117

کالاباغ ڈیم ۔ آنکھیں کھولیئے

رات سے مینہ برس رہا تھا ۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا میں مٹی کی خوشبو بھی تھی ۔ چہرے پر گرتی بوندوں نے ہاتھ پکڑا اور کنول جھیل لے آئیں ۔ کنول جھیل، جہاں تتلیاں شوخیاں کرتی تھیں اور جہاں جگنو جگمگ کرتے تھے۔ جہاں ہر سال مرغابیوں کی کوئی بھٹکی ٹولی اتر آتی تھی ، جہاں کوئل نغمے سنایا کرتی تھی ، جہاں شہتوت کا ایک پیڑ تھا ، جس کے راستے میں بیری کا ایک درخت تھا اورجس کے کنارے بیٹھ کر ساون موسم میں ٹپ ٹپ اترتی بوندوں کی آواز سننے میں کتنے چاؤ سے آیا کرتا تھا۔

شکر پڑیوں سے اُس طرف درختوں میں گھرا ، سرخ اینٹوں سے بنا ایک راستہ جنگل میں اترتا تھا ، اس کے دوسرے موڑ پر کنول جھیل تھی ۔ آج پورے پندرہ سال بعد میں اس طرف آیا تھا ۔ ایک درخت کے نیچے میں نے گاڑی کھڑی کی اور کنول جھیل کی طرف چل پڑا۔

وہی میں تھا ، وہی راستہ تھا مگر کنول کے پھول نہیں تھے ، کسی تتلی کی شوخی نہیں تھی ، کوئی کوئل نہیں بول رہی تھی ۔ میں عین اس مقام پر کھڑا تھا جہاں میرے سامنے جھیل ہونی چاہیے تھی لیکن یہاں تو ایک گہری کھائی اور اور جھاڑ جھنکار کے سوا کچھ نہ تھا ۔ بارش برس رہی تھی ، گھوم پھر کر وہ راستہ تلاش کیا جو نیچے جھیل میں اترتا تھا جہاں ایک پتھر پر بیٹھ کر ٹانگیں جھیل کے پانی میں ڈبوئی جا سکتی تھیں ۔چند قدم چلا تو جھاڑیوں سے یہ راستہ بند ملا،شاید برسوں سے یہاں کوئی نہیں آیا تھا ۔ محبتوں کی کتنی داستانیں اپنے اندر سموئے ایک جھیل دم توڑ چکی تھی ۔ا یک عہد تمام ہو چکا تھا۔تتلی، جگنو ، کوئل سب جا چکے تھے ۔ آنکھوں سے دو قطرے نکلے اور بارش کے پانی کے ساتھ مل کر سوکھی جھیل میں جذب ہو گئے ۔

میں وہاں سے راول جھیل چلا آیا ۔ بارش اب بھی ہو رہی تھی ۔ جھیل میں پانی کی سطح اتنی گر چکی تھی کہ تین چار روز کی بارشوں کے باوجود ایک یا دو نہیں پورے پانچ جزیرے نمودار ہو چکے ۔ وہ قدیم سڑک بھی نظر آ رہی تھی جو راولپنڈی سے مری جاتی تھی اور پھر جھیل کا حصہ بن گئی ۔ تو کیا کنول جھیل کی طرح ایک روز راول جھیل بھی ختم ہو جائے گی؟ بادل کے کسی آوارہ ٹکڑے کی طرح خیال آیا اوراداس کر گیا۔

ہمارے پانی کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں ، صاف پانی کی ندیوں میں ہم نے سیوریج ڈال دی ، بیوروکریسی کی جہالت کا یہ عالم ہے کہ شکر پڑیاں پر ایک چشمہ تھا ، ایک کند ذہن افسر کو لگا یہ خوبصورتی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حکم دیا اسے بند کر دو ۔ سی ڈی اے اسے بند کرتی یہ پھر پھوٹ پڑتا۔افسر شا ہی کی بصیرت نے اس کا حل یوں نکالا کہ کنکریٹ ڈال کر چشمے کو بند کر دیا ۔

ہماری سرے سے کوئی واٹر پالیسی ہی نہیں ہے۔ ہم اپنا نوے فیصد پانی ضائع کرتے ہیں۔ دل تھام لیجیے کہ اکیس بلین ڈالر سالانہ اس کی قیمت ہے۔ بارش آ جائے تو سیلاب کا خطرہ ہمیں آ لیتا ہے اور بارشیں روٹھ جائیں تو خشک سالی کا ڈر جان کو آجاتا ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم سے ابھی تک لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔

کیا کبھی ہم نے سوچا کہ بھارت ہمارے حصے کے دریاؤں پر ڈیم بناتا چلا جا رہا ہے اور ہم ایک کالاباغ ڈیم نہیں بنا سکے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ جب بھی ڈیم کی بات کی جائے بعض سیاست دان برہم ہو جاتے ہیں ۔برہمی بھی ایسی کہ مخبوط الحواس ہو کر دھمکی دیتے ہیں : ڈیم بنا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ ملک نہ ہوا کسی مدہوش کا جام ہو گیا۔

کالاباغ ڈیم اللہ کا انعام تھا ، ہم نے سنجیدہ بحث کیے بغیر اسے متنازعہ بنا دیا۔ ذرا اس ڈیم کی سکیم سمجھیے۔ کالام سے دریائے سوات نکلتا ہے جو سارا سال بہتا ہے۔ نوشہرہ پہنچ کر یہ افغانستان سے آنے والے دریائے کابل میں شامل ہو جاتا ہے، اٹک میں یہ دونوں دریا ، دریائے سندھ میں مل جاتے ہیں ۔ اٹک سے کالاباغ تک پانی کو ذخیرہ کرنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کالاباغ ایک قدرتی ڈیم ہے۔ یوں سمجھیے بنا بنایا ڈیم ہے۔ اسی لیے لاگت کم آئے گی اور محض چار سال کی مدت میں مکمل ہو سکتا ہے۔

اس کے فوائد دیکھیے۔ اس سے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی ۔ فی یونٹ بجلی کی قیمت تین روپیہ تک آ جائے گی ۔ اس ڈیم کے بھر جانے کی صورت میں کے پی کے کی 7 لاکھ ایکڑ اراضی اراضی سیراب ہو گی۔ سندھ کی تو دس لاکھ ایکڑ اراضی اس سے سیراب ہو سکے گی۔ کیا یہ معمولی فوائد ہیں؟

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ کچھ این جی اوز غلط اعداد وشمار سے اسے متنازعہ بنا دیتی ہیں اور کچھ قوم پرست سیاستدان اس کی مخالفت میں مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں یا یہ پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا ایک پہلو ہے؟

جس ڈیم سے آپ کا توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے اور آپ کی سترہ لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو سکتی ہے اس ڈیم کو سنجیدہ بحث کے بغیر ہی متنازعہ بنا دیا گیا ۔ ذرا ان اعتراضات کا جائزہ تو لیجیے۔کہتے ہیں نوشہرہ ڈوب جائے گا ۔ یہ جھوٹ اس شدت سے پھیلایا گیا ہے کہ کوئی دوسری بات سننے کو تیار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم نوشہرہ سے 110 کلومیٹر دور ہے اور نشیب میں ہے ۔ اگر یہ ڈیم بھر بھی جائے تب بھی نوشہرہ اس سے 60 فٹ اونچا ئی پر ہو گا۔ تو وہ ڈوب کیسے جائے گا؟

سندھ کی بھی سن لیجیے۔ سادہ اور نیم خواندہ عوام کو خوف دلایا گیا ہے کہ اگر ڈیم بن گیا تو سمندر میں گرنے والا پانی کم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں سمندر کا پانی آپ کے علاقے میں گھس آئے گا ۔ جس صوبے میں آج تک بھٹو زندہ ہے وہاں یہ کہانی گھڑ کر بیچ لینا اتنی مشکل بات بھی نہیں لیکن حقائق اس کے بر عکس ہیں ۔ حقائق یہ ہیں کہ ہمارا 90 فیصد پانی سمندر میں ضائع ہوتا ہے ، سمندر میں گرنے والا پانی اگر پچاس فیصد کم بھی ہو جائے تو یہ عالمی معیار کے مطابق ہو گا اور کالاباغ ڈیم نے سارا پانی تو نہیں روک لینا۔ سمندر میں ایک معقول حد تک تو پانی بھر بھی گرتا رہے گا۔ ویسے بھی سندھ اور کراچی سمندر سے7 میٹر اونچائی پر واقع ہیں ۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ سمندر کا پانی کراچی میں گھس آئے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کالاباغ ڈیم بننے سے سندھ کی دس لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو گی تو سندھ کا ہاری خو شحال ہو کر زندہ ہو سکتا ہے۔شاید یہ قبول نہیں ۔ شاید طے کر لیا گیا ہے کہ سندھ میں صرف بھٹو زندہ رہے گا کوئی غریب ہاری زندہ نہیں رہ سکتا۔

بعض قوتیں ٹھان چکی ہیں کہ پاکستان کو کالاباغ ڈیم بنانے سے روکنا ہے۔ یہ ڈیم پاکستان کو ایک روشن دور میں داخل کر سکتا ہے۔ چنانچہ اس کے خلاف ایک جذباتی ماحول بنا دیا ہے۔ دیا مر بھاشا ڈیم کو کالاباغ ڈیم کا متبادل بنا کر پیش کرنا بھی اسی مزاحمتی بیانیے کا ایک حصہ ہے ۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ دونوں میں کوئی تقابل ہی نہیں۔ کالاباغ ڈیم آپ کی سترہ لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرے گا اور دیامر بھاشا ڈیم سے تو ڈھنگ کی دو نہریں نہیں نکل سکتیں کیونکہ وہ پہاڑی علاقہ میں واقع ہے۔ نکل بھی آئیں تو کس کام کی؟جغرافیائی سمجھ بوجھ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

اوسط اور اس سے بھی کم درجے کے لوگ یہاں قائد محترم بنے بیٹھے ہیں اور ہر قائد محترم کی اولین کوشش صرف اقتدار کا حصول ہے۔ کسی میں نہ فکری صلاحیت ہے کہ دور رس اہمیت کے حامل سنجیدہ قومی منصوبوں پر غور و فکر کر سکے اور نہ ہی یہ بھاری پتھر اٹھانا کسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بس ایک ڈگڈگی ہے جو بجائی جا رہی ہے اور ہر مداری کے حصے کے بے وقوف اس ڈگڈگی پر محو رقص ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں