222

ذہنی مریض

جیکسن یورپ کے ایک امیر ملک کا رہائشی ہے اور ایک عام شکل و صورت اور عام سی تعلیم رکھنے والا چٹا انسان ہے۔ وہ ہفتے میں چند گھنٹے ایک چرچ میں بلامعاوضہ پادری کی خدمات انجام دیتا ہے، لوگوں کو مذہبی تعلیم دیتا ہے اور اپنی مذہبی کتاب کی مدد سے لوگوں کے روزمرہ مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جیکسن شہر کے ایک بڑے دفتر میں ٹیکنیکل جاب کرتا ہے، اسکا کام محدود پیمانے پر چند ڈیوائسس کو کمپیوٹر سے لنک کرنے کا ہے۔ یہ ایسا کام ہے کہ کوئی بھی تھوڑی سی رہنمائی سے باآسانی کر سکتا ہے۔ جیکسن شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ بھی ہے اور اکثر اپنے بچے کی ویڈیوز موبائل سے دوسرے لوگوں کو دیکھاتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔

آپ سوچ رہے ہونگے کہ جیکسن بہت اچھا انسان ہے جو اپنی مذہبی، دنیاوی اور خاندان کی ضروریات بطریق احسن انجام دے رہا ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے، مگر جیکسن میں ایک مسئلہ ہے اسے لیڈر اور مینیجر بننے کا بہت شوق ہے۔ اسکی بدقسمتی ہے کہ اسکے نیچے کام کرنے والا کوئی نہیں ہے، جس پر یہ اپنی مینیجری کا رعب جھاڑ سکے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہمت ہارنے والا نہیں ہے، اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنے نام کیساتھ ڈائریکٹر لکھ کر اپنے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے۔

جیکسن آفس میں مسائل پیدا کرنے والا انسان ہے اور ایسے لوگ دنیا کے ہر ملک کے ہر کام کرنے والی جگہ پر ہوتے ہیں، جن  کا کام باقی لوگوں کے کام میں کیڑے نکالنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ چغل خور اور دوسروں کی جڑیں کاٹنے والے انسان ہوتے ہیں، جو دوسروں کی بلاوجہ غلطیاں نکال رہے ہوتے ہیں ان لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دینا چاہئیے۔ بقول شاعر

جو کر رہا ہے دوسروں کے ذہن کا علاج
وہ شخص خود بہت بڑا ذہنی مریض ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں