ظالم فوجی اور بیچاری استانیاں

پنجاب حکومت نے سکولوں میں اساتذہ کی حاضری اور وقت کی پابندی یقینی بنانے کیلئے ریٹائرڈ فوجی حضرات نوکری پر رکھے ہوئے ہیں جنہیں موٹر سائیکل اور پٹرول حکومت کی طرف سے دیا جاتا ہے اور انکا کام اپنے حلقے میں موجود لڑکے لڑکیوں کے سکولوں پر اچانک چھاپے مارنا ہوتا ہے تاکہ اساتذہ میں ڈسپلن پیدا کیا جاسکے، اور کام چور اور گھوسٹ اساتذہ کو نوکری سے نکالا جا سکے۔

استاد حضرات عام طور پر وقت پر سکول تو چلے جاتے ہیں مگر وہ اپنے کام میں کتنے سنجیدہ ہوتے ہیں اور کتنا وقت ضائع کرتے ہیں یہ علیحدہ بات ہے۔

استانیوں کو گھر اور بچوں کا کام بھی کرنا ہوتا ہے اور سکول بھی پہنچنا ہوتا ہے اور اکثر استانیوں کو نوکری بھی گھر سے کئی کئی کلومیٹر دور ملی ہوتی ہے اور انکا سکول پہنچنا بھی اکثر مرد حضرات کی مرہون منت ہوتا ہے، اسلئیے وہ اپنی نوکری سے انصاف نہیں کر پاتیں اور اکثر سکول سے چھٹی کرنا، لیٹ جانا، وقت سے پہلے گھر آ جانا، سکول اوقات میں پڑھائی کی بجائے نجی چیزیں ڈسکس کرنا انکی روزمرہ مجبوریوں میں شامل ہوتا ہے۔

فوجی چھاپے پر سب سے زیادہ سراپا احتجاج بھی استانیاں ہی ہوتی ہیں۔ فوجی خالی چھاپا نہیں مارتا بلکہ وہ اساتذہ اور طلبہ کا رجسٹر حاضری چیک کرتا ہے سکولوں میں صفائی کا معیار چیک کرتا ہے اور علاقے کی آبادی کے لحاظ سے کلاس میں موجود طلبہ و طالبات کی تعداد چیک کرتا ہے۔ لہذا مہینے کے شروع کے دو ہفتے ہر روز سکول کا چوکیدار گاؤں اور چھوٹے قصبوں میں لوگوں کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتا نظر آتا ہے اور اونچی اونچی کہہ رہا ہوتا ہے :

“ماؤں خدا دا خوف کرو اپنے بچے سکول کھل دیئو، فوجی آن آلا اے تے اُدھر استانیاں میری جان نو رو رئیاں نیں”

فوجی عام طور پر مہینے کے شروع کے دو ہفتوں میں اپنے حلقے میں موجود ایک ایک چکر لگا لیتا ہے، اور جب تک فوجی آ نہیں جاتا استانیاں ہر روز وقت پر سکول پہنچتی ہیں، ایک جگہ اکٹھی ہونے کی بجائے اپنی اپنی کلاسوں میں پڑھا رہی ہوتی ہیں اور وقت پر چھٹی کرتی ہیں۔ اگر فوجی مہینے کے پہلے ہفتہ دس دن میں چکر نہیں لگاتا تو استانیوں کی زبان پر مندرجہ ذیل کلمات ہوتے ہیں :

” اُوترا، غرق جانا، بیغیرتا جیاء اَجے تک نہی آیا”

(طارق محمود)

اپنا تبصرہ بھیجیں