوں سے اس سکول میں پڑھ رہے ہو اور یہ بات تم نے مجھ سے پہلے کیوں نہیں کی؟ اتنی سی بات کے لیے تم خواہ مخواہ پریشان رہے۔ اگر تم لوگوں کو اپنی عبادت کرنی ہے تو ضرور کرو اور اس کے لیے سب اچھی جگہ میرا آفس ہے اور جب تمہاری عبادت کا وقت ہو میرے آفس میں آجایا کرو تو میں باہر چلی جایا کرونگی اور تم آرام سے اپنی عبادت کرلیا کرو۔ اس فراغدلی اور اوپن مانڈ سے بچے بہت متاثر ہوئے۔

اس واقعہ کو جب میں نے سنا تو ایک مسلم ہونے کے ناطے سے اپنے گریبان میں جھانکا اور اپنے آپ سے سوال کیا۔ کیا ہم مسلمانوں میں وہ برداشت ہے۔ ہم کلمہ گو کو کافر کہہ کر مار رہے۔ مسلمانوں کو ختم کرکے اسلام پھیلارہے ہیں۔ ہم اس نبی کے امتی ہیں جن پر ظلم کیے گے، گندگی پھینکی گی، طائف کی وادی میں لہولہان کردیا گیا، اپنے گھر سے نکالا گیا اپنے شہر سے نکالا گیا اور جب اللہ نے آخر پر کامیاب کیا اور فتح مکہ پر کس شان سے سب کو معاف کردیا- اور اسلام کی اصلی روح کو پیش کیا کہ اسلام میں برداشت ہے تشدد نہیں-
اسلام میں رحم ہے جبر نہیں-اور قرآن میں بڑے واضع طور پر اللہ کا فرمان ہے کہ دین میں کوی جبر نہیں۔ ایک اور مقام پر قرآن کہتا ہے تمہارا دین تمہارے لی میرا دیں میرے لیے-تو اگر ایک غیر مسلم ،مسلمان بچوں کے مزہب کا احترام کرتے ہو ے ان کو اپنے دفتر میں نماز کی اجازت دے سکتی ہے تو ہم مسلمان جن کا اللہ قرآن اور اپنے نبی کے ذریعے بار بار برداشت، رحم دلی کا حکم دیتا ہے اور تشدد سے منع کرتا ہے۔ تو ہم کیا کر رہے ہیں۔ اور ان لوگوں کی کیا اہمیت رہ جاتی جو دین کے نام پر دھماکے، قتل و غارت، اور بے گناہ مسلمانوں کو کو قتل کر رہے ہیں۔ کیا یہ سب باتیں اسلام کے خلاف نہیں ہیں؟
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں