118

بیہوشی دورانِ جراحت ، عذاب یا نعمت

آپریشن تھیٹر میں اسٹریچر پر لیٹے ہوئے آپریشن کا بتایا گیا پینتالیس منٹ کا وقت تو بخوبی گزر گیا مگر عملِ جراحی تاحال جاری تھا . اس کیبعد ہر لحظہ مشکل اور تکلیف دہ ہوتا گیا . دائیں بازو کا آپریشن ہو رہا تھا اور اسی کندھے پر پردہ اس طرح لٹکایا گیا تھا کہ میں ڈاکٹروں اور انکی کارگزاری کو دیکھنے سے قاصر تھا . آری دینا ، برما دینا ، یہ کاٹو وہ کاٹو کی آوازیں سننا اور کٹر برما کی آوازیں ایک سماں باندھ رہی تھیں ، ایک حشر برپا کر رہی تھیں . 

انیستھیسئیسٹ جو بائیں طرف کھڑے بغور شوگر ، بلڈ پریشر پر نظر رکھنے کے علاوہ گاہے بگاہے میرے چہرے پر بھی نظر ڈال لیتا تھا . مجھے چہرے پر پسینہ محسوس ہوا تو اسے کہا ، اس نے میرے چہرے کے بدلتے تاثرات کا مشاہدہ کیا ، ٹشو سے چہرا صاف کرنے کیبعد ڈرپ میں اس نے سکون آور ٹیکہ شامل کر دیا . مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میرا جی چاہتا تھا کہ بس اب میری جان چھوڑ ہی دیں . دل کرتا تھا کہ ہڈی جوڑے بغیر ہی زخموں کو جیسے تیسے پیک کر دیں تاکہ اذیت کا یہ دور تو ختم ہو . مزید کرب برداشت نہیں کیا جا رہا تھا . ٹوٹی بازو کیساتھ جینا مجھے اس مرحلے سے کہیں آسان محسوس ہو رہا تھا .

دراصل مجھے انیستھیسیا سے ڈر لگتا تھا . جس ڈاکٹر نے انیستھیسیا کے بغیر لوکل کے زریعے آپریشن کا کہا میں نے فورا آمادگی کر دی . صرف انیستھیسیا ہی مسئلہ نہیں تھا ، پلستر فوبیا اس سے بڑا مسئلہ تھا . جب کبھی بھی میں کسی کو پلستر میں دیکھتا تو جسم کے اسی حصے میں مجھے بھی کھجلی سی ہونے لگتی . بندے کی حالت پر اتنا رحم آتا کہ بیچارا خارش کیسے کرتا ہوگا . اپنا تو یہ حال ہے کہ نماز میں بھی کبھی ادھر کھجا تو کبھی ادھر کھجلی ہوتی ہے . جب سوچا آج کھجلی نہیں کرنی تو جتنی دیر خود کو روک سکتے ٹھیک مگر جب صبر کا بند ٹوٹتا ہے تو پچھلی کسر بھی نکل جاتی ہے .

دس بارہ دن ٹوٹی بازو لئے اس امید کیساتھ مختلف ڈاکٹروں سے مشاورت کرتا ریا کہ شاید پلستر اور اینیستھیسیا کے معاملہ میں کوئی رعائت ہو جائے مگر اس بیچ گھر پر ملنے آنے والے تمام لوگ پلستر فوبیا اور اسکی کوفت سے متعلق اپنے تجربات و مشاہدات سے میرے علم اور فوبیا میں اضافہ ہی کرتے رہے . پلستر سے متعلق دیگر احباب و شناساؤں کے تجربات اور الجھنوں سے متعلق سن سن کر میرا ارادہ مزید مستحکم ہو گیا کہ پلستر تو لگواؤں گا ہی نہیں .

ایک کزن نے بتایا کہ جب اسکی ٹانگ ٹوٹی تھی ، ایک دن جب گھر پر اکیلا تھا ، الجھن اور کوفت اتنی بڑھی کہ قینچی اٹھا کر پلستر کاٹ ہی ڈالا . والدہ مرحومہ کا بتایا یاد آتا تھا کہ جب والد محترم کے بازو کا فریکچر ہوا تھا تو خارش ہونے پر اون والی سلائی کی مدد سے پلستر کے اندر ڈال کر خارش کرتے تھے . ایسے ہی ایک خاتون کے بارے میں سنا کہ سلائی سے اتنا خارش کرتی تھیں کہ نا صرف زخم پڑ گئے بلکہ انتہائے بگڑ گئے تھے .

اب چونکہ خود کیساتھ مرحلہ پیش آ چکا تھا . زندگی میں پہلی انجری تھی اور پہلا ہی کوئی آپریشن تھا جس کا سامنا تھا . اس سے قبل دانت تک نکلوانے کی نوبت نہ آئی تھی ، الحمدللہ خدا کا بڑا فضل و کرم رہا ہے ، اللہ کرے آئندہ بھی ایسا رہے .

ملتان کے دو انتہائی معروف سرجنز کو دکھانے کے باوجود قرعہ جس کے نام نکلا ، وہ اسکے معروف یا کہنہ مشق ہونے کی نسبت اس وجہ سے ہوا کہ موصوف نے دو دیرینہ فوبیاز میں ریلیف کا عندیہ دیا تھا . یعنی آپریشن سے پہلے بیہوش نہیں کرینگے اور بعد میں پلستر کا استعمال نہیں کرینگے .

آدھ گھنٹے کے اضافے وقت کے بعد آخر جب سائیڈ کا پردہ اور میرے اوپر پڑی شیٹ کو ہٹایا گیا تو میرے مکمل طور پر بھیگے کپڑوں کو دیکھ کر ڈاکٹرز نے استعجاباً پوچھا کیا پانی گر گیا ہے . سرجن کے استفسار پر انیستھیسئیسٹ نے بتایا کہ بی پی لو ہو گیا تھا ، اسلیے کثرت پسینہ سے کپڑے بھیگ گئے ہیں .

اس تکلیف دہ تجربے کا حاصل یہ ہیکہ جراحت کے دوران بیہوشی ایک نعمت سے کم نہیں . اور ڈاکٹرز کو چاہیے کہ فوبیا میں مبتلا مریضوں کیلیے معقول تھراپی کا اہتمام کریں تاکہ انہیں بیہوشی سے خوف نہ رہے اور جراحت کا عمل انکے لیے زہنی الجھن و کوفت کا باعث نہ بنے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں