96

روک سکو تو روک لو۔

سادگی ظاہر ہے سادہ ہوتی ہے۔ ملمع چڑھانے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ فریب فراڈ صحیح کام کی نسبت کہیں زیادہ گنجلک اورپیچیدہ ہوتا ہے۔ سچ بولنے والے کی یادداشت کے امتحان کی نوبت ہی نہیں آتی لیکن ہم بہت ہی مہم جو اورمشکل پسند لوگ ہیں۔ 

آسان سی ایک نمبری چھوڑ کر مشکل ترین دونمبری کو ترجیح دیتے ہیں، تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ جائز کام ناجائز سے کئی گنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ جتنی مشقت غلط کے لئے درکار ہوتی ہے، اس سے آدھی مشقت میں صحیح کام سرانجام دیا جاسکتا ہے لیکن ہم ’’زندہ قوم ہیں‘‘ اس لئے زندگی کا ثبوت دینے کے لئے قدم قدم پر ’’آئوٹ آف دی وے‘‘ جانا پسند کرتے ہیں۔
میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ جب بھی کوئی نئی واردات سامنے آتی ہے تو ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ بس اب اس سے آگے کچھ نہیں ہوسکتا لیکن پھر ایک نئی ’’ایجاد‘‘ نئی ’’ٹیکنالوجی’’ متعارف کرا دی جاتی ہے لیکن اس تازہ ترین جگاڑ نے تو میرادماغ مائوف کردیا، جوڑ جوڑ ہلاکے رکھ دیا ہے۔پولیس کانسٹیبلوں کی بھرتی کے لئے ہونے والے این ٹی ایس ٹیسٹ میں کمپیوٹرائزڈ طریقے سے نقل کرنے والے دو گروہ فیصل آباد میں پکڑےگئے ہیں۔ پولیس اور FIA کی ٹیموں نے چار ملزموں کو گرفتار کرلیا ہے۔ 
توذرا سوچئے انہوں نے کیا کیا ہوگا؟ان عظیم ’’ماہرین ِ فن‘‘ نے اپنے سروں میں سرجری کروا کے اپنے کانوں میں ہیڈفون اور پیٹ میں نافوں کے نزدیک سمارٹ کیمرے لگا رکھے تھے جس سے وہ اپنے ساتھیوں کی مدد سے امتحانی پرچے حل کرتے تھے۔ بظاہر یہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی ایک حالیہ تاریخ ساز خبر جیسی خبر لگتی ہے لیکن میں نے ایک معتبر اخبار سے اٹھائی ہے اور اخبار سنبھال کر رکھ لیا ہے تاکہ بوقت ِ ضرورت کام آئے اور ’’مور اوور‘‘ کے طور پر میں یہ بھی کہہ سکوں ’’ہم سا ہو تو سامنے آئے‘‘ واقعی ہمارے پاس ’’ٹیلنٹ‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ 
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ خبر بتاتی ہے کہ گزشتہ اتوار کےروز پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے لئے ہونے والے این ٹی ایس ٹیسٹ میں مدینہ ٹائون پولیس نے امتحانی مرکز میں امیدواروں کی بائیو میٹرک تصدیق کی تو چک نمبر 432 گ ب جڑانوالہ کے رہائشی غلام مصطفیٰ ولد اللہ دتہ اور چک نمبر 230گ ب جڑانوالہ کے رہائشی گل شیر ولد محمد عظیم کی بائیو میٹرک تصدیق کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ دونوں کسی اور امیدوار کی جگہ پر ٹیسٹ دے رہے ہیں۔ مزید تلاشی پر یہ راز کھلا کہ دونوں وارداتیوں نے انتہائی خفیہ اور سائنٹفک طریقہ سے سر کے بالوں کے نیچے سے بذریعہ سرجری تار کے ذریعے کانوں میں ہیڈفون اور ناف کے نیچے خفیہ سمارٹ کیمرہ فٹ کرارکھا ہے جس کی مدد سے یہ باہر بیٹھے اپنے ساتھیوں کی معاونت سے پرچے حل کرتےتھے۔
پولیس اور FIAنے ملزمان کی نشاندہی پر ایک اور سکول میں قائم امتحانی مرکز پر بھی ’’کامیاب‘‘ چھاپہ مارا لیکن وہاں پر امتحان دینے والے ’’سائنسدان‘‘ اور ’’موجد‘‘ حضرات اسحاق ڈار کی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ جس عظیم محب وطن کو اپنی غیرمشروط سیاسی وفاداری کے سبب اسحاق ڈار کا نام پسند نہ آئے وہ اس کی جگہ کراچی والے رائو انوارکا نام لکھ لے۔ گرفتار ہونے والوں نے انکشاف کیا کہ وہ دونوں ایم ایس سی ڈگری ہولڈر ہیں اور بیروزگاری سے تنگ آ کر یہ کام کرنے پرمجبور ہوئے ہیں۔ 
یاد رہے کہ پولیس کوپہلے بھی اس قسم کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ مدینہ ٹائون پولیس نے یونیورسٹی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کرالئے ہیں۔ دوسری طرف ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اےساجد اکرم چوہدری نے اپنی ٹیم کے ہمراہ NTS ٹیسٹ دینے والے ارسلان انور کوبھی گرفتار کرلیا جو پولیس ملازم محمد عارف کے بھائی محمد عثمان کی جگہ پیپر دےرہا تھا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ ساری گرفتاریاں زیادہ سےزیادہ کیا کرلیں گی؟ جہاں حکمران اقاموں کی آڑ میں وارداتیں کر رہے ہوں، وہاں ایسے جگاڑ اور جگاڑیئے پیدا ہونے سے کون روک سکتا ہے؟روک سکو توروک لویہ ٹیلنٹ کا سیلاب’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی‘‘ اور روشنی بھی ایسی جو ایٹمی دھماکے سے جنم لیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں