54

تختِ لاہور کی ’’ شریف سول سروس‘‘

نواز شریف پارٹی صدارت سے بھی فارغ ہو گئے ۔ اول ان کا کروفر یاد آیا پھر منیر نیازی :

’’ ہن جے ملیں تے روک کے پُچھاں 
ویکھیا ای اپنا حال! 
کتھے گئی اوہ رنگت تیری 
سپاں ورگی چال 
گلاں کردیاں گُنڈیاں اکھاں 
وا نال اُڈدے وال 
کتھے گیا اوہ ٹھاٹھاں ماردے 
لہو دا انہاں زور 
ساہواں ورگی گرم جوانی 
لے گئے کیڑھے چور؟ 

سوال یہ ہے کہ میاں نواز شریف اپنے بعد کیا “Legacy” چھوڑ کر گئے ہیں؟ ایک کرپٹ اور کریانہ سٹور قسم کی طرزِ حکومت جس نے سماج اور حکومتی مشینری کی جڑوں کو اخلاقی قدروں سے بے نیاز کر کے اس کی رگ و پے میں بد عنوانی یوں سرایت کر دی ، سورج کی دھوپ جیسے درختوں پر لگے پھلوں میں رس بھر دیتی ہے؟ ہر ادارہ انہوں نے کرپٹ کر دیا۔ذاتی وفاداروں کے لشکر پالے اور گداگرانِ سخن کو نواز تے رہے۔ نجیب لوگوں کی تضحیک کی اور ابن الوقت طفیلیوں کو معتبر کر دیا۔ اخلاقی طور پامال اور فکری طور پر مفلوج طرز سیاست۔یہ ہے نظریاتی سیاست دان کی ترک تازی کا حاصل۔ دعوی اس کا یہ تھا کہ ہم نے سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیاہے۔ حقیقت مگر یہ کہ اس نے سیاست کو گوالمنڈی کا جمعہ بازاربنا دیا۔ 


یہ طرز سیاست نہیں یہ ایک مکمل واردات تھی۔ یہ ایک پورا کاروباری بندوبست تھا جس کے نام یاروں نے سیاست کی تہمت رکھی۔ لوگوں کے ضمیر کی بولی لگی اور گداگران سخن اشرفیوں میں تولے گئے۔ سیاست ہی کو نہیں ، ہر چیز کو شرافت سکھا دی گئی۔ جالب نے کسی لمحے میں صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال ، اب قلم میں زار بند ہی ڈال۔ چنانچہ یہاں شرافت کی صحافت وجود میں آئی اوریاروں نے قلم سے ازار بند ڈالنے شروع کر دیے۔، کوئی سفیر بنا۔کسی کو خلعت عطا ہوئی ، کسی کا منہ موتیوں سے بھر دیا گیا۔

اب جناب چیف جسٹس کو بتایا جاتا ہے یاروں نے نمک دانی تک قومی خزانے سے خریدی اور ’’ بواسیر سمیت جملہ امراض چشم‘‘ کی ایسی ایسی ادویات منگوائی گئیں جن کا عدالت میں نام تک لینا معیوب سمجھا گیا۔ عدالت کے وقار کا بلاشبہ یہی تقاضا تھا لیکن ایک عام آدمی تو پوچھ سکتا ہے بجلی کے ہر بل پر پینتیس روپے کا جو ٹیکس کاتا جاتا ہے اس سے یاروں نے کون کون سی دوا منگوائی؟

شرافت کی صحافت کے ساتھ ساتھ ’’ شریف سول سروس ‘‘ بھی کھڑی کر دی گئی ہے۔شرافت کی صحافت کا کام ان کے فضائل بیان کرنا ہے اور ’’ شریف سول سروس‘‘ کا کام سماج کو شیطانی گرفت میں یوں جکڑ کر رکھنا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کی ضمانت حاصل ہو جائے۔ شارق کمال سے لے کر محمد علی نیکو کارا تک جس نے ضمیر کی آواز سنی اور خوود کو پاکستان سول سروس کا افسر سمجھا اس کا ناطقہ بند کر دیا گیا تاکہ سند رہے اور سب کو معلوم ہو جائے امان صرف اس افسر کو حاصل ہے جو شریف سول سروس کا حصہ ہے۔ پولیس مقابلوں کو رواج دیا گیا اور ان افسران کی سرپرستی کی گئی۔ ان کے ذاتی وفاداروں کی ایک فوج ہے جو تنخواہ اور مراعات ریاست سے لیتی ہے لیکن جس کی وفاداری کا مرکز ریاست کی بجائے حکمران خاندان ہے۔

یہ لشکر حکمران خاندان کی خدمات بجا لاتا ہے اور حکمران خاندان اپنے لشکریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ایل ڈے اے لاہور کے احد چیمہ کی گرفتاری ہے۔خوفناک کرپشن کے الزامات پر اسے گرفتار کیا گیا مگر اس کا بچانے کے لیے پنجاب کی بیوروکریسی کسی ’’ ٹریڈ یونین ‘‘ کی سطح پر اتر آئی ۔ سو کے قریب افسران اکٹھے ہوئے اور مذمت کی قرارداد جاری کر دی ۔ یہ رویہ گورنمنٹ ایمپلائز کنڈکٹ رولز 1966کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ بلیک میلنگ ہے۔ لیکن کیا تخت لاہور کی آشیر باد اور تھپکی کے بغیر ایسا ممکن ہے؟ بادی النظر میں یہ کسی کے اشارے کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ اپنے پیادوں کو بچانے کی کوشش ہے کہ پیادے قانون کی شکنجے میں آ کر سارا نامہ اعمال کھول کر نہ رکھ دیں۔

علامتی طور پر اس بندو بست کو عمران خان’ ’ پٹواری کلچر‘‘ کہتے ہیں ۔عملی طور پر اس میں ہر اس قابل ذکر محکمے کے لوگ شامل ہیں جس کے ذریعے سماج کو گرفت میں لے لیا گیا ہے۔ انہیں اس بندو بست پر اتنا یقین ہے کہ جب جے آئی ٹی بنی تو انہوں نے ایک دوسرے کے منہ میں اس اطمینان کے ساتھ لڈو ٹھونسے کہ کس اہلکار میں یہ جرات کہ ہمارے خلاف تحقیقات کر سکے۔ لیکن جب جے آئی ٹی نے سارا نامہ اعمال عدالت کے سامنے رکھ دیا تو انہیں یقین ہی نہ آیا کہ ’’ کسی کے اشارے‘‘ کے بغیر ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ حتی کہ جب عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تو یہ تب بھی کہتے رہے فیصلہ کہیں اور سے آ یا ہے عدالت نے صرف سنایا ہے۔ کیونکہ انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کوئی ادارہ ان کے خلاف بھی تحقیق کر سکتا ہے اور کوئی عدالت ان کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے۔

ا پنے تئیں تو یہ تمام اداروں کو شرافت سکھا چکے ، شرافت کی سیاست ، شرافت کی صحافت، جسٹس قیوم والی شرافت کی عدالت ، شریف سول سروس ۔ صرف ایک ادارہ ان کے ہاتھوں ستیا ناس کرانے سے بچ گیا اس لیے انہیں لگتا ہے یہ سب کچھ وہی کرا رہا ہے۔ اب جب عدلیہ نے عدلیہ شریف بننے سے انکار کیا تو اس کی کردار کشی شروع کر دی گئی۔ انہیں اپنی واردات پر گویا اتنا ناز ہے کہ دھڑلے سے کہتے ہیں عدلیہ ہمارے خلاف کیسے یہ فیصلہ کر سکتی ہے یہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے۔ یہ اس حققیقت کو مان ہی نہیں رہے کہ یہ پاکستان کی آزاد عدلیہ ہے ، یہ عدلیہ شریف نہیں ہے۔

آپ ان کا طریق کار دیکھیے۔ کشمالہ طارق کو انسداد ہراسیت کا وفاقی محتسب بنا دیا ہے۔ یعنی اب کشمالہ طارق ایک منصف کے طور پر فیصلے سنائیں گی۔ ان سے قبل یہ منصب جسٹس (ر) یاسمین عباسی کے پاس تھا۔ جو نہ صرف ایک کامیاب وکیل تھیں بلکہ تین عشروں تک جج رہیں۔ سول جج رہیں ، سینیئر سول جج کے طور پر کام کیا، ایڈیشنل سیشن جج رہیں ، پھر سیشن جج بنیں، ہائی کورٹ کی جسٹس رہیں، لیبر کورٹ کی جج رہیں، کسٹمز ایند سیل ایپیلٹ ٹریبیونل کی جج رہیں، وفاقی سیکرٹری برائے قانون کے طور پر کام کیا۔ سوال یہ ہے کہ کشمالہ طارق کی کیا قابلیت ہے اور کیا اہلیت ہے؟

اگر اسی طرح فیصلے کرنے ہیں تو پھر بسم اللہ کیجیے، عدالتوں پر تو آپ کو ویسے ہی اعتماد نہیں۔ وفاقی محتسب آپ نے کشمالہ طارق کو بنا دیا۔ آپ مائزہ حمید کو پنجاب ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیجیے۔ ماروی میمن کو وفاقی شرعی عدالت کا چیف جسٹس لگا دیجیے۔ انوشہ رحمان کو سپریم کورٹ میں تعینات کر دیجیے۔ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل ہو تو پارلیمان سے قانون سازی کرا لیجیے ۔ ویسے بھی ایئر بلیو کے مالک نے پی آئی اے کی نجکاری کے بعد حکمت کی یہ بات قوم کو بتا دی ہے کہ پارلیمان کا قانون سازی کاحق ہے جسے تسلیم کیا جائے۔

اور یہ لیجیے ، گڈ گورننس کا نیا شاہکار، جس احد چیمہ کو نیب نے گرفتار کر رکھا ہے اسے تخت لاہور نے اگلے گریڈ میں ترقی دے دی ہے۔ واجد ضیاء کو ترقی نہیں دی، احد چیمہ کو دے دی گئی۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں