Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




فیصل آباد میں دوسالہ بچہ زیادتی کے بعد قتل۔

فیصل آباد گلشن رحیم ٹاؤن سے دو سالہ بچہ حسان پانچ فروری کو گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا۔ حسان پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ والد نے تھانہ صدر فیصل آباد میں بچے کی بازیابی کیلئے درخواست دی ہوئی ہے۔ حسان طارق آباد کا رہائشی تھا اور ماں کے ساتھ ننھیال گیا تھا جہاں سے اغوا ہوگیا۔ بچے کے والد نجم اللہ کا کہنا تھا کہ بچے کی گمشدگی پر اسکی والدہ کا رو رو کر برا حال ہوگیا ہے اور اسکی حالت نازک ہے۔


پولیس نے رپورٹ درج کر کے تلاش شروع کر دی مگر آج بچے کے والد کو گھر سے دور گندے نالے سے بچے کی لاش مل گئی ہے۔ لاش سے لگ رہا ہے کہ بچے کو زیادتی کرتے ہوئے قتل کیا گیا ہے۔


پچھلے سال قصور میں 280 بچوں کے ساتھ زیادتی کا کیس سامنے آیا تھا اور انکی ویڈیوز بھی پکڑی گئی تھیں مگر اس میں نون لیگ کے ایم پی اے کے ملوث ہونے سے کیس دب گیا تھا۔ اس کے بعد قصور میں ہی بارہ بچیوں کی زیادتی کے بعد ملنے والی سلسلہ وار لاشوں میں سے ننھی زینب کی لاش ملی جس سے شہر اور ملک میں کہرام مچ گیا۔ لوگوں کے احتجاج پر پولیس نے قاتل پکڑ لیا ہے اور سیشن کورٹ نے اسے پھانسی کی سزا بھی دے دی ہے مگر اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ اسکے بعد کے پی کے اور کراچی سے بھی بچیوں کی لاشیں ملی ہیں جنھیں زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

معصوم بچوں کے قتال کی سلسلہ وار وارداتوں کے بعد حکومت کی پالیسی ہے کہ اب ایسی کوئی بھی خبر جس سے انتشار پھیلنے کا خطرہ ہو نشر نہیں کی جائے گی۔

اسلام کے نام پر بننے والے اس پاکستان میں جسکی آزادی میں لاکھوں شہیدوں کا لہو ہے آج ستر سال بعد بھی قیامت کا منظر ہے اور یہاں کے معصوم بچے زیادتی کے بعد قتل ہورہے ہیں۔ ملک میں جنگل کا قانون چل رہا ہے۔ پولیس اور عدلیہ کا محکمہ ناکام ہو چکا ہے۔ حکمران کرپٹ ہیں اور لوگ بار بار انہی کرپٹ لوگوں کو ہی منتخب کر رہے ہیں۔

ملک میں انصاف کا نظام قائم کرنے کے لئے سب لوگوں کو ایماندار نمائندوں کو ووٹ دینے ہونگے تاکہ ایماندار حکومت قائم ہوسکے جو نیوٹرل اور ایماندار پولیس کا نظام بنائے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو معصوم بچوں کے قتال کا یہ سلسلہ طویل ہوتا جائے گا اور جنکے مریں گے ان پر ایسے ہی قیامت گزرتی رہے گی۔ جن لوگوں کے بچے بچے ہوئے ہیں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں خدا معلوم اگلا نمبر انکے بچے کا ہی نہ ہو۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.