101

بھس بھرا بیانیہ، تاریخ کا میوزیم

کوئی بیانیہ شیانیہ نہیں، ایک بلفیہ ہے جو بلف کو بڑھک کا تڑکا لگا کر ایک سفری سیلز مین کی طرح اس کی مارکیٹنگ کررہا ہے اور اب تک اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ کہ وہ اپنے ووٹر سپورٹر کو ’’قائم‘‘ رکھنے میں کامیاب ہے لیکن تاریخ کے تناظر میں دیکھیں تو ترس آتا ہے۔ ماضی میں جنہوں نے جتھوں کی صورت سپریم کورٹ پر یلغار کی تھی، آج فقط زبان درازیوں تک محدود ہیں کیونکہ دوسری طرف سے رسی دراز ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ کس کی ’’درازی‘‘ کب اور کہاں ختم ہوتی ہے۔فرمایا ’’سازشیں کچھ نہیں بگاڑ سکتیں‘‘ لیکن ناقابل تردید سچ بلکہ سچائیوں کے بارے کیا خیال ہے؟ العزیزیہ اسٹیل ملز فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنسز میں براہ راست ملزم قرار، بچوں کے نام اربوں کی جائیدادیں نوازشریف کی ہیں، بے گناہی ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے تو بڑے ملزم نے بڑا ملزم ہی نامزد ہونا تھا جس کا یہ اعترافی بیان دراصل اس کی سیاسی زندگی کا خلاصہ ہے کہ ’’اگر میرے اثاثے میرے آمدنی سے زیادہ ہیں تو تمہیں کیا‘‘ ذلت کے پاتال میں گرا کوئی بدنصیب ہی اس ہذیان کو نظرانداز کرسکتا ہے۔

تین بار وزارت عظمیٰ اچکنے اور لنڈھانے کے بعد ایسا بیان دے کہ صرف پاکستان میں ہی رہا جاسکتا ہے اور صرف رہنا کیا، خطابات بھی فرمائے جاسکتے ہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ اقامے پر اچھا کھیلے ہیں کیونکہ ’’لُوز بال‘‘ تھا۔ قصہ یہ کہ محروم طبقات سے لیکر متوسط طبقہ تک شاید ہی کوئی خاندان ہو جس میں ایک یا ایک سے زیادہ اقامے نہ ہوں کیونکہ ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد مڈل ایسٹ کے کسی نہ کسی ملک میں کام کررہا ہے ۔ سو اقامہ ہولڈر ہے۔ ان سب کیلئے تو یہ ایک معمول کی معمولی اور جائز سی بات ہے۔ ہر کوئی یہ سوچنے میں حق بجانب تھا کہ اقامہ تو میرے اباجی، تایا جی، چا چا جی، پھپھا جی، ماما جی اور بھائی جی وغیرہ کے پاس بھی ہے بیچارے غریب نواز شریف کی جیب سے نکل آیا تو کون سی قیامت آگئی۔ اس لئے ’’سودا‘‘ بیچنے میںآسانی رہی لیکن یہ توواردات کی پہلی قسط تھی۔ ہاتھ پائوں اور منہ تو یہ آئندہ بھی ماریں گے لیکن اس کی مارکیٹنگ مشکل اور پھر ناممکن ہوتی جائے گی… بھڑکنا اور پھڑکنا بتدریج ٹھنڈا پڑتا جائے گا کہ لمبے سے لمبے جملے کا اختتام بھی بہرحال فل سٹاپ پر ہوتا ہے۔ملکی وسائل نچوڑنے، بھنبھوڑے والے حکمران قدیم عربوں جیسے ہوتے ہیں جو زندہ جانوروں کے جسموں سے گوشت کے ٹکڑے کاٹ لیا کرتے تھے تاکہ بھون کر کھا سکیں۔ کچھ ایسے تھے جو زندہ جانوروں کو باندھ کر یا باڑے میں کھلا چھوڑ کر انہیں نشانہ بناتے، نیزا بازی یا تیر اندازی کی مشق کرتے۔ میرے نزدیک ہر وہ شخص بھلے حکمران ہو، سیاستدان، کاروباری یا کوئی اور، ناجائز طریقے سے ملکی دولت بیرون ملک لئے جانے والا کوئی بھی شخص قدیم عربوں سے کم نہیں جو زندہ جانوروں کا گوشت اتارتے یا ان پر نشانہ بازی کی پریکٹس کیا کرتے تھے۔سوئس بینکوں سے لیکر یو اے ای یا یورپ، امریکہ کینیڈا وغیرہ میں پاکستانیوں کے اثاثوں اور اکائونٹس وغیرہ بارے مختلف اعداد و شمار اکثر چھپتے رہتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ اعداد و شمار آدھے بھی صحیح ہوں اور کسی طرح پاکستان آکر صحیح سمتوں میں انویسٹ ہو جائیں تو پاکستان کیسا ہوسکتا ہے؟مرجھائے ہوئے چہروں پر کچھ کچھ رونق آسکتی ہے۔بے نور سی آنکھوں میں تھوڑی روشنی ہوسکتی ہے۔خستہ تنوں میں زندگی کی رمق۔معصوم بچے بھٹہ خشت سے سیدھے سکول جاسکتے ہیں۔بھیک مانگتے ہاتھ کتابوں سے منور ہوسکتے ہیں۔کتنے فیصد بے روزگاروں کو روزگار مل سکتا ہے؟لیکن ایسا ہوگا کبھی نہیں۔ لوٹی ہوئی دولت باہر سے اندر صرف اسی صورت آسکتی ہے جب سعودی شہزادوں کی مانند مقامی شہزادوں کو بھی اندر کر کے باہر سے تالے لگا دیئے جائیں۔Angela Davisنے کہا تو اپنے ملک بارے تھا لیکن مجھے آج کے پاکستان پر بہتر فٹ ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ”What this country needs is more unemployed Politicians.”جتنے سیاستدان بے روزگار ہوں گے، بے روزگاروں کی تعداد میں اتنی ہی کمی آئے گی کیونکہ ایک ’’اچھا‘‘ سیاستدان کم از کم ایک لاکھ بے روزگار کے حصہ کا رزق ہڑپ کر جاتا ہے۔ STEVENSONنے بھی جو کچھ اپنے سیاستدانوں کے بارے میں کہا تھا مجھے اپنے سیاستدانوں کے بارے زیادہ جچتا ہے۔”Politics is perhaps the only profession for which no preparation is thought necessary.”وہ وقت دور نہیں جب ہوائی قسم کے ’’بیانیہ‘‘ میں بھس بھر کے اسے حنوط کرنے کے بعد تاریخ کے میوزیم میں سجا دیا جائے گا کہ یہ بیانیہ نہیں، اک وقتی قسم کا’’بلف‘‘ ہے اور جھوٹ بغیر پائوں کے زیادہ سے زیادہ کتنا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں