Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




بکاؤ مال ۔ ہمارے سینیٹرز۔


جمہوریت کی جو فوٹو کاپی ہمارے ملک میں رائج ہے اس میں پارلیمان کے دو ادارے ہیں ایوان بالا، جسے سینٹ کہتے ہیں اور ایوان زیریں، جس قومی اسمبلی کہتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ارکان عوامی ووٹ سے منتخب ہو کر آتے ہیں اور قانون سازی کرتے ہیں۔ جبکہ سینیٹ کے ارکان قومی اسمبلی کے اراکین کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ اور قانون سازی پر قومی اسمبلی کی مدد کرتے ہیں۔

اصلی جمہوریت میں قومی اسمبلی کا مقصد یہ تھا کہ عوام کے ایسے نمائندے شامل ہوں جن پر عوام کو پورا اعتماد ہو کہ وہ ان کی اجتماعی زندگی کی بہتری کے لیے کام کریں گے اور سینیٹ کا مقصد یہ تھا کہ اس میں قوم کے نمائندے ایسے لوگوں کو بٹھائیں جو مختلف شعبوں کے ماہرین ہوں، اور جن کا کردار اور وفاداری ملک و قوم کے ساتھ مثالی ہو۔

اب باقی کہانی تو آپ کو معلوم ہی ہے۔ ہماری قومی اسمبلی میں موجود اراکین کس طرح قوم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔ اور انکے کردار بھی اظہر من الشمس ہیں۔ اسی لیے ہماری قومی اسمبلی کو دیکھ کر کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ جمہوریت کے نمائندے صرف اور صرف گروہی اور جماعتی مفادات کے تحت اکٹھے ہیں اور ملکی لوٹ مار میں شامل ہیں۔ چند استثنیات کے ساتھ پوری اسمبلی کا یہی حال ہے۔

اب آج کل سینیٹ کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد نون لیگ کے منتخب کردہ سینیٹ امیدوار آزادہو گئے ہیں۔ یعنی وہ جماعتی وابستگی کے جھنڈے تلے الیکشن نہیں لڑ رہے۔ اس کے بعد میں کل سے ملک کے بہترین تجزیہ کاروں کے تجزیے پڑھ کر حیران ہو رہا ہوں۔ کیونکہ سب کے سب اس بات پر افسوس کر رہے ہیں کہ عدالتی فیصلے کی وجہ سے سینیٹ کے ارکان آزاد ہو گئے ہیں اور اب انکو کوئی بھی خرید سکتا ہے۔ اس وجہ سے سینیٹ کے انتخابات میں کرپشن بڑھ جائیگی۔ کچھ میڈیا گروپ تو عدالت کے فیصلے پر تنقید بھی اسی کی کر رہے ہیں کہ اس فیصلے سے کرپشن کی یہ راہ کھلی۔

یعنی کہ ہمارے ملک میں ہم اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ایک اصولی انصاف کا فیصلہ اس لیے ہمارے دانشوروں اور صحافیوں کو اچھا نہیں لگ رہا کہ اس کی وجہ سے ملک کے بلند ترین ادارے کے کے "بہترین لوگ" یعنی سینیٹرز کے انتخابات میں کرپشن بڑھ جائیگی۔ مگر ان چ (چغد) دانشوروں کو یہ برا نہیں لگ رہا کہ ملک کے بلند ترین جمہوری ادارے کے لیے جو "بہترین لوگ" ان جماعتوں نے چنے ہیں وہ اتنے کرپٹ اور بکاؤ ہیں کہ موقع ملتے ہی اپنی وفاداری کے پیسے پکڑیں گے اور دوسرے کی گود میں جا بیٹھیں گے۔

آپ پورے ملک سے ایک سو بدنام ترین طوائفیں ایک سال کے لیے بک کر لیں اور اس کے بعد خفیہ ذریعے سے انکو بہتر ڈیل کی آفر کریں۔ میں آپ کو پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ستر طوائفیں انکار کر دیں گی اور اپنے پہلے معاہدے کا پاس کریں گی۔

کیا سیاسی جماعتوں کے منتخب کردہ سینیٹرز ان طوائفوں سے بھی زیادہ بد کردار ہیں؟

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.