88

یورپ اور پاکستان میں انسانی رویوں کا فرق۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

میں پاکستان سے باہر یورپ کے ایک ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ جب میرا بیٹا سخت بیمار ہو گیا تو میں اس کو ایمرجنسی وارڈ میں لے گیا جونہی میں ادھر پہنچا تو ہسپتال کے عملہ نے ہم کو ہاتھو ہاتھ لیا۔ ابتدائی ٹریٹمینٹ کے بعد ہم کو کمرہ مل گیا حسن سلوک بہت اعلی تھا- 

نرس مجھ سے پوچھتی ہے تم لوگ مسلم ہو تو میں نے ہاں میں جواب دیا تو وہ کہنے لگی کہ میں نےاس لیے پوچھا تاکہ تمہیں مسلم والا کھانا دیا جائے۔ پہلے میں اپنے بچے کی وجہ کافی پریشان تھا لیکن ان لوگوں کے حسن سلوک کی وجہ سے کافی تسلی ہوئی جو کہ نہ صرف رنگ و نسل اور مذہب سے بالا تر ہوکر بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھ رہے ہیں میں مسلم ہوں اور مجھے مسلم والا کھانا ملنا چاہیے۔ 
سچی انسانی ہمدردی کے جذبے سے اپنے فرائض ادا کیے۔ ان لوگوں کے حسن سلوک سے متاثر تو میں ہوں مگر ساتھ ساتھ اپنے ملک پاکستان کے حالات رہ رہ کر خیال آ رہا ہے کہ یہ غیر مسلم ہوکر رنگ و نسل اور مذہب کی تمیز نہیں کرتے اور انسانون کی خدمت کررہے ہیں اور ہمارے ہسپتالوں، تھانوں، عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں غریب امیر کے درمیان امتیازی سلوک تو ہوتا ہی ہے لیکن ظلم یہ ہے کہ کلمہ گو کلمہ گو کو کافر کہہ کر مار رہا ہے ہمارا مذہب اسلام تو ہمیں انسانی ہمدردی، محبت ،اخوت بھائی چارہ سکھاتا ہے- 
کیا ہمیں اپنے مذہب کے سنہری اصولوں کا علم نہیں ہے یا ہم کو پرواہ نہیں ہے؟ جو لوگ ہم لوگوں میں سماجی برایوں کے علاوہ مذہبی نفرت پھیلارہے ہم ان کا ساتھ کیوں دیتے ہیں؟ اگر غیر مسلم میرے مسلم ہونے کا احترام کر سکتے ہیں تو ہم مسلمان ہو کر مسلمان کا احترام کیوں نہیں کرتے؟ ہم مسلمان ہو کر انسان کا احترام کیوں نہیں کرتے؟ یہ مذہبی نفرت، خاندانی نفرت، صوبائی نفرت اور لسانی نفرت کیوں؟ 
ہمیں مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہر اس آدمی ہر اس گروہ سے دور رہنا چاہیے جو پاکستان اور مسلم یونٹی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اورہر انسان سے رنگ و نسل اور عقائد کی تمیز نہ کرتے ہوے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اور یہی دین اسلام کا اصول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں