142

بچی چیک کر ذرا۔

جی ہاں ۔ ہمارے سماج میں بچی چیک کر ایک روزمرہ محاورہ ہے۔ اور بچی چیک کرنے کے لیے دوست مل کر لبرٹی ,مال روڈ , ڈیفینس اور فورٹریس اسٹیڈیم کا چکر لگاتے ہیں۔ پارکوں اور باغات میں منڈلاتے ہیں۔ بچی چیک کرنے اور اس میں ورائٹی لانے کی خاطر پر فضا مقامات کی طرف نکل جاتے ہیں ۔

جی ہاں۔ مری جانا ہو۔ تو پوسٹ آفس کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر وہاں پر سیاحت کی غرض سے آئی سارے ملک کی بچیوں کو چیک کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو کہنیاں مارتے ہیں۔ آنکھوں سے اشارے کرتےہیں۔ گھورتے ہیں۔ اور پھر جذبات سے مغلوب ہو کر ایک دوسرے کو کہتے ہیں۔ یہ بچی چیک کر۔ وہ بچی چیک کر۔

ایک زمانہ تھا۔ بچی چیک کرنے کے مقامات محدود تھے۔ ترسے ہوئے لڑکے اور بھوکے نوجوان باغ جناح جاتے۔ ریس کورس چلے جاتے۔ اور کچھ نہیں تو چڑیا گھر ہی تشریف لے جاتے۔ وہاں بندر یا لگڑ بگڑ چیک نہ کرتے۔ بچیاں چیک کرتے۔ ہجوم میں گھس جاتے اور بچیوں سے چپک کر کھڑے ہو جاتے۔ کچھ دل جلے جو زیادہ ہی شودے ہوتے۔ بس سٹاپوں پر گھنٹوں کھڑے رہتے۔ بسوں میں خواتین کی سائیڈ پر اترنے اور چڑھنے کی کوشش کرتے۔ اور اس کوشش میں بچیوں کو تفصیل سے چیک کرنے کی کوشش کرتے۔ اور پھر اپنی کامیابیوں کی تفصیل چسکے لے کر دوستوں کو سناتے۔

پرانے وقتوں میں لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں کے باہر یہ سرگرمیاں جاری رہتیں ۔ لڑکیوں کے تانگوں کے پیچھے پیچھے چلا جاتا ۔ اور بچیاں چیک کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ۔ خیر وہ پرانے غیر تہذیب یافتہ وقت تھے۔ اب زمانہ ترقی کر گیا۔ بچیاں چیک کرنے کے لیے جگہ جگہ ماڈرن ریسٹورنٹ کھل گئے ہیں۔ جدید شاپنگ مالز بن گئے ہیں۔ اور ان ترقی یافتہ سہولیات سے بچی چیک کرنے کا عمل بھی ترقی کر گیا ہے۔

معاملات چڑیا گھر سے نکل کر انٹرنیٹ، فیس بک اور سوشل میڈیا میں داخل ہو چکے ہیں۔ اب بچیاں چیک کرنے کے لیے گھر سے باہر بھی نکلنا نہیں پڑتا۔ ہر گھر میں یہ سہولت موجود ہے۔ سوئچ آن کرو۔ لیپ ٹاپ لگاو۔ اور بچیاں چیک کرنی شروع کر دو۔

اسی طرح اب شوقین حضرات مری جانا پسند نہیں کرتے۔ نیچر سے رومانس انہیں دور شمالی علاقوں کی جانب لے جاتا ہے۔ اور رومان پرور فضا میں رومان پرور جذبات کی کھل کر تسکین کی جاتی ہے۔ اسی طرح چاند رات کو بازار سج جاتے ہیں۔ مارکیٹیں چمک اٹھتی ہیں۔ چوڑیوں اور مہندی کے اسٹالوں پر رش بڑھ جاتا ہے۔ اور محلوں کے لونڈے لپاڈے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے باہر نکل آتے ہیں ۔ یعنی کچھ کرلو نوجوانوں کہ اٹھتی جوانیاں ہیں۔

اچھا یہ نہیں کہ بچیاں چیک کرنے کا یہ معمول سڑکوں، فٹ پاتھوں، پارکوں، ریسٹورنٹوں اور شاپنگ پلازوں میں ہی جاری ہے۔ خیر سے یہ قومی فریضہ تمام پرائیوٹ و سرکاری دفاتر ، کمپنی آفسز ، ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اپنی پوری شدت اور جہالت سمیت جاری ہے۔

دراصل جہاں بھی کوئی خاتون کام کرتی ہے۔ جاب کرتی ہے۔ اسے مال غنیمت سمجھ لیا جاتا ہے ۔ اسے آتے جاتے گھورا جاتا ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں اس کے جسمانی اعضاء پر سیر حاصل گفتگو کی جاتی ہے۔ اس کے چلنے کے انداز پر کمنٹس کیے جاتے ہیں ۔ اور کن اکھیوں سے اشارے کیے جاتے ہیں ۔ بچی چیک کر۔

بات یہ ہے۔ ہماری سوسائٹی ایک مردانہ سوسائٹی ہے۔ مرد کی برتری کا احساس مرد کی نفسیات میں بیٹھا ہے۔ یہ احساس برتری کا مارا مرد عورت کو اپنی انٹرٹینمنٹ کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔ بوجہ اس کی عزت کرنے کو تیار نہیں ۔

حالانکہ عورت کا تصور اس کو محظوظ کرتا ہے۔ اس کے مردانہ جذبات کو لطف دیتا ہے۔ تسکین کرتا ہے۔ مگر اس کا خیال ہے۔ جو عورت گھر سے باہر نکلی ہے۔ وہ اب باہر کی پروڈکٹ ہے۔

چناچہ یہاں سے ہمارا وہ سماجی ، معاشرتی اور ثقافتی رویہ جنم لیتا ھے۔ کہ بچی چیک کر۔ ازدواجی زندگی سے ہٹ کر دوسری جگہوں پر تعلقات استوار کرنا کیا ہمارے معاشرے میں عام نہیں؟؟؟؟

فیس بک پر کسی عورت کی آئی ڈی پر لائکس اور کمنٹس دیکھ لیں ۔ خواتین کو سرپرستی میں لینے کی خواہش کے پیچھے آخر کیا نفسیات چھپی ہے ؟؟؟؟؟

پونڈی کرنا ایک معاشرتی آرٹ ہے۔ جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ سینئر طلباء ، کزنز اور دوست پونڈی کرنے کے آرٹ اور بچی چیک کرنے کی صلاحیت پر باقاعدہ کوچنگ کرتے ہیں۔ کلاسز لی جاتی ہیں۔ چسکے لیے جاتے ہیں ۔ ٹھٹھے لگائے جاتے ہیں ۔

عورت کو انٹرٹینمنٹ کی پروڈکٹ سمجھا جاتا ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ، ملازم پیشہ طبقہ اور لٹریری طبقہ اس پونڈی کلچر میں زیادہ ملوث ہے۔

پونڈی مطلب ہے ٹھرک جھاڑنا
سیکس ایجوکیشن گئی بھاڑ میں ۔ تمام احتیاطیں گئیں تیل لینے۔ پہلے اپنی قوم کا یہ بگاڑ تو صحیح کر لیں۔ جو صدیوں سے نسل در نسل ہمارا اجتماعی گلٹ بن کر ہمارے اندر پرورش پا رہا ہے۔ ہم عورت کی عزت کیوں نہیں کرتے؟؟؟؟؟؟ Copied

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں