Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




صورتحال۔


جمہوریت+آئین+پارلیمنٹ +قومی پرچم+قومی ترانہ وغیرہ =نواز شریفیہ ہے وہ مائنڈسیٹ جس کو مدنظر رکھتے ہوئے چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نواز شریف خودکش جیکٹ پہن کر بیچ بازار براجمان بلکہ سربازار محو رقص ہیں اور یہاں بتاتا چلوں کہ رقص عربی زبان میں اونٹ کی اچھل کود کو کہتے ہیں۔

بدترین آمریت کی گود میں پلے بڑھے، چھانگے مانگے ایجاد کئے، پارلیمنٹ کو جھوٹ در جھوٹ سے منور و معطر کرتے ہوئے اس بیچاری کو کبھی گھاس تک نہ ڈالی، ملک تاریخی قسم کے قرضوں میں گاڑ کے رکھ دیا، آمدنی سے کئی گنا زیادہ اثاثوں کا نہ حساب ہے نہ جواب اور اوپر سے ترقی کے دعوے جس کا سب سے شرمناک ثبوت یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نومولود بچوں کی اموات کے حوالہ سے دنیا میں نمبرون ہے۔پاکستان میں ہر 22’’شاہینوں‘‘ میں سے ایک پیدائش کے پہلے مہینے میں ہی موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور عالم بالا میں پہنچ کر ایوان بالا کی قسمیں کھا کھا کر کہتا ہے ’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘
چلتے چلتے ایوان بالا کی بھی سن لیں کہ سرعام بولیاں لگ رہی ہیں، ایوان کم اور نیلام گھر زیادہ کہ یہی تو جمہوریت کا حسن ہے اور یہ حسن آج کل تو بدشکن انگڑائی لے کر بیدار ہو چکا ہے ۔ہم عجیب لوگ ہیںہم بھی بہت عجیب ہیں اتنے عجیب ہیں کہ بسخود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیںایک طرف تو کہتے ہیں ’’چہرے نہیں نظام کوبدلو‘‘ دوسری طرف اس امکان پر بھی ماتم جاری ہے کہ یہ مکروہ منحوس نظام ہی نہ پیک اپ ہو جائے ۔گھسی پٹی رٹی رٹائی کتابی نصابی باتیں کرنے والوں کا ایک گروہ مسلسل قوم کو ’’تصادم‘‘ سے خوفزدہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ میرا خیال ہے ہوتا ہے تو ہو جائے ۔

70سال ہو گئے SEE SAWکرتے اور سانپ سیڑھی کا بے فیض بے ثمر کھیل کھیلتے۔قومی زندگی کا ایک حصہ دیہی مچھندر کھاگئے، دوسرا حصہ شہری بابوئوں اور نو دولتیوںکی بھینٹ چڑھ گیا۔عوام کے حصے ایک ایسی ہجرت آئی ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔اب ڈراپ سین ہو ہی جانا چا ہئے ۔ بھٹو نے پھانسی گھاٹ پر کہا تھا ʼʼFINISH ITʼʼ سوپلیز ʼʼFINISH ITʼʼیہ بدمست پاگل اونٹ کسی کروٹ بیٹھ ہی جائے تو بہتر ہو گا ورنہ خط غربت پر آبادی عام آبادی سے کئی گنا زیادہ رفتار کے ساتھ بڑھتی جائے گی، بیروزگار یوتھ میں ’’خرگوش فیملی‘‘ کی طرح اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔کیا ہم نے نواز شریف کے 300ارب بچانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟وہ جانے اور ان کے حصہ دار جو کمیشنوں اور کک بیکوں سے سیراب ہوتے ہیں یا اولادوں دامادوں سمیت ٹیکس پیئر کے پیسے کو ’’رزق حلال عین عبادت‘‘ سمجھتے ہیں ۔

کھاتے بھی بہت ہیں، غراتے بھی بہت ہیںایسے چور جو کوتوالوں کو ڈانٹتے ہیںایسے مجرم جو منصفوںکو آنکھیں دکھاتے ہیںچیف جسٹس نے جو کہا ، قوم کے دلوں کی آواز ہے کہ’’آئین پارلیمنٹ سے بھی سپریم ہے‘‘’’پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متصادم قانون نہیں بناسکتی‘‘’’عدلیہ کو قانون سازی پر نظرثانی کا اختیار ہے‘‘’’گھبرائیں نہیں اللہ اور آئین نے جو طاقت دی اس کا بھرپور استعمال کریں گے‘‘تری آواز مکے اور مدینےاور یہ عمران خان کا احسان نہیں، پہلا اور آخری فرض ہےکہ جیسے ہی ضرورت محسوس کرے، ایک لمحہ کی تاخیر کئے بغیر عوام کے ساتھ میدان میں اترے اور بلف نما بیانئیے کی دھجیاں بکھیر دے ۔

میرا وجدان کہتا ہے کہ ستر سال تک ایک ہی پہلو پر پڑا لیٹا پاکستان کروٹ بدلنے کو بے تاب اور بے قرار ہے۔بلفیہ بیانیہ بازاروں سے ایوانوں تک پہنچ گیا تو سیانوں سمیت دیوانوں کیلئے بھی اس میں بہت سے اشارے ہیں اور اوپر سے ’’اندرونی‘‘ قسم کی وزارت داخلہ جو کہتی ہے کہ نواز خاندان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا ہے تو ٹھوس ثبوت پیش کئے جائیں کہ موجودہ وجوہات ناکافی ہیں ۔اس جواب میں ’’ٹھوس‘‘ کا جواب نہیں البتہ افسوس ان پر جنہوں نے سوچا کہ احسن اقبال کی وزارت نواز خاندان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرے گی۔’’نیب ‘‘ نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا ہے ۔

مافیاز اور مظلوم محکوم عوام کے درمیان فیصلہ کن جنگ جاری ہے اور مجھے LEE IACOCCAیاد آیا جس نے کہا تھا”ACTION SHOULD NOT BE CONFUSED WITH HASTE”اور آخر پہ ایک نظمDID IS A WORD OF ACHIEVEMENT,WONʼT IS A WORD OF RETREAT,MIGHT IS A WORD OF BERAVE MENT,CANʼT IS A WORD OF DEFEAT,OUGHT IS A WORD OF DUTY,TRY IS A WORD EACH HOUR,WILL IS A WORD OF BEAUTY,CAN IS A WORD OF POWER,اب آپ خود فیصلہ کر لیجئے کہ موجودہ صورتحال پر WILL, TRY, OUGHT, CANʼT MIGHT, WON,T DIDاور CANمیں سے کون سا لفظ زیادہ فٹ بیٹھتا ہے اور اگر آپ کوئی فیصلہ نہ کر سکیں تو تھوڑا انتظار کرلیں، دنوں ہفتوں کی تو بات ہے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.