101

قندوز افغانستان میں 150 حفاظ اکرام شہید

قندوز افغانستان کا انتہائی شمالی صوبہ ہے اور اسکی سرحد تاجکستان سے ملتی ہے اور یہ طالبان کا مضبوط گڑھ ہے۔ سوموار دوپہر کو قندوز کے شہر دشتِ آرچی میں ایک مسجد اور مدرسہ میں حفاظ قرآن بچوں کی دستار بندی کے سلسلے میں بڑوں بچوں سمیت ایک ہزار لوگ جمع ہوئے۔

افغان فوج جسے طالبان نے اپنے پے درپے حملوں کی وجہ سے مفلوج کر رکھا ہے بدلے کی آگ میں پاگل ہوگئی ہے، اور طالبان ختم کرنے کیلئے معصوم بچوں کو بھی مارنے سے دریغ نہیں کرتی، لہذا دستار بندی کے اس اجتماع کو افغان فوج نے پہلے سے ٹارگٹ کر رکھا تھا اور انہیں یقین تھا کہ اتنی بڑی تقریب میں طالبان کمانڈر ضرور آئیں گے۔

تقریب کے دوران اچانک افغان فوج کے ہیلی کاپٹر وہاں نمودار ہوئے اور مدرسے پر اندھا دھند راکٹ برسا کر غائب ہوگئے۔ اس افسوس ناک واقعہ میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بچے بڑے شہید ہوگئے۔

افغان فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد رادمانش نے دعوی کیا ہے کہ وہاں 21 طالبان اپنے کمانڈر سمیت موجود تھے جو سب کے سب مارے گئے ہیں۔

ایک چالیس سالہ عینی گواہ نے ٹیلی فون پر بتایا ہے تقریب میں بہت تھوڑی تعداد میں مسلح طالبان شرکت کر رہے تھے جبکہ سویلین اور بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ چونکہ یہاں دستار بندی کی تقریب تھی اور سب کو کھانا دیا جانا تھا اسلئے علاقے کے بہت سے بچے بھی وہاں جمع ہوگئے تھے، اور مارے جانے والوں میں بہت زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

طالبان کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ یہ اجتماع خالص مذہبی نوعیت کا تھا اور اس میں طالبان موجود نہیں تھے اور یہ امریکہ اور اسکے غلاموں کی عادت ہے کہ سویلین آبادی پر بم گرا کر عام لوگ مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ طالبان تھے۔ اس واقعہ میں ملوث افغان فوج، جس نے 150 لوگ شہید کئیے اور مذہبی بے حرمتی کی، کو یقیناً سبق سکھایا جائے گا۔

اس سارے واقعہ میں مارنے والے اور مرنے والے دونوں کلمہ گو مسلمان تھے۔ حقیقت میں اتنے مسلمان امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے نہیں مارے جتنے خود مسلمانوں نے مارے ہیں۔ مسلمان تب تک ایسے ہی گاجر مولی کی طرح کٹتے رہیں گے جب تک مسلمان تمام اختلافات بھلا کر اللہ کی رسی یعنی قرآن کو تھام نہیں لیتے اور منافقت سے نکل کر اصلی مسلمان نہیں بن جاتے۔ ????

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہورہے ہیں ہمیں قتل کررہے ہیں

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}
span.s2 {font: 12.0px ‘.Apple Color Emoji UI’}

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں