97

ہیلی کاپٹر کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ ایک نظر ادھر بھی۔

نیب نے عمران خان کے خلاف کے پی کے حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر تو تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔ کیا چیر مین نیب اس معاملے کی تحقیقات کا بھی حکم دیں گے کہ میاں نواز شریف بطور ملزم احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد کس حیثیت سے پنجاب ہاؤس تشریف لے جاتے ہیں اورکیسے وہاں بیٹھ کر میٹنگز کی صدارت فرماتے ہیں ؟ پنجاب ہاؤس مسلم لیگ ن کی ملکیت نہیں ایک سرکاری عمارت ہے پھر نواز شریف یہاں کس حیثیت سے آ کر ڈیرے جما لیتے ہیں ؟ یہاں کی مہمان نوازیوں کے لیے ہمارے علم میں نہیں کہ مسلم لیگ ن نے کبھی اپنے کارکنان سے چندے کی اپیل کی ہو یا نظریاتی رہنما نے جاتے ہوئے بل ادا کیا ہو۔جو لوگ اتنے تجربہ کار ہیں کہ ایک سے زیادہ ذاتی رہائشگاہوں کو کیمپ آفس کا درجہ دے دیتے ہوں کہ اس بہانے یہاں تشریف لانے والے مہمانوں کی مہمان نوازی بھی جیب سے نہیں کرنا پڑے گی وہ اسلام آباد کے ہوٹلوں کو چھوڑ کر پنجاب ہاؤس کا رخ کرتے ہیں تو کیسے مان لیں کہ محض اتفاق ہے ؟

نواز شریف پنجاب حکومت میں کوئی عہدہ نہیں رکھتے ۔ مریم نواز صاحبہ کے پاس بھی ایسا کوئی منصب نہیں ۔ پھر وہ کس حیثیت سے پنجاب ہاؤس پراپنا حق جتانے آ جاتے ہیں ۔ وہ اس وقت نیب کے ملزم ہیں ۔ عدالت سے نکلتے ہیں تو مزید مشاورت کے لیے پنجاب ہاؤس پہنچ جاتے ہیں ۔ کیا چیئر مین نیب یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ یہ سہولت نیب کے تمام ملزمان کو حاصل ہے یا صرف ایک ملزم کو ؟ کیا انصاف کا تقاضا نہیں کہ نیب اپنے تمام ملزمان کو یہ سہولت فراہم کرے اور جیسے ہی کوئی ملزم عدالت میں پیش ہونے آئے تو پبلک پراسیکیوٹر ادب کے ساتھ اس سے سب سے پہلے یہ پوچھے کہ کیس کی سماعت کے بعد آئندہ کالائحہ عمل طے کرنے وہ کہاں جانا پسند فرمائے گا ، پنجاب ہاؤس یا سندھ ہاؤس ، بلوچستان ہاؤس ، کشمیر ہاؤس ، کے پی کے ہاؤس ، یا گلگت بلتستان ہاؤس ؟ اگر افرادی قوت کم ہو اور نیب کے لیے ہر ملزم سے یہ پوچھنا ممکن نہ ہو تو ملزمان کا ڈومیسائل دیکھ کر بھی طے کیا جا سکتا ہے کہ کونسا ملزم کس ’ ہاؤس‘ تشریف لے جائے گا ۔

نواز شریف صاحب نے نے نیب کے کیسز پر وکلاء سے مشاورت کرنا ہو یا آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل طے کرنا ہو اور اس سلسلے میں مختلف وفود کی میزبانی کرنا ہو ، ہر دو صورتوں میں انہیں یہ کام مسلم لیگ ن کے مرکزی دفتر یا کسی اور جگہ بیٹھ کر کرنا چاہیے ۔ لیکن وہ یہ کار خیر پنجاب ہاؤس میں بیٹھ کر کرتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کس قانون ، کس ضابطے اور کس استحقاق کے تحت ؟ اگر تو یہ ایک بادشاہت ہے جو ٹھیک ہے لیکن اگر یہ ایک مہذب جمہوری ریاست ہے تو پھر سوال تو اٹھے گا ۔ عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کے جملہ اخراجات کا تخمینہ جب لگا لیا جائے تو ذرا اس معاملے پر بھی تحقیق فرما لی جائے کہ میاں صاحب نے پنجاب ہاؤس میں کتنی میٹنگز منعقد فرمائیں ، اور کتنے لوگوں کی میزبانی فرمائی نیز یہ کہ یہ سب کچھ اگر چند میٹر کے فاصلے پر واقع میریٹ ہوٹل میں کیا جاتا تو اس پر کتنے اخراجات اٹھتے؟

مریم نواز صاحبہ حکومت کا کائی منصب اپنے پاس نہیں رکھتیں لیکن اس کے باوجود جب وہ سفر فرماتی ہیں تو سرکاری گاڑیوں کا ایک بھاری بھرکم قافلہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیا اس پر کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہو چکیں کہ نا اہل ہو جانے کے باوجود نواز شریف کی جاتی امراء کی رہائش گاہ پر 2695 پولیس اہلکار پہرہ دے رہے ہیں جن میں 100 ایس ایچ او ہیں ۔ کیا یہ خبر اس قابل نہیں کہ اس پر کوئی ایکشن لے لیا جاتا۔ہیلی کا پٹر استعمال پر بلاشبہ درست نوٹس لیا گیا لیکن کیا اس بات پر کوئی نوٹس لینا نہیں بنتا تھا کہ پنجاب حکومت نے جاتی امراء کی اپنے محلات کی حفاظت کے لیے خزانے سے364 ملین کی بھاری رقم جاری فرما دی ۔ یاد رہے کہ ایک ملین دس لاکھ کا ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مت بھولیے کہ یہ رقم اس بنیادی رقم کے علاوہ تھی جو محل شریف کی حفاظت کے لیے بجٹ میں رکھی گئی تھی ۔ 283 ملین کی تو صرف حفاظتی دیوار محل شریف کے ارد گرد کھڑی گئی ۔ حکومت رہے یا نہ رہے دیوار موجود رہے گی ۔ حیرت ہوتی ہے یہ کیسی نظریاتی سیاست ہے جو اپنے گھر کی دیوار بھی خود نہیں بنوا سکتی ۔ 20 چیک پوسٹیں بنا کر ان پر 90 کیمرے لگائے گئے۔ہم جیسے خاک نشیں تو عمران کے ہیلی کاپٹر پر تنقید کریں لیکن حکمران کس منہ سے تنقید کر رہے ہیں ۔

وزیر اعلی ایک ہے لیکن کیمپ آفس ایک سے زیادہ۔ بادی النظر میں یہ بھی اپنے خرچے بچا کر سب کچھ سرکاری خزانے کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش ہے ۔ ابھی جب نواز شریف نااہل ہوئے تو جاتی امرا کے گھر کو بھی وزیر اعلی کا کیمپ آفس بنا دیا گیا ۔ شاید اس لیے کہ دیگر لوازمات کے ساتھ ساتھ میاں صاحب سے ملنے جو لوگ آئیں گے ان کے چائے پانی کا خرچہ بھی خود برداشت نہ کرنا پڑے ۔شور مچا تو یہ نوٹیفیکیشن معطل کر دیا گیا ۔ کیا معلوم اندرون خانہ اسی پر عمل ہو رہا ہو ۔ نیز یہ کہ ایک وزیر اعلی کو کتنے کیمپ آفس درکار ہوتے ہیں ؟

مریم نواز صاحبہ نے علامہ اقبال میدیکل کالج کے طلباء کو لیپ ٹاپ تقسیم کیے۔ یہ سکیم بنیادی طور پر حکومت پنجاب کی ہے۔ اب مریم صاحبہ نہ ایم پی اے ہیں نہ ایم این ے ۔ نہ ہی ان کے پاس کوئی وزارت ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس حیثیت سے یہ کام سر انجام دے رہی تھیں۔ کیا لیپ ٹاپ سکیم مسلم لیگ ن کے فنڈز سے شروع ہوئی تھی کہ اس کو خاندانی سیاست کے فروغ کے ایک عامل کے طور پر استعمال کیا جاتا ؟ یا یہ نوازشریف صاحب کے ذاتی صدقات و خیرات کے تحت شروع کی گئی سکیم تھی جس میں لیپ ٹاپ بانٹنے ان کی صاحبزادی آ گئیں ؟ قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور عمران خان کے ذمے ہیلی کاپٹر کا بل نکلتا ہے تو لازم ہے کہ ان سے وصول کیا جائے۔ لیکن جس طرح وہ لازم ہے اسی طرح کیا یہ بھی ضروری نہیں کہ پوچھا جائے کہ نواز شریف جب ملک سے باہر تھے تو مریم نواز صاحبہ کس حیثیت سے وزیر اعظم میں بیٹھ کر معاملات کو چلاتی رہیں ؟ ایک آئینی ریاست کے قواعد و ضوابط کیا اس بات کی اجازت دیتے ہیں ؟

ریاست کے وسائل قوم کی امانت ہیں ۔ یہ کسی کی چراگااہ نہیں ۔ عمران خان کے خلاف ہیلی کاپٹر کے استعمال کی تحقیقات ہونی چاہییں ۔ اور ان کے ذمے کچھ نکلتا ہے تو لازم ہے کہ ان سے وصول کیا جائے ۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ عمران خان پر ہیلی کاپٹر کے استعمال میں اگر نیب کی تحقیقات کے بعد مقدمہ قائم ہوتابھی ہے تو اس کا کل حجم ایک کروڑ گیارہ لاکھ روپے بنتا ہے ۔ جب کہ دوسری جانب عالم یہ ہے کہ سپریم کورٹ بھی محو حیرت ہے کہ چیئر مین پی ٹی وی عطا ء الحق قاسمی کو دو سالوں میں 27کروڑ کی ادائیگی کیسے کر دی گئی ۔ اب سوال یہ ہے کہ جو حکمران اتنے ’’سخی‘‘ ہوں کہ اپنے بندے کو اس قدر نواز دیں وہ خود قومی خزانے کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر چکے ہوں گے ؟ آپ کیا سمجھتے ہیں یہ محض ایک اتفاق ہے محکمہ خزانہ پنجاب کی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں 300 ارب روپے کی بے ضابطگیاں پکڑی گئی ہیں ۔ ہم کیسے نہ سمجھیں کہ یہ تجربہ کاری اپنے کمال پر ہے اور گڈ گورننس کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں ٹوٹی پڑی ہے ۔

مکرر عرض ہے کہ ریاستی وسائل کسی کی چراگاہ نہیں ہوتے اس لیے عمران خان سے ضرور حساب لیا جائے کہ انہوں نے کے پی کے حکومت کے ہیلی کاپٹر کیوں استعمال کیے لیکن یہی اصول سب پر لاگو کیا جائے اور اس میں کیا شک ہے کہ اس اصول پر ن لیگ کو پرکھا گیا تو وہ تو فعل ماضی نہیں فعل ماضی مطلق مجہول بن جائے گی ۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں