144

نوٹنکی۔

دربارِ شاہی سجا ہوا تھا. نااہل عالم پناہ میر تقی میر کے شعر کی مدر سسٹر ایک کررہے تھے.

” میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں”
” واہ…. واہ…. واہ…… واہ”

خوشامدی درباریوں کی واہ واہ نے عرش کو ہلا دیا. فرشتے پریشان ہو گئے. ایک فرشتے نے دوسرے سے پوچھا،

” یہ شور کیسا ہے؟”

دوسرے نے کہا،

” کچھ نہیں… وہ پٹواریوں نے گند مچائی ہوئی ہے. اُن کا فارغ لیڈر انہیں شعر سنا رہا ہے ”

” شعر؟ ” پہلے فرشتے کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا.

” بھائی.. اس کا شعر و شاعری سے کیا لینا دینا. اس نے تو ساری عمر چیک بک کے علاوہ کوئی اور بک تو دیکھی بھی نہیں ہوگی”

دوسرے فرشتے نے قہقہہ لگایا.

” تم ٹھیک کہہ رہے ہو بھائی… وقت بہت کچھ سکھا دیتا ہے…. اور ویسے بھی یہ دونوں بھائی قوم کی نفسیات جانتے ہیں. ان کی قوم ان کی اس قسم کے نوٹنکیوں سے بہت خوش ہوتی ہے ”

پہلا بولا،

” مگر بھائی ڈرامہ کرنا ہی تھا تو کوئی سلیقے سے کرتے. شعر یاد کرلیتے.. یہ کیا موبائل میں سے پڑھ کے سنا رہے ہیں.”

دوسرا بولا،

” ارے بھائی.. اتنا دماغ کہاں کہ شعر یاد کریں. یہ تو ابھی تازہ تازہ عرفان صدیقی نے واٹس اپ پر بھیجا ہوگا کہ پڑھ دو.. انہوں نے پڑھ دیا. وہ یاد ہے نا اوبامہ کے سامنے پرچیاں پڑھنے والا سین ”

پہلے فرشتے نے قہقہہ لگایا،

” ہاں یاد ہے…. اور ان درباریوں کو دیکھو.. ان سب سے پوچھا جائے کہ یہی شعر اگر کوئی اور سناتا تب بھی یہ سب اسی خشوع و خضوع سے واہ واہ کرتے؟ ”

” خشوع و خضوع… ہاہاہا… بہت خوب ” دوسرے فرشتے نے داد دی.

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}
span.s2 {font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں