60

شیشہ برف۔

بظاہر نظروں کو اچھی لگنے والی برف اس وقت خطرناک ہو جاتی ہے جب ایک دن ٹمپریچر جمع میں ہو جائے اور برف تیزی سے پگھلنے لگے اور اگلے دن دوبارہ منفی میں ہو جائے۔ ایسی صورت میں سڑکوں پر پانی کی شکل میں پگھلی ہوئی برف دوبارہ شیشے کی شکل میں جم جاتی ہے اور بظاہر سڑک نظر آنے والے راستے اصل میں نہ نظر آنے والی برف سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں۔

ایسے راستوں پر چلنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے کیونکہ ایک دو قدم بعد ہی انسان بری طرح پھسل سکتا ہے اور اگر علاقہ اونچا نیچا اور پہاڑی قسم کا ہو تو چُوکنا (hip joint) ٹوٹنے کے چانسز کافی بڑھ جاتے ہیں۔

زیر نظر تصاویر میں جو راستے نظر آ رہے ہیں وہ حقیقی نہیں ہیں بلکہ انکے اوپر برف کے شیشے کی طرح دبیز تہہ موجود ہے جو نظر کم آتی ہے چلنے والے کو محسوس زیادہ ہوتی ہے، اور پہلا پاؤں رکھتے ہی چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں اور عام حالات میں اٹھکیلیاں کرتا ہوا انسان دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا شروع کر دیتا ہے۔

سویڈن میں پھسلن والی صورتحال سے بچاؤ کیلئے ساری سردیاں لوکل گورنمنٹ والے باریک بجری کی تہہ سڑکوں پر بکھیرتے رہتے ہیں جو برف پر انسانوں اور گاڑیوں کو چلنے میں مدد دیتی ہے لیکن کبھی کبھار چھوٹی بجری کا ٹکڑا ٹائروں سے اُڑتا ہوا گاڑی کی ونڈ سکرین پر بھی دھماکے سے آ لگتا ہے اور بیٹھے بٹھائے شیشے پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے جو برف ختم ہونے کیبعد بھی موجود رہتے ہیں جب تک کہ پوری ونڈ سکرین ہی تبدیل نہ کر دی جائے۔

سکنڈی نیوین ممالک میں چونکہ سردی زیادہ پڑتی ہے اسلئے یہاں کے شاعر بھی اپنے اشعار کے ذریعے سردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ دم تیار رہتے ہیں۔

معروف ناول نگار اور نارویجین شاعرلارش سوبیئے کرسٹن نے بہت عرصہ پہلے کہا تھا کہ،

میری رگوں میں شاعری کی جو آگ دوڑ رہی ہے
اس کے سامنے زندگی کو منجمد کرتی ہوئی یہ برفانی ہوا کچھ بھی نہیں

ایسے موسم میں اگر پاکستان انڈیا کا کوئی شاعر آ جائے تو اسکے منہ سے کچھ ایسے اشعار نکلتے ہیں۔

لبوں میں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں 
غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں
اگر کوئی زیادہ عاشق مزاج اور تخیلاتی شاعر سکنڈی نیوین ممالک میں آئے تو اسکے منہ سے کچھ اس قسم کے اشعار نکلیں گے۔
کتراتے ہیں بل کھاتے ہیں گھبراتے ہیں کیوں لوگ 
سردی ہے تو پانی میں اتر کیوں نہیں جاتے
ان شاعر صاحب کو غالباًیہ اندازہ نہیں ہے یہاں سمندروں کا پانی بھی جم جاتا ہے اور لوگ اوپر سکیٹنگ کر رہے ہوتے ہیں لحاظہ ایسے موسم میں انسان پانی میں نہیں اتر سکتا۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں