196

کُتا کھانسی اور کُکڑ کھانسی۔

عنوان پڑھنے سے گالی کا مغالطہ ہوتا ہے مگر یہ کھانسی کی ایک قسم ہے جس میں انسان کو کھانسنے کا دورہ پڑتا ہے اور وہ کھانستا چلا جاتا ہے۔ کھانسنے کا یہ عمل بعض اوقات اتنا طویل ہوجاتا ہے کہ سانس لینے میں دُشواری آنے لگتی ہے۔ یہ کھانسی خشک ہوتی ہے اور اسے دیکھنے والا ہنستا ہے مگر جس کو لگتی ہے اُسکی جان نکل رہی ہوتی ہے۔ انگریزی میں اسے Whooping Cough بھی کہتے ہیں۔ اور اسکا میڈیکل نام Pertussis ہے۔ جب اس کھانسی کا دورہ پڑتا ہے تو اللہ کی پناہ،گویا یہ کیفیت ہو جاتی ہے جیسے تختہ دار پر لٹکے ہوئے مجرم کا دم نکلنے سے پہلے اس کا چہرہ سرخ اور آنکھیں باہر ابل آتی ہیں۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس کھانسی میں آواز کچھ ایسے نکلتی ہے۔ ۔

کھک کھاؤں، کھک کھاؤں، کھک کھاؤں، کھک کھاؤں

ایسی آوازیں بغیر کسی وقفے کے لگاتار نکلتی جاتی ہیں۔ ان آوازوں کو الفاظ میں قلم بند کرنا مشکل کام ہے۔ بعض اوقات آوازیں کچھ اس طرح سے بھی نکلتی ہیں۔ ۔

کھک کھک کھک کھک کھک کھک کھک کھک کھک

ایسی آوازوں والی کھانسی کو کُکڑ کھانسی کہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں اگر آوازیں کتے سے مشابہ ہوں تو کتا کھانسی اور اگر کُکڑ سے مشابہ ہوں تو کُکڑ کھانسی۔

اگر کھانسی کا دورہ شدید ہو اور اسکا دورانیہ طویل ہو جائے تو ان آوازوں میں کچھ اور آوازیں بھی شامل ہوسکتی ہیں جیسے۔

پھڑڑڑڑ، پھڑڑڑڑ،

کوں ں ں، کوں ں،

ٹیں ں ں، ٹیں ں ں،

یہ آوازیں جو بظاہر کھانسی کے ساتھ ہی نکل رہی ہوتیں ہیں مگر کھانسی کا حصہ ہرگز نہیں ہوتیں بلکہ انکے نکلنے کی جگہ نظام انہظام کا آخری حصہ ہوتا ہے۔ ان آوازوں کا اپنا نام ہوتا ہے جس کو لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ لوگ اسے خود ہی سمجھ جاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے کھانسی کے ساتھ یہ آوازیں مکس ہوجاتی ہیں اور انسان کو مزید کسی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ایسی کھانسی اگر شادی سے پہلے لگے تو شادی سے انکار ہو جاتا ہے اور کہا جاتا ہے لڑکا تو ٹی بی کا مریض ہے اور اگر شادی کے بعد لگے تو یا شادی ٹوٹ جاتی ہے یا شوہر نامدار کا سر۔ ۔ ۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

ایسی خطرناک کھانسی کے ساتھ اگر انسان مسجد، دفتر، یا کسی اور عوامی محفل میں چلا جائے تو اسے ایک بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہر شخص آپ سے ہمدردی اور عیادت ایسی شکل بنا کر کرتا ہے گویا آپ کی تعزیت کر رہا ہو، اور اپنے اپنے طور پر ایسے ایسے نسخہ ہائے شفا بیان کئے جاتے ہیں ،کھانسی سے لے کر کینسر تک علاج اتنے یقین سے بتائے جاتے ہیں کہ ان پر ایمان لانے کا دل چاہنے لگتا ہے۔

ہر شخص اپنے طور پر ڈاکٹری کے فرائض انجام دیتا ہے،مختلف دواؤں کے استعمال کے مفت مشورے،حکیمی نسخے، گھریلو ٹوٹکے اور ہومیو پیتھک دوائیں ،غرضیکہ علاج کا کوئی طریقہ ایسا نہیں ہوتا جو آپ کو بتایا نہ جائے۔

کم بخت کھانسی ہر عمر جنس اور پیشہ کے لوگوں کو لگ سکتی ہے۔ جب یہ کسی شاعر کو لگتی ہے تو وہ اپنے جذبات کا اظہار کچھ ایسے کرتا ہے۔

کھانسی بھی تھی نزلہ بھی تھا دونوں ہی شبِ وصل
کرتے رہے کھاؤں کھاؤں کبھی سڑ سڑ متواتر

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں