63

428 پاکستانی پی ایچ ڈی سکالر مغربی ممالک میں تعلیم کیبعد غائب ہوگئے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سینٹ میں بتایا کہ5780 اسکالرز کو اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجا گیا جن میں سے 3800 نے تعلیم مکمل کر رہے ہیں جبکہ 428 سکالرز غائب ہو گئے ہیں۔ واپس نہ آنے والے 55 سکالرز سے جرمانہ وصول کیا جبکہ 338 سکالرز کے خلاف اب قانونی کارروائی شروع کی جا رہی ہے ۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا سکالر شپ پروگرام پاکستان کے لئے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن رہا ہے، حکومت پاکستان نے ہزاروں طالب علموں کو سپانسر کیا اور سرکاری خزانے سے پیسہ خرچ کر کے بیرون ملک پی ایچ ڈی اور ایم فل کے لئے بھیجا , کروڑوں ڈالرز کے خرچ پر امریکہ ، برطانیہ اور دیگر مغربی ملکوں میں پی ایچ ڈی اور ایم فل پروگرام کے لئے جانے والے تقریباً 850 پاکستانی سکالرز ہیں جنہوں نے واپس آنے کے بجائے وہیں سکونت اختیار کر لی یا غائب ہو گئے ہیں، سرکاری خرچ پر پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک جانیو الے 428 سکالرز غائب ہو گئے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قوانین کے مطابق بیرون ملک جانے والوں کو واپسی کا حلف نامہ دینا پڑتا ہے کہ پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آئیں گے اور تقریباً 5 سال تک پاکستان کے اداروں میں کام کرنے کے پابند ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں