107

میرا دل بدل دے۔

آج جنید جمشید کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا۔ اس دوران ایک بات اچھی ہوئی کہ ہم میں سے بہت سوں نے کم از کم موت کا احترام کرتے ہوئے ہی تنقید کا وہ زہر اُگلنا بند کر دیا جو یہاں جیتے جی ہر اُس شخص کو پینا پڑتا ہے جو ماضی کے بر عکس، اپنے لئیے فلاح کی نئی راہیں چنتا ہے۔ چند ہیں کہ اب بھی اپنے ایمان کا قد، جنید جمشید کی مختصر دینی زندگی سے بڑا دکھانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ بہر حال،آج دل چاہا اُن کے بارے کچھ بات کی جائے۔
ہم نے جنید جمشید کی اس دعا کو قبول ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

بدل دے دل کی دنیا،دل بدل دے ! 
میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے !

میوزک کانسرٹس میں جینز اور گٹار پہ رومانوی گیت گانے والا جنید جمشید ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے عشِْ رسولﷺ میں مبتلا ہوا اور رب اور اُسکے محبوبﷺ کی مدح سرائی میں ڈوبتا چلا گیا۔ ہم ہیں کہ پھر بھی شائک رہے۔ ظاہر سے باطن تک کے اس بدلاؤ میں کیا کیا دشواریاں نہ آئی ہوں گی، پر ہم نے جنید جمشید کو ہمیشہ مسکراتے ہی دیکھا۔ یہ وہ سر خوشی ہے جو صرف وہی جان سکتا ہے جو اس سحر میں گرفتار ہو ۔ ہمارے پاس اس کو ناپنے کا صرف ایک پیمانہ ہے اور وہ ہے ایسے رستے پہ چلنے والے کی’ استقامت‘۔ اور ہم نے دیکھا کہ جنید جمشید نے واپسی کی کوئی راہ نہ چنی۔

گلیمر کی وہ دنیا جس میں اپنا امیج بنانا جتنا مشکل ہے اسے بدلنا اُس سے بھی کٹھن ۔ جنید جمشید کا نام اسی گلیمر کی دنیا میں ایک نیا امیج بنا ۔ انہوں نے اپنی ذات اور شخصیت کی نفی اس خوبصورتی سے کی کہ نوجوانوں نے ’دینی ٹرانسفورمیشن‘ سے ڈرنا چھوڑ دیا اور اسلامی روپ اپنانے میں ایک شان محسوس کی ۔ ایک اجلے، نکھرے ، صاحبِ حیثیت ،تعلیم یافتہ، ماڈرن ، مسکرانے اور درگزر کرنے والے مسلمان مرد کے وجیہہ روپ نے گدلے، تنگ نظر، غیر ترقی پسند، فرقوں اور مسلکوں میں الجھانے والے نام نہاد مسلمان مرد کو خوب چیلنج دیا۔مگر ہم نے دیکھا کہ جنید جمشید وار اور شکار کرنے والوں سے بھی بے حد ملائیمیت سے نمٹتے رہے۔ اپنی غلطی اور کوتاہی پر آنسو بہا کر اپنے رب سے اور اپنے پیاروں سے معافی مانگنا، اپنی کم علمی کا اعتراف کرنا، اپنی اصلاح کے لئے تیار رہنا، کیا آسان کام ہے؟ ہم نے یہ سب بھی جنید جمشید کو کرتے دیکھا۔۔ یہ دلیل بھی ہمارے لئے کم رہی ۔ کیونکہ شاید جسے بدلنے کی ضرورت ہے وہ ہمارا دل ہے۔

ہم دلائل ڈھونڈتے رہتے ہیں کسی کو نیچا دکھانے کے لئے۔۔۔ کبھی کسی کے ماضی کی غلطیاں دہرا کر، کبھی ازدواجی معاملات پر چہ مگویئیاں کرکے ،کسی کی خداداد صلاحیات پر سوال اُٹھا کے اور کبھی کسی کے روزی، رزق اورما ل و دولت کا اپنے تئییں حساب کتاب کر کے۔ کرنے کو تو ہم اور بھی بہت کچھ کرتے ہیں پر ان باتوں کا ذکر اس لئے کہ یہ جنید جمشید سے وابستہ تھیں۔

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ جو راستہ کوئی شخص چھوڑ آیا ہو اور بتاتا ہو کہ وہ رستہ ٹھیک نہ تھا۔ ندامت کا اظہار بھی کرتا ہو۔ اُس پہ تبصروں کی گنجائش ہی کہاں رہ جاتی ہے۔ کسی کی نجی اور ازدوجی زندگی کی وہ باتیں جو آپ کو اور مجھے کوئی فائدہ نہ نقصان دے رہی ہیں اُس پہ کیا ہی گفتگو کرنی ؟ جس دین کی پیروی کا ہم دعویٰ کرتے ہیں اُس میں ان معاملات پر لب کشائی سے کسی حکمت کے تحت ہی منع فرمایا گیا ہے۔وہ حکمت پردہ پوشی بھی ہو سکتی ہے اور رب کے فیصلوں میں دخل اندازی سے اجتناب کا اشارہ بھی۔

غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جو منفرد خوبی رب نے کسی کو عطا کی، اُس پہ سوال اٹھانے کی اجازت ہمیں کب دی گئی؟ اللہ نے کسی کو خوبصورت آواز دی اور سُر کی عقل بھی تو وہ گنگنائے گا ہی کیونکہ اسکا رب یہی چاہتا ہے۔ جنید جمشید نے یہاں بھی ایک نیک روح ہونے کا ثبوت دیا کہ اس نعمت کے استعمال میں بھی سفر ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہی رہا۔ ۔۔حسن و محبت کے نغموں سے حمد و ثناء اور اذان تک۔۔۔بالکل ان الفاظ کی طرح جو ہم نے انہیں مسرور ہو کہ گنگناتے دیکھا۔

بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے۔۔۔محمدﷺ کا روضہ قریب آ رہا ہے۔۔۔

رہی بات دولت کی ۔۔۔ اسے اوّل تو نعمت سمجھنا ہی بہت سوں کے لئے کٹھن ہے اور سمجھ بھی لیں تو اپنے دین کو دولت اور دولت کو دین سے الگ ہی رکھنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن کسی کا سر کاٹنے کے لئے اُسی کی دولت کی تلوار بھی استعمال کرنے سے نہیں چُوکتے ۔ جنید جمشید کے JJ برینڈ کی قیمتوں پر شاید ہی کوئی ہو جو اعتراض نہ رکھتا ہو۔ سوال منافع کی ’شرح‘ اور جنید جمشید کی ’شرع‘ کا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ شرع، منافع کی شرح پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتی۔ چند شرائط ضرور ہیں سامان بیچنے کی سامان میں عیب کی صورت میں۔۔۔ ورنہ بیچنے والا جو دام چاہے اپنے مال کے لگائے ۔ خریدار کی استطاعت ہے تو خریدے ورنہ نہ خریدے۔ خریداری کا یہ اصول بڑا واضح ہے ۔ جس کے تحت صرف JJ ہی نہیں تمام کاروبارِ زندگی چلتا ہے۔ سوال صرف نا جائز اور حرام ذرائع پہ ہونا چاہئے جس کے لئے ہم بدقسمتی سے بحیشیت قوم بڑی کشادہ دلی رکھتے ہیں ۔ مگر اسلام کے ساتھ جانے کیوں پیسہ اور خوش حالی وابستہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ ضرورت اس سوچ کو بدلنے کی ہے۔

ضرورت اس سوچ کو بدلنے کی ہے کہ جو جنید جمشید جیسے کسی بھی انسان کی خوبیوں کو نظر انداز کرکے ، اسکی زبان کی حلاوت اور دین کی خدمت بھلا کر، ا سکی ریاضت اور عبادت کو ضائع قرار دینے میں برسرِ پیکار ہے ۔ میرا خیال ہے کہ آج ہمیں بھی اس دعا کے ساتھ آواز ملانے کی ضرورت ہے جو دعا کبھی جنید جمشید نے اپنے لئے مانگی تھی۔

میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے۔۔۔
خدایا فضل فرما ،دل بدل دے۔۔۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p4 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں