101

مجھے آپکی مدد چاہیے۔

میرےبھائیو اور بہنو! آج مجھے آپ سب کی مدد چاہیے۔ آپ میں اتنی طاقت ہے کہ آپ خواہ دُُنیا کے کسی بھی گاؤں میں بیٹھے ہوں اس بزُرگ پی ایچ ڈی پروفیسر جمیل کو انصاف دلوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ انکا یہ حال طاقت کے نشے میں چُور ضلع ہٹیاں بالہ کے ڈی سی او عبدُالحمید کیانی نے کیا ہے۔ مجھے اِن پر ظُلم کا علم کل رات کو ہُوا۔ اس واقعے کی تحقیق کے لیے میں نے تھانہ ہٹیاں میں بات کی تو وہاں موجُود ایک سپاہی نے ڈرتے ڈرتے واقعے کی تصدیق کی۔ میری ابھی گورنمنٹ اِنٹر کالج کھلانہ کے اِس بزُرگ پروفیسر سے بات ہُوئی ہے۔ مُجھ سے گیارہ منٹ بات کے دوران یہ آدھا وقت بچوں کی طرح روتے رہے۔ 

واقعہ کُچھ یُوں ہے کہ یہ روزانہ بس میں اپنے گھر سے کالج جاتے اور واپس آتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سیگرٹ نوشی کرنے والے لوگوں سے تنگ آکر یہ ڈی سی او عبدُالحمید کیانی کے پاس گئے۔ گھنٹوں انتظار کے بعد ڈی سو سے مُلاقات کرنے میں کامیاب ہُوئے اور اُسے لکھی ہُوئی درخواست دی کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سیگرٹ نوشی رُکوانے کے قانون پر عمل کروایا جائے۔

درخواست پڑھتے ہی ڈی سی او نے ان سے کہا جب دیگر مسافروں کو کوئی تکلیف نہیں تو تُمہیں کیا تکلیف ہے۔ یہ بولے سر آپ جانتے ہیں کہ پبلک ٹرانپورٹ میں سیگرٹ نوشی جُرم ہے اور اِس قانون پر عمل درآمد کروانا ڈی سی اور کی ذمّہ داری ہے۔ ڈی سی او عبدُالحمید کیانی بولا اب تُو مجھے میری ذمّے داری بتائے گا۔ یہ بولے آپکو نہیں تو کسے بتاؤں۔ میں نے آپسے کسی غیرقانونی کام کا تقاضہ نہیں کیا آپسے آپکی ہی قانونی ذمہ داری پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈی سی او نے اردلی کو بُلوایا اور کہا اس بابے کو اُٹھاؤ اور باہر کا راستہ دکھاؤ۔ اس خبطی کی شکل یاد کر لو آئندہ یہ دفتر میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ پروفیسر صاحب نے ڈی سی او کو بس اتنا کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے میں نے ایک تو قانونی نُکتہ اُٹھایا ہے اور دوسرے میں ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ آپکے والد کی عمر کا ہُوں۔ مجھے لگتا ہے اپنے والد کے ساتھ بھی ایسے ہی بات کرتے ہونگے آپ۔ ڈی سی او بولا اُلو کے پٹھے میرے باپ کا نام لینے کی جرات کیسے ہُوئی تُمہیں۔

ڈی سی او کے گالی دینے پر بات بڑھتی گئی ڈی سی او نے انکے مُنہہ پر تھپڑ مارے چند لوگوں نے مل کر اُنہیں باندھا اور ر زمین پر ڈال دیا۔ پروفیسر صاحب زمین پر پڑے بددعائیں دیتے رہے۔ جس پر ڈی سی اور کو مزید غُصہ آیا اور ایس ایچ او راجا انصر کو بُلوایا گیا۔

اُسکے آتے ہی پروفیسر صاحب کو ایس ایچ اور اور چار پُولیس والوں نے ڈی سی او کے سامنے ٹھڈوں اور ڈنڈوں سے مارا اور پھر لے جا کر تھانے میں بند کر دیا۔ تھانے سے یہ کب اور کیسے چھوٹے یہ ایک دوسری دردناک کہانی ہے۔

میرے دوستو مجھے نہیں معلوم آپ کیا کرسکتے ہیں لیکن خدارا اس اُستاد کے لیے کچھ کیجیے۔ میرے پاس انکی کنٹیکٹ ڈیٹیلز اور ایڈرس بھی موجود ہے۔جو انکی قانُونی یا اخلاقی مدد کر سکتا ہو مجھ سے انکا نمبر لے سکتا ہے۔

اگر آپ میں سے کوئی صحافی ہے تو انکی طرف سے آواز اُٹھا کر انہیں انصاف دلوانے کی کوشش کرے۔ اگر آپ عام آدمی ہیں تب بھی سوشل میڈیا کی طاقت استعمال کرتے ہُوئے اپنی سی کوشش کرسکتے ہیں۔ میں نے آپ تک یہ واقعہ پُہنچا کر اپنا فرض پُورا کر دیا۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں