چیف جسٹس صاحب! کراچی کی بیٹی کو بھی انصاف دلائیں۔

وہ نویں جماعت کی طالبہ اور حافظ قرآن تھی امتحان دینے گئی اور واپس نہیں آئی۔۔۔۔فون کال سے پتہ چلا وہ اغوا ہو چکی ہے۔۔۔۔۔یہ تحریر پڑھئے اور اس مکروہ نظام کا چہرہ دیکھئے میں یہ تحریر ایک نشست میں نہیں لکھ سکا مجھ میں حوصلہ نہیں تھا۔۔۔۔

’’ چیف جسٹس صاحب! کراچی کی بیٹی کو بھی انصاف دلائیں۔۔۔‘‘

پنجاب کی زینب کو انصاف مل گیا !۔۔۔۔مردان کی اسماء کے قاتل بھی پکڑے گئے!۔۔۔۔میرا کلیجہ کب ٹھنڈا ہوا گا ؟۔۔۔میری سمیرا کو انصاف کب ملے گا؟۔۔۔وہ میری حافظ قرآن بچی تھی ،اس کے سینے میں قرآن تھا۔اللہ کا نور تھا ظالموں نے اسے بھنبھوڑ ڈالا،میں نے ا س کی لاش دیکھی ہے اس کے جسم پر زخموں کے نشان دیکھے ہیں ۔۔۔میں یہ سب کیسے بھول سکتی ہوں میں اس کی ماں ہوں‘‘۔

وہ روئے جارہی تھی اور سیلانی چپ چاپ بیٹھا اس کی آنکھوں سے ابلتاممتا کا کرب دیکھ رہا تھا ،وہ اور کر ہی کیا سکتا تھا ؟کاش وہ یہ سب دیکھ بھی نہ سکتا! وہ سیلانی نہ ہوتا ،یہ دلدوز کہانیاں تو اسے سننے کو نہ ملتیں،اسے اس معاشرے کی گند دیکھتے اور اس پر لکھتے بیس برس ہو رہے ہیں اس نے اس کے تعفن ، سڑاند میں اضافہ ہی ہوتے دیکھا ہے ،یہاں ظلم کی ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ اس سوسائٹی ،یہاں کے لوگوں اور خود سے وحشت ہونے لگتی ہے ،نقیب اللہ محسود کے جوان لاشے کا بوجھ کا ندھے سے نہیں اترا تھا کہ قصور کی معصوم زینب نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اس کی قبر کی مٹی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ مردان کی اسماء کا ساکت بدن کھیتوں میں موجود ملا، اس معصوم کو قبر میں اتارا کہ سعید آباد کراچی کی حافظ قرآن لڑکی کی ماں چھاتی پیٹتی ہوئی آگئی ،کسی مہذب ملک میں اس طرح کے واقعات ہوں تووہاں کے لوگ سسٹم الٹ ڈالیں ،سب کچھ تہس نہس کر دیں لیکن فرق یہ ہے کہ وہاں ریاستوں میں لوگ رہتے ہیں لوگوں کی کھال اوڑھے بے حس خودغرض نہیں ۔

سیلانی پریس کلب کے لان میں بیٹھا چائے کے انتظار میں فیس بک پر ایران میں ہونے والی انہونی دیکھ رہا تھا،یہ انہونی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے تھی ایران کے کسی سینما گھر میں مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے مظالم کے خلاف ڈاکومنٹری دکھائی گئی تھی ،معصوم بچوں کے پیلٹس گنز سے چھلنی چہرے دکھائے جا رہے تھے ۔۔۔۔وہ اس پر حیران ہو ہی رہا تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ کوئی خاتون اسے ڈھونڈرہی ہے ،سیلانی کلب کے گیٹ پر گیا جہاں ایک اور دل شق کر دینے والی کہانی اس کی منتظر تھی۔

سیلانی اس خاتون کو لے کر پریس کلب میںآگیا ،وہ خاصی پریشان لگ رہی تھیں اضطرابی کیفیت میں اپنی انگلیاں مروڑے جارہی تھیں ،سیلانی نے انہیں ایک جگہ بٹھایاپانی پلایا اور کہا’’فرمایئے کیسے آنا ہوا؟‘‘

’’سر!مجھے پاسبان والے الطاف شکور بھائی نے بھیجا ہے میں سمیرا کی ماں ہوں،انصاف کے لئے دھکے کھا رہی ہوں۔۔۔دو سال ہورہے ہیں میری ہمت جواب د ے رہی ہے شائد میں آپ تک نہ پہنچتی اگر پنجاب میں زینب اور مردان میں اسماء کے قاتل نہ پکڑے جاتے،میری پھر سے ہمت بندھی کہ شائد مجھے بھی انصاف مل جائے ‘‘۔اس تمہید کے بعد کی کہانی کبھی حمیرانے اپنی رندھی ہوئی آواز میں سنائی اور کبھی اس کے اشکوں نے ‘‘۔

سیلانی کو یاد آیا کہ الطاف شکور بھائی نے اسے بھی فون کیا تھا اور حمیرا کے لئے مدد چاہی تھی ،سیلانی کے پوچھنے پر وہ بتانے لگی ’’سر !دو سال سے کچھ دن اوپر ہو گئے ہیں،میری بیٹی سمیرا نویں کا امتحان دینے گئی تھی اور پھر واپس نہیں آئی میں بہت پریشان ہوئی ،دل بیٹھنے لگا آس پڑوس میں معلوم کروایا،اس کی سہیلیوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ آج تو وہ اسکول ہی نہیں آئی میں سعید آباد تھانے گئی انہیں ساری بات بتائی وہ پولیس والے کہنے لگے لڑکی گھر نہیں آئی تو ہم کیا کریں کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی ،میں نے قسمیں کھا کر بتایا کہ میری بچی ایسی ویسی نہیں ہے وہ حافظہ قرآن ہے بڑی مشکل سے انہوں نے پانچ سو روپے لے کر کچی رپورٹ بنائی میں روتی پیٹتی گھر آگئی ،خدا جانتا ہے وہ قیامت کی رات کیسے کٹی،میں ساری رات بیٹی کو یاد کرکرکے روتی رہی ،صبح ہوئی تو پھر تھانے چلی گئی اور پولیس والوں کی منتیں کرنے لگیں انہوں نے بھگا دیا کہ شام کو آنا میں شام کو پہنچ گئی اور پھر روز یہ ہونے لگا ایک دن وہاں کوئی افسر آیا اور اس کی مجھ پر نظر پڑ گئی اس نے پوچھا کہ اتنی رات یہ عورت یہاں کیوں بیٹھی ہے میں خود ہی اٹھ کر اس کے پاس گئی اپنی فریاد سنائی تو اس نے پولیس والوں کو کہا کہ اس کا پکا پرچہ کاٹو انہوں نے منہ بناتے ہوئے پرچہ کاٹ دیا، لیکن میری بیٹی کی تلاش میں کچھ نہیں کیا ‘‘

سیلانی نے اس کی بات کاٹی’’کسی سے پوچھ گچھ ،تفتیش سوال جواب نہیں کئے؟‘‘

’’سر! میں غریب عورت ہوں ،پولیس والے میرے لئے کیوں کچھ کرتے۔۔۔؟میں آپ کو بتا رہی تھی کہ بیٹی کے غائب ہونے کے پندرہ دن بعد رات آٹھ نو بجے کا وقت ہوگامیرے نمبر پر کہیں سے کال آئی میں نے ہیلو کہا تو دوسری طرف سے سمیرا کی آواز تھی وہ بہت گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی اس نے جلدی جلدی سے کہامما ! میں ایک حویلی میں ہوں یہاں ایک عورت اور تین مردہیں مجھے بچاؤ ۔۔۔۔بس سر وہ اتنا ہی کہہ سکی کوئی اس پر جھپٹ پڑا اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا اور پھر سمیرا کی چیخنے کی آوازیں آنے لگیں وہ اسے بری طرح سے مار رہے تھے ،میں فون لے کر تھانے گئی ،انہوں نے وہ نمبر نوٹ کیا اور تین چار دن بعد مجھے کہا کہ یہ نمبر منڈی بہاؤالدین کے چک مانوکا ہے ہمیں وہاں جانا ہوگا جس کے لئے تین لاکھ روپے چاہئیں ،سر! میرے پاس تو تیس ہزار روپے نہیں تھے تین لاکھ کہاں سے لاتی ان کی بڑی منتیں کیں واسطے دیئے بتایا کہ محنت مشقت کرکے بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں میں اتنی بڑی رقم کہاں سے لاؤں؟وہ کہنے لگے ہم بھی مجبور ہیں پولیس پارٹی نے جانا ہے اس کے آنے جانے کا ہوائی جہاز کا ٹکٹ چاہئے اور پھر وہاں ہوٹل میں رہنا ہوگاکھانا پینا آنا جانا ہوگا وہ خرچہ کون کرے گا میں انہیں اتنے سارے پیسے نہیں دے سکتی تھی انہوں نے مجھے اس حویلی کا ایٖڈریس دے دیا کہ جاؤ خود ہی بچی بازیاب کرا لو‘‘۔

’’آپ نے پولیس کے کسی افسر سے رابطہ نہیں کیا؟‘‘

’’سر!ہم غریب لوگ بہت چھوٹے ہوتے ہیں،ہم کسی افسر تک کیسے پہنچ سکتے ہیں‘‘

’’پھر آپ منڈی بہاؤالدین گئیں؟‘‘

’’جی سر ! کیسے نہ جاتی وہ میرا خون تھی میری بیٹی تھی، میں پہلے رحیم یار خان اپنے خالہ کے گھر گئی ان کا بیٹا ظفر مجھے لے کر لاہور اپنے دوست کے پاس آیا کہ اس سے مشورہ کرتے ہیں اس نے بتایا کہ اس کی سالی کی اسی علاقے میں کہیں شادی ہوئی ہے وہ ایک بار اس کے گھر گئے تھے تو راستے میں چک مانو کا بورڈ لگادیکھا تھامیں اپنے خالہ زاد کے ساتھ وہاں گئی پہلے ہم ایک مزار پر گئے وہاں کو ئی پیر صاحب تھے ان سے ایڈریس پوچھا تو انہوں نے کہا ہم انہیں جانتے ہیں یہ لوگ ٹھیک نہیں ہیں انہوں نے مہربانی کر کے اس حویلی کا پتہ بتا دیا وہ حویلی گاؤں سے الگ تھلگ تھی ،ہم نے دروازہ بجایا تو ایک عورت نکلی میں نے اس سے کہا کہ ہماری بیٹی تمہارے پاس ہے اسے لینے آئے ہیں وہ ہم سے لڑنے لگی اس نے دھمکیاں بھی دیں لیکن میں نے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے مجھے مارنا ہے تو مار دو لیکن مجھے اپنی بیٹی سے ملنا ہے مجھے اپنا گھر دکھاؤ،وہ مجھے گھر میں اندر لے گئی میں نے کمروں میں تلاش کیا لیکن مجھے سمیرا دکھائی نہ دی ،انہوں نے اسے کہیں اور چھپا دیا تھا،میں گاؤں میں اپنی بچی کی تصویریں لے کر گھومتی رہی وہاں نہر پر عورتیں کپڑے دھونے آتی تھیں انہیں بچی کی تصویر دی پیچھے اپنا موبائل نمبر لکھ کر دیا کہ اگر کہیں میری سمیرا نظر آئے تو مجھے کال کر دینا انہی عورتوں نے بتایا کہ یہ لوگ تو بڑے خطرناک ہیں اور ٹھیک لوگ نہیں ہیں،پھر مجھے کسی نے بتایاکہ یہاں کے چوہدری سے ملو،وہ چدڑ قوم کے کوئی بڑے تھے وکیل بھی ہیں میں ان کے پاس گئی فریاد کی ہاتھ جوڑے کہ مجھے بیٹی سے ملوا دیں ان کا دل نرم پڑ گیا کہنے لگے میں کوشش کرتا ہوں اپنا نمبر دے جاؤ تین چار دن بعد انہوں نے کال کی میں اپنے کزن کے ساتھ پھروہاں پہنچی وہ مجھے کسی اور گھر لے گئے اور کہا کہ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی بیٹی تمہارے ساتھ جانا چاہے تو ہمیں اعتراض نہ ہوگا،انہوں نے پھر میری بیٹی سے ملوایا وہ بھاگ کر آئی اور میرے گلے لگ گئی وہ بہت کمزور ہو چکی تھی۔۔۔۔بیٹی کو یاد نے دکھیاری ماں کا غم تازہ کر دیا وہ رونے لگی ،اسی آنکھوں سے بھل بھل اشک بہنے لگے ،رندھی ہوئی آواز میں بتانے لگی

’’انہوں نے مجھ سے میری بیٹی کو کھینچ کر الگ کر دیا اور کہا کہ دور دور بیٹھ کر بات کرو پھر انہوں نے میری بیٹی سے پوچھا کہ ماں کے ساتھ جانا ہے جواب میں اس نے پتہ نہیں کیا کہا ،بس اس کا سر جھکاہوا تھا وہ بہت خوفزدہ تھی انہوں نے اسے میرے سامنے گاڑی میں ڈالا اورلے گئے میں ان کی گاڑی کے پیچھے چیختی روتی رہ گئی،اس واقعے کے بعد میرے رشتہ دار وں نے مجھے سمجھایا کہ اب بیٹی کو بھول جاؤ،زیادہ شور کیا تو وہ بیٹی کومار ہی نہ دیں،پھر اس بات کے تین مہینے بعد میرے فون پر پھر بیٹی کی کال آئی اس نے کہا مما مجھ تک پہنچو،یہاں بہت سارے مرد ہیں ۔۔۔وہ اتنا ہی کہہ سکی کوئی اس پر جھپٹا اور ایسے لگا جیسے کوئی میری بیٹی کا گلا دبا رہا ہے اس کی گھٹی گھٹی چیخیں آج تک مجھے یاد ہیں،مجھے تو لگتا ہے میری بیٹی کواسی دن انہوں نے مار دیا تھا‘‘۔

حمیرا کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی دل شق کر دینے والی کہانی کا ابھی کچھ حصہ باقی ہے ،حمیرا بتانے لگی میں اس نمبر پر کال کرتی ان سے کہتی کہ میری بیٹی کو چھوڑ دو ،خدا رسول ﷺکے واسطے دیتی وہ ہنسے قہقہے لگاتے کہتے کہ تم نے جو کرنا ہے کر لو تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ،سر! میں تین مہینوں میں دس بار منڈی بہاؤالدین گئی ،میرے گھر کا سارا سامان بک گیا،لوگوں کا قرضہ چڑھ گیا میرا وہاں کی کچھ عورتوں سے رابطہ ہو گیا تھااور وہ ایسے ہوا کہ میں ان ظالموں کے رشتہ داروں کے گھر فریاد لے لے کر جاتی کہ میری مدد کرو اسے سمجھاؤ کہ میری بیٹی کو چھوڑ دے ان میں سے ایک عورت میری ہمدرد ہو گئی اس نے میری بیٹی کو وہاں دیکھا بھی تھا اس نے مجھے بتایا کہ اس کا بڑا برا حال ہے اسے کبھی کھانا دیتے ہیں اور کبھی نہیں دیتے میں وہاں گئی تو مجھے سمیرا کہنے لگی مجھے ایک کپ چائے پلا دیں ۔۔۔اس کی یہ باتیں سن کر میں کیسے چپ بیٹھ جاتی میں پھر قرض ادھار لے کر منڈی بہاؤ الدین چلی جاتی،ان لوگوں نے مجھے ڈرا رکھا تھا کہ پولیس کے پاس گئیں تو بیٹی کو جان سے مار ڈالیں گے ،میں اس ڈر سے پولیس کے پاس بھی نہیں گئی اور انہوں نے میری بیٹی کو مار دیا۔۔۔۔اسی عورت کی میرے پاس کال آئی کہ *انہوں نے تمہاری بیٹی کومار دیا ہے میں روتی پیٹتی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ وہاں گئی ، انہوں نے لاش دینے کے لئے شرط رکھ دی کہ پہلے یہاں سادے کاغذ پر انگوٹھے لگاؤ،مجھے تو ہوش ہی نہیں تھا وہ جیسے جیسے کہتے گئے ہم کرتے رہے جس کے بعد* میری بیٹی کی لاش مجھے دے دی*۔۔۔۔*سر! میری بیٹی کئی دن پہلے مر گئی تھی اس کی لاش سے بدبو آرہی تھی اسکے ہاتھوں پر رسیوں سے باندھے جانے کے نشان تھے ۔۔۔سر میں نے وہ نشان گنے چھ نشان تھے پسلیوں پر خون جما ہوا تھا ۔۔۔اسکی بڑی بری حالت تھی *،مجھے عورتوں نے کہا کہ لاش کو غسل دینا ہے تم یہاں سے ہٹ جاؤ لیکن میں کیسے جاتی میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے دولہن بنانا تھا ۔۔۔*میں نے اسے ہاتھوں سے نہلایا اسکے بال بہت گھنے تھے ان میں مٹی گھاس پھونس پھنسا ہوا تھا۔۔۔۔وہ رو پڑی اور سیلانی کا دل جیسے پھٹنے والا ہو گیااس کی آنکھیں بھی جلنے لگیں اف خدایا ! انسان کا انسان پر یہ ظلم۔۔۔۔میرے اللہ غریب ہونا اتنا بڑا جرم اتنا بڑا گناہ!!!*

سمیرا کی تدفین دکھیاری ماں نے اپنے آبائی گاؤں عارف والا میں کردی ،سولہ سال کی بیٹی کو مٹی میں دینے کے بعد حمیرا نے قاتلوں کو قانون کی گرفت میں لانے کی بڑی کوششیں کیں لیکن ہماری عدالتیں انصاف کی وہ دکانیں ہیں جن کے دروازے بھی غریبوں کے لئے نہیں کھلتے ،انصاف کی خریداری تو سوچیں بھی نہ،ایک وکیل نے پندرہ ہزار روپے لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے درخواست دی ،کوئی اللہ کا بندہ منصب عدل پر تھا اس نے قبرکشائی کروائی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حکم دیا انصاف کی جانب یہ حمیرا کا آخری قدم تھا اس کے بعد اس مقدمے پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی حمیرا کو نہیں پتہ کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کیا ہے ؟ 

دوسری طرف ظالموں کی دیدہ دلیری دیکھیں کہ وہ حمیرا کے بیٹے اور بیٹی کو فیس بک پر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے سیلفیاں بنا بنا کر ٹیگ کرتے ہیں،دھمکاتے ہیں،ڈراتے ہیں۔۔۔حمیرا نے وہ سب تصویریں سیلانی کے سامنے میز پر پھیلا دیں جن میں ایک انسان نما درندہ ،بھیڑیامونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا ،دوسری تصویر میں وہ بے غیرت سر پر عزت کی علامت پگ باندھے ہوئے تھا ،تیسری تصویر میں وہ کھا جانے والی ترچھی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔حمیرا کہنے لگی مجھے پتہ چلا ہے کہ ان کا یہی کاروبار ہے یہ لڑکیاں اغواء کرکے بیچتے ہیں ،سارا خاندان یہی کام کرتاہے پولیس اس حویلی پر چھاپہ مارے،انہیں گرفتار کرے تو بہت کچھ پتہ چلے گا۔۔۔۔
سیلانی حمیرا کے اشک ،اس کی دہائی اس کی فریاد لے کر ہاتھ جوڑتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سامنے رکھ رہا ہے ،وہ اس مظلوم کی یہ دہائی وزیر اعلٰی شہباز شریف کے علم میں لا رہا ہے ،وہ آئی جی پنجاب پولیس سے درخواست کررہاہے کہ حمیرا کی فریادسنی جائے،قانون کو حرکت میں لایا جائے ،دکھوں کی ماری حمیرا سارا کیس حل کئے بیٹھی ہے،سعید آباد کراچی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہے،اس کے پاس وہ فون نمبر ہیں جہاں سے کال آتی رہی ہیں،وہ چک مانو کی اس حویلی تک لے جانے کو تیار ہے ۔۔۔۔
اس کی فریاد سنی جائے چیف جسٹس سوموٹو نوٹس لیں،وزیر اعلٰی شہباز شریف آئی جی پنجاب کو تحقیقات کا حکم دیں اور اگر کراچی کی بیٹی کی یہ فریاد ان تک نہیں پہنچتی تو آئی پنجاب ہی فون اٹھا کر متعلقہ ڈی آئی جی سے پوچھ لیں اور روز حشر اس کٹہرے میں کھڑے نہ ہوں جس کے سامنے سولہ سالہ حافظہ قرآن اس حال میں کھڑی ہو کہ اس کے کلائیوں پر رسیوں سے باندھے جانے کے نشان ہوں گے،بالوں میں گھاس پھوس پھنسا ہوگا،پسلیوں پر ٹھوکروں کی چوٹ سے خون جما ہو املے گااور جسم پر نوچے بھنبھوڑے جانے کے نشانات ہوں گے۔۔۔۔تب رب کریم جلال میں پوچھیں گے تیرا یہ حال کس نے کیا اور حافظہ قرآن سمیرا قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے بتائے کہ اس کے ساتھ کیا بیتی ،تب عرش والا حمیرا سے پوچھے کہ تو نے انصاف کیوں نہ مانگا اور وہ آپ سب کی جانب انگلیاں اٹھا دے کیاتب آپ سب کے پاس کوئی عذر ہوگا؟ کوئی بہانہ ہوگا؟کوئی ہوگا جوقہار کے قہر سے بچالے ؟سیلانی یہ سوچتا ہوا میز پر بکھری تکبر میں گردن اکڑا کر مونچھوں کو تاؤ دینے والے کی تصویر دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اپنا تبصرہ بھیجیں