168

عملی کلمہٴ طیّبہ ہی نجات کا ضامن ہے۔

ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور مرتے وقت اُسکی زُبان پر کلمہ طیّبہ جاری ہو یعنی آخری لمہے کا تصُوّر آتے ہی ہر ایک کو اپنی نجات کا خیال آتا ہے۔ البتّہ کم لوگ ہی کلمہ طیّبہ کے عملی مفہُوم سے واقف ہیں
کیا موت کے وقت فرعون نے کلمہ نہیں پڑھا۔ کیا موت کے وقت پڑھے کلمے نے فرعون کو نجات دلائی ؟

کلمہ پڑھنا ہے تو اپنی زندگی میں اپنے عمل سے پڑھو۔ کلمہ تو بس اس یقین کا علامتی اظہار ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔

یقین کا یہ علامتی اظہار نجات کے لیے کافی نہیں اس یقین کا عملی اظہار ہی آخرت میں نجات دلائے گا۔ کیونکہ زُبانی اظہار کسی کے فائدے کا نہیں۔ قیامت کے دن اعمال گنے نہیں تولے جائیں گے۔

یعنی اعمال کا سوشل ایمپیکٹ دیکھا جائے گا۔ لہٰذا ایک مومن کی مرتے ہُوئے بھی کوشش ہوگی کہ اُس آخری لمہے میں ظُلم اور جبر کے نظام اور اُس نظام کے علمبرداروں کے خلاف باآوازِ بُلند نعرہٴ مستانہ بُلند کرے۔

تاکہ اُس کے اردگر موجُود ڈرے اور سہمے ہُوئے لوگوں کو حوصلہ ملے اور اُسکا نعرہٴ مستانہ سماجی انصاف کے لیے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو۔

اگر دین کی روح سماجی کی بجائے انفرادی ہوتی تو میں اُس آخری لمہے میں نفل کی نیّت باندھ لیتا۔

آپ ظُلم کے نظام کے خلاف تنقید کو غیر ضروری نہ سمجھیے ظُلم اور ظالم پر پبلیکلی کی گئی تنقید ظالم کا ہاتھ روکنے کی حکمتِ عملی کی سیڑھی کا سب سے مُشکل اور ابتدائی زینہ ہے۔

ابھی اپنے دوستوں کی والز کھنگال لیجیے ہزاروں میں سے ایک یادو ہونگے جو ظُلم اور ظالم کے خلاف سامنے آتے ہونگے۔

طارق جمیل ہو یا طاہرُ القادرئ امام کعبہ ہویا غامدئ پرویز ہو یا قادیانی ظالم کے سامنے کون کھڑا ہوا

کوئی بھی نہیں۔

سبھی مصلحت سکھاتے یا اللہ اللہ کر کے دُنیا کوٹھیک کرنے کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

عمل وہی ایمان والا ہے جو سماجی اہمیّت کاحامل ہو۔

آخری لمہے میں کلمہ پڑھنے کی روایت بھی یہی بتاتی ہے کہ موت بھی توحید کے نعرہٴ مستانہ کے ساتھ آئے۔

اگر اللہ بڑا ہے تو ظالم بڑا نہیں ہو سکتا۔

اگر ظالم بڑا ہی نہیں تو ڈر کس بات کا ہے۔

اگر ایک دن آخری سانس لینی ہی ہے اور اگر اُس وقت کلمہ طیّبہ پڑھنے کی خواہش بھی ہے تو آج کلمے کے عملی اظہار میں مصلحت کیوں آڑے ہے۔

یعنی اگر آج مصلحت حاوی ہے موت کے وقت کلمہ پڑھنے کی خواہش کیا مُنافقت نہیں۔

موت تو وہی اچھی ہے جو قُربانی محسُوس ہو۔

جیسے قُربان ہونے والا جانور بھُوکوں کا پیٹ بھرنے کو اپنا گوشت دے جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک مومن کی موت سے بھی سماج کو سبق ملناچاہیے۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں