159

دوبئی کی سیر۔ حصہ سوم

آج کا دن کافی پرسکون تھا کیونکہ صبح کہیں جانے کا پروگرام نہیں تھا اسلئیے صبح صبح کوئی جلدی بھی نہیں تھی۔ ہوٹل کے بوفے بریک فاسٹ کا مینیو آج تیسرے دن بھی پہلے دو دنوں جیسا ہی تھا، اسلئیے ناشتے پر کوئی زیادہ وقت صرف نہیں ہوا۔

ناشتے کے بعد فیصلہ ہوا کہ آج ڈیزٹ سفاری ٹور پر جایا جائے، لہذا بکنگ کیلئے ہوٹل کی ریسیپشن پر موجود ایک صاحب سے انفارمیشن حاصل کی گئی، اور دوپہر تین بجے سے ڈیزٹ ٹور کیلئے ساری فیملی کی 900 دھرم میں فور وہیل ڈرائیو لینڈ کروزر بک کر لی گئی۔ اس پیکیج میں پک ڈراپ، ڈیزٹ سفاری ٹور، اُونٹ کی سواری، باربی کیو ڈنر، عربی چائے، بے شمار سوفٹ ڈرنکس، شیشہ سموکنگ، خواتین کیلئے مہندی لگوانا، تنورا ڈانس اور بیلی ڈانس شامل تھا۔

باتوں باتوں میں ریسیپشن پر موجود رضوان صاحب سے پتا چلا کہ یہ ہوٹل خالد صاحب چلا رہے ہیں اور ہوٹل کا زیادہ تر عملہ بھی پاکستانی ہی ہے۔ دوبئی میں ویسے بھی سب سے زیادہ انگلش بولی جاتی ہے اسکے بعد اردو ہندی کا نمبر آتا ہے اور پھر جنوبی انڈین زبان ملیالم بولی جاتی ہے جبکہ عربی کا نمبر سب سے آخر میں آتا ہے جو صرف عربی لوگ آپس میں بولتے ہیں۔

ٹور پر جانے میں چونکہ ابھی کچھ گھنٹے باقی تھے، اسلئیے دوبئی کی شاپنگ کا پروگرام بنایا گیا۔ ووبئی میں چونکہ چیزوں پر ٹیکس نہیں ہوتا اسلئے چیزوں کی قیمتیں یورپ سے کافی سستی ہیں، اور اشیاء کا معیار یورپ جیسا ہی ہے۔ شاپنگ کے دوران سڑک پر ایک خوبصورت بوکس نما کمرہ نظر آیا جو چاروں طرف سے بند تھا مگر اسمیں لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ائرکنڈیشنڈ بس سٹاپ ہے اور ایسے بس سٹاپ یو اے ای میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ اسے دیکھ کر حیرانی ہوئی کیونکہ ایسے بس سٹاپس تو یورپ اور امریکہ میں بھی نہیں ہیں۔ اسکی وجہ یہاں پڑنے والی گرمی ہے۔

ٹھیک تین بجے ہوٹل کے باہر سفید رنگ کی لینڈ کروزر موجود تھی اور ڈرائیور لابی میں ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ہوٹل سے ڈیزٹ پوائنٹ کا فاصلہ تقریباً ایک گھنٹے کا تھا۔ اس دوران ڈرائیور سے باتوں باتوں میں پتا چلا کہ وہ ساؤتھ انڈین ہے اور ملیالم زبان بولتا ہے۔ دس سال سے دوبئی میں ہے اور اب واپس جانا چاہتا ہے چونکہ اپنی محدود تنخواہ میں اپنی فیملی ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ دوبئی میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستان انڈیا سے مزدور کام کرتے ہیں، جو اکیلے رہتے ہیں اور اپنے بیوی بچے کم تنخواہ کی وجہ سے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔

اتنی دیر میں ڈیزٹ پوائنٹ آگیا جو دوبئی اور شارجہ کی باؤنڈری لائن پر واقع تھا۔ یہاں درجنوں کی تعداد میں لینڈ کروزر کھڑی تھیں۔ ڈرائیور نے ہمیں بتایا کہ یہاں کچھ دیر ریسٹ کر لیں اور یہاں تین اور چار پہیوں والے موٹر سائیکل ہیں وہ آپ ریت پر چلا سکتے ہیں۔ موٹر سائیکل چلانے کا بیس منٹ کا 150 دھرم کرایہ تھا۔ لوگوں کو ریت کے اوپر چلاتے اور گرتے دیکھ کر اس طرف جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔

ایک صاحب عربی لباس پہنے ہاتھ پر ایک خوب صورت ایگل بٹھائے پھر رہے تھے، ان سے تصویر کھینچنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں دس دھرم قیمت بتائی۔ اپنے ہاتھ پر بٹھانے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا تھا اور اسکے ہاتھ پر بیٹھے ایگل کی تصویر کے دس دھرم دینے بیوقوفی تھی چونکہ ایسی ہزاروں تصاویر گوگل سے مفت مل جاتیں ہیں۔

تھوڑی دیر میں ڈرائیور آ گیا اور ہمیں ساتھ چلنے کا کہا۔ گاڑی کے پاس پہنچے تو اس نے اچانک چاروں پہیوں سے ہوا نکالنی شروع کردی۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ پہیوں میں عام طور پر 35 پوائنٹس ہوا ہوتی ہے اور وہ اسے نکال کر صرف دس پوائنٹ کر رہا ہے تاکہ ریت پر چلنے میں آسانی ہو۔ ہوا نکال کر اس نے تین چار گاڑیوں کے کارواں کے ساتھ گاڑی ریت کے وسیع علاقے کی طرف موڑ دی۔

شروع میں نرم ریت پر گاڑی چلنا اچھا محسوس ہوا مگر جب چھوٹے بڑے پہاڑی ریتلے ٹیلوں پر جب سپیڈ سے گاڑی چلی تو اپنی ہوا نکلنی شروع ہو گئی۔ بچے البتہ واؤ واؤ کر رہے تھے، مگر ہمارے ذہن میں گاڑی اُلٹنے کے خدشات سر اُٹھا رہے تھے۔ چاروں طرف میلوں دور ریت ہی ریت تھی اور ڈرائیور سپیڈ سے اچانک موڑ کاٹ رہا تھا۔ ہر دفعہ گاڑی اُلٹنے کا گماں ہوتا مگر خوش قسمتی سے پھر بچ جاتے۔ ایسے ہی ایک اُونچے ریت کے ٹیلے پر گاڑی ریت میں پھنس گئی۔ ہم چونکہ چار گاڑیوں کے کارواں میں سب سے پیچھے تھے اسلئے سب آگے اپنی روانی میں نکل گئے اور بے یارو مددگار پیچھے رہ گئے۔

گاڑی اُونچے ٹیلے کی چوٹی پر گھڑی تھی جسکے دوسری طرف ایک گہری ڈھلوان تھی اور ایک سائیڈ کے دونوں ٹائرُ ریت میں مکمل دھنس چکے تھے۔ ڈرائیور نے بیلچے کی مدد سے ٹائروں کے نیچے سے ریت نکالنے کی کوشش کی مگر سب بے سود۔ اپنی کوشش میں ناکامی کیبعد ڈرائیور نے کسی کو مدد کیلئے فون کیا۔ حیرانی کی انتہا اس وقت ہوئی جب ایک نامعلوم سمت سے ایک لینڈ کروزر مدد کیلئے آ موجود ہوئی۔ ریت میں نہ تو کوئی سڑک ہوتی ہے اور نہ کوئی عمارت یا درخت جسکی نشانی سے بندہ راستہ ڈھونڈ کر آجائے مگر ان لوگوں کا کئی سالوں کا تجربہ تھا اور انہوں مختلف جگہوں کے کوڈزوڈز بھی رکھے ہوئے تھے۔ خیر گاڑی والے نے رسی کی مدد سے ایک جھٹکے میں گاڑی پیچھے سے نکال دی اور اللہ اللہ کر کے ہمارا سفر شروع ہوا۔

ایک جگہ ڈرائیور نے گاڑی روک کر تصاویر بنانے میں ہماری مدد کی۔ ریت پر پاؤں رکھے تو عجیب احساس ہوا۔ نرم نرم ریت میں پاؤں دھنسے جا رہے تھے۔ بچوں کے ساتھ ریت پر دوڑ لگائی اور خوب ہلہ گلہ کیا۔ اسی دوران میلوں دور ریت کے اس صحرا میں سورج ڈوبنے کا منظر دیکھا۔ ریت کے ذروں پر چمکتی روشنی اچانک اندھیرے میں تبدیل ہوگئی۔ سورج غروب ہونے کی دیر تھی کہ سردی محسوس ہونا شروع ہوگئی۔ ریت کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ سورج کی روشنی میں گرم اور رات کے اندھیرے میں ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔

اندھیرا ہونے پر ڈرائیور نے گاڑی ایک بڑی سی سڑک کی طرف نکال دی اور بیٹری کی مدد سے گاڑی کے چاروں پہیوں میں ہوا دوبارہ بھر دی۔ آدھا گھنٹہ گاڑی سڑک پر چلنے کے بعد دوبارہ گاڑی ریت کے صحرا میں داخل ہوگئی۔ چار یا پانچ کلومیٹر کے بعد ریت کے صحرا میں ایک بڑا سا کیمپ نظر آیا جسکے باہر درجنوں لینڈ کروزر گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ باہر تین اونٹ ایک قطار میں سجائے ایک صاحب کھڑے تھے۔ اُونٹ دیکھ کر بچوں نے شور مچا دیا کیونکہ یورپ میں اُونٹ نہیں ہوتے اور بچے پہلی وفعہ اُونٹ دیکھ رہے تھے۔ اُونٹ پر بیٹھنے لگے تو اُونٹ والے نے وارن کیا کہ ہاتھ مضبوطی سے پکڑنا، گرنے کا خطرہ ہے۔ اُونٹ جب آٹھتا ہے تو پہلے آگے والی ٹانگیں اُٹھاتا ہے تو اوپر بیٹھا بندہ پیچھے کو گرتا ہے چونکہ پچھلی ٹانگیں ابھی زمین پر ہی ہوتی ہیں, اور جب ہیٹھتا ہے تو پہلے اگلی ٹانگیں زمین زمین پر بچھا دیتا ہے تو بندہ آگے کی طرف گرنے لگتا ہے اور جب پچھلی ٹانگیں زمین پر بچھاتا ہے تو پیچھے کی طرف جحٹکا لگتا ہے۔ اُونٹ کی انہی عادات کی وجہ سے سیانے لوگ ایک محاورہ استعمال کرتے ہیں، اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔

کیمپ کے اندر ایک بہت بڑا گول شکل کا سٹیج بنایا گیا تھا، جسکے اردگرد آرام دہ نشستیں اور میزیں لگائی تھیں۔ ہر ٹیبل پر بکنگ کا ٹیگ لگا تھا۔ ایک صاحب نے ہماری ٹیبل دکھائی اور تقریب کے ٹائم ٹیبل کے بارے میں بتایا۔ تھوڑی دیر میں تقریب کا آغاز ہوگیا۔ پہلے سب کو سٹاٹر کے طور پر ایک شوارما، سموسہ فلافل اور سافٹ ڈرنکس دئیے گئے۔ ساتھ ہی ایک صاحب جو پروفیشنل ڈانسر تھے، انہوں نے ایک بڑے سے فراک نما ڈریس سے اپنے اردگرد گھومنے کا آغاز کیا۔ وہ ناقابل یقین حد تک اپنے اردگرد گھوم رہا تھا اور اسکی فراق ایک بڑے دائرے کی شکل میں گھوم رہی تھی۔ تھوری دیر میں لائٹس آف ہو گئیں اور اسکے فراق سے سفید روشنییاں نکلنا شروع ہوگئیں۔ اسکے بعد ایک صاحب نے آگ کے چراغ ہوا میں لہرا کر ڈانس کیا، وہ پٹرول پی کر منہ سے بھی آگ نکالتا تھا۔

جلد ہی عربی بار بی کیو ڈنر کا اعلان ہوگیا، لوگ اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے عربی ڈنر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اسی دوران ایک خوبصورت ڈانسر سٹیج پر نمودار ہوئی اور اس نے ڈانس شروع کیا۔ یہ عربوں کا مشہور بیلی ڈانس تھا۔ وہ اتنی سرعت اور خوبصورتی کے ساتھ اپنے جسم کا ایک ایک حصہ ہلا رہی تھی کہ حاضرین محفل دم بخود ہو گئے۔ رات دس بجے تک یہ بیلی ڈانس جاری رہا اور لوگ فنکارہ ڈانسر کی مہارت کی داد دیتے رہے۔ محفل کے اختتام پر ڈرائیور نے ہمیں ہمارے ہوٹل ڈراپ کیا اور اس طرح ایک اور مصروف ترین دن اختتام پزیر ہوگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

دوبئی کی سیر۔ حصہ سوم” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں