176

سویڈش فرنیچر کمپنی ایکیا کے بانی انگوار کامپراد وفات پا گئے۔

ایکیا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی سویڈن کے علاقے سمولینڈ میں کامپراد اکانوے سال کی عمر میں اپنے پیاروں اور رشتہ داروں کے درمیان ہفتے والے دن وفات پا گئے ہیں۔

سویڈن کے وزیراعظم سٹیفن لوفوین نے نیلے اور پیلے مونو والی ایکیا کے بانی کی وفات پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ انگوار نے سویڈش کاروبار میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور گھروں اور دفاتر کی تزئین و آرائش ایک عام آدمی کیلئے بھی آسان کردی ہے۔

سویڈش بادشاہ کارل گستاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انگوار ایک اصلی کاروباری آدمی تھا جس نے دنیا میں سویڈن کو ایک نئی پہچان دی ہے۔ مجھے اور ملکہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پچھلی گرمیوں میں ہمیں بوڑھے لوگوں کے گھر بنانے کیلئے انگوار کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا۔ میری اور میرے خاندان کی تمام دلی ہمدردیاں انگوار کے خاندان کے لئیے ہیں۔

کامپراد کے نزدیکی دوست برٹل تورکل نے سویڈش اخبار آفٹن بلادت کو بتایا کہ ایک عظیم صنعتکار ہمیں تنہا چھوڑ گیا ہے۔

ایکیا کے سی ای او توربجورن لووف نے کہا ہے کہ انگوار کی موت پر وہ گہرے دکھ اور صدمے میں ہیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

انگوار سویڈن میں ایک عام سے گھرانے میں پیدا ہوا اور کاروبار کرتے کرتے 2007 میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

انگوار نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو وقت کی قدروقیمت کو سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالبعلمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ کامیابی انکو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔ انسان معاشی زندگی تب شروع کرتا ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔

کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جاسکتا تو دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔ اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں ان میں سے کوئی بھی پروفیسر یا ماہر تعلیم نہیں۔ دنیا میں نکمے لوگوں کیلئے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کیلئے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔

انگوار 1926 میں سویڈن کے ایک گاؤں میں مزدور خاندان کے ہاں پیدا ہوا۔ پانچ سال کی عمر میں اس کے والدین نے اسے بھی مزدوری پر لگا دیا، لیکن اسنے جلد ہی مزدوری چھوڑ کر سائیکل پر گلی گلی ماچس بیچنی شروع کردیں۔ چھ ماہ ماچس بیچنے کے بعد اس نے ماچس، مچھلی، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس، کرسمس کارڈ اور پینسلوں کی ہول سیل کا کام شروع کردیا۔
جب وہ 17 سال کا ہوا تو اسکے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دئیے جس سے اسنے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف سٹائل ہی بدل دیا۔

اس دور میں یورپ میں بھاری لکڑی کا فرنیچر بنتا تھا اور کئی نسلوں تک چلتا تھا۔ انگوار نے ہلکی اور سائز میں چھوٹی لکڑی کا شوخ رنگوں میں فرنیچر بنوا کر بیچنا شروع کردیا۔ لوگوں نے اسے بیوقوف سمجھا مگر اس نے مستقبل کی لوگوں کی شہروں کو نقل مکانی کو بھانپ لیا تھا۔ اسے اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ جب سارے لوگ شہروں کی طرف جائیں گے تو تنگ مکانوں اور فلیٹوں میں رہیں گے اور وہاں انہیں سستے اور ہلکے فرنیچر کی ضرورت پڑے گی۔

ایسی باتوں کو ذہن میں رکھ کر اسنے سویڈن میں ایکیا نام کی ایک کمپنی بنائی۔ اسکی محنت، سوچ، اور ایمانداری کی وجہ سے اسنے 1980 میں گھر میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لیکر پورے باورچی خانے کے سیٹ اپ تک ساری چیزیں دیدہ زیب رنگوں میں بنانا شروع کردیں اور اپنا کاروبار دنیا کے طول وعرض میں پھیلا دیا۔

آج اسکے سٹوروں پر ہزار ملین ڈالر تک روزانہ کی سیل ہوتی ہے، اور پورے یورپ میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں ایکیا کی بنی ہوئی کوئی چیز موجود نہ ہو۔

فوربس انٹرنیشنل نے اسے 2007 میں دنیا کا چوتھا امیر ترین آدمی اور 2015 میں آٹھواں امیر ترین آدمی قرار دیا ہے۔ اسکے اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر ہیں اور وہ خود کبھی کالج نہیں گیا مگر اسکی کمپنی میں 30 ہزار اعلی تعلیم یافتہ لوگ کام کر رہے ہیں۔

مزدور کے گھر پیدا ہونے والا انگوار لاکھوں لوگوں کی روزی کا سبب بنا اور اسنے اپنی محنت سے یہ ثابت کردیا کہ دولت تعلیم میں نہیں بلکہ کاروبار میں چھپی ہے۔

انگوار کے الفاظ ہیں کہ ترقی چیونٹی کے پاؤں لیکر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اسکے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا کوئی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا مگر انسانی ہاتھ میں وہ طاقت ہے جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتا ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ انہیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں